بیرون ملک رہنے والے کا کسی کو زکوٰۃ کا وکیل بنانا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دوسرے ملک میں رہنے والے آدمی کا پاکستان میں کسی کو زکوٰۃ کی ادائیگی کا وکیل بنانا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر کوئی شخص یورپ میں رہتا ہو ولیکن وہ ا پنے رشتہ داروں کو پاکستان میں زکوۃ دینا چاہے اور اس کے رشتہ داروں کا ایک بالغ بچہ شرعی فقیر ہو، یعنی اسے زکوۃ دی جاسکتی ہو، لیکن اس بچے کے نام پر بینک اکا ؤنٹ نہیں ہے، تو یہ یورپ میں بیٹھا شخص اس بچے کو کیسے زکوۃ دے سکتا ہے؟
جواب
یورپ میں مقیم شخص پاکستان میں مقیم شخص مثلا مستحق زکوۃ بالغ لڑکے کے والد وغیرہ کے بینک اکاؤنٹ میں زکوۃ کی رقم بھیج دے اور اسے اپنی زکوۃ کا وکیل بنادے کہ تم اپنے اکاؤنٹ سے رقم نکلوا کر فلاں اپنے مستحق زکوۃ بالغ لڑکے کو اس رقم کا مالک بنا دینا اور وکیل مؤکل کے کہنے کے مطابق اس مستحق زکوۃ بالغ لڑکے کو زکوۃ کی رقم کا مالک بنادے تو یوں اس لڑکے کو زکوۃ دی جاسکتی ہے بشرطیکہ زکوۃ دینے سے مانع کوئی اور چیز نہ ہو مثلا مستحق زکوۃ بالغ لڑکا زکوۃ دینے والے کے اصول و فروع میں سے نہ ہو اور سید و ہا شمی وغیرہ نہ ہو۔
بدائع الصنائع میں ہے
الزكاة عبادة عندنا و العبادة لاتتأدى إلا باختيار من عليه إما بمباشرته بنفسه، أو بأمره، أو إنابته غيره فيقوم النائب مقامه فيصير مؤديًا بيد النائب
ترجمہ: ہمارے نزدیک زکوۃ ایک عبادت ہے، اور عبادت جس پر فرض ہے اُس کے اختیار کے بغیر ادا نہیں ہو سکتی، یا وہ خود (براہِ راست) ادا کرے، یا کسی ا ور کو (ادائیگی کا) حکم دے، یا کسی کو اپنا نائب بنائے، تو وہ نائب اُس کے قائم مقام ہوجائے گا پس نائب کے ہاتھ سے وہ خود ادا کرنے والا کہلائے گا۔ (بدائع الصنائع، كتاب الزکاۃ، ج 2، ص 53، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
بہار شریعت میں ہے وکیل کو اختیار ہے کہ مالِ زکاۃ اپنے لڑکے یا بی بی کو دیدے جب کہ یہ فقیر ہوں اور اگر لڑکا نابالغ ہے تو اُسے دینے کے لیے خود اس وکیل کا فقیر ہونا بھی ضروری ہے، مگر اپنی اولاد یا بی بی کو اس وقت دے سکتا ہے، جب مؤکل نے اُن کے سوا کسی خاص شخص کو دینے کے لیے نہ کہہ دیا ہو ورنہ انھیں نہیں دے سکتا۔ (بہار شریعت، جلد 01، حصہ 5، صفحہ 888،مکتبۃ المدینہ)
فتاوی رضویہ میں ہے آدمی جن کی اولاد میں خود ہے یعنی ماں باپ، دادا دادی، نانا نانی یا جو اپنی اولاد میں ہیں یعنی بیٹا بیٹی، پوتا پوتی، نواسا نواسی اور شوہر و زوجہ ان رشتوں کے سوا اپنے جو عزیز قریب حاجتمند مصرف زکوۃ ہیں، اپنے مال کی زکوۃ انہیں دے جیسے بہن بھائی، بھتیجا، بھتیجی، ماموں، خالہ چچا، پھوپھی۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 264، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
فتاوٰی رضویہ میں ہے: زکوٰۃ ساداتِ کرام و سائرِ بنی ہاشم پر حرامِ قطعی ہے جس کی حرمت پر ہمارے ائمہ ثلٰثہ بلکہ ائمہ مذ اہبِ اربعہ رضی اﷲتعالٰی عنہم اجمعین کا اجماع قائم۔ (فتاوٰی رضویہ، ج 10، ص 99، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4705
تاریخ اجراء: 13رجب المرجب1447ھ / 03 جنوری2026ء