logo logo
AI Search

نفلی صدقہ دینے کے بعد اس میں زکوٰۃ کی نیت کرنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نفل صدقہ دینے کے بعد اس میں زکوٰۃ کی نیت کرنا کیسا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے بکر مستحقِ زکوٰۃ کو نفل صدقہ کی نیت سے کچھ رقم دی، پھر زید  نے حساب لگایا تو اُسے علم ہوا کہ ابھی اس کی کچھ زکوٰۃ باقی ہے۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا زید اُس دی گئی رقم پر زکوٰۃ کی نیت کرسکتا ہے؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں جب تک بکر مستحقِ زکوٰۃ کی ملکیت میں وہ رقم موجود ہے، اُس وقت تک زید اُس رقم پر زکوٰۃ کی نیت کرسکتا ہے۔

چنانچہ حاشیۃ الشلبی علی تبیین الحقائق، بنایہ شرح الھدایۃ، فتاوی ہندیہ وغیرہ کتبِ فقہیہ میں مذکور ہے:

 ”و النظم للاول“وفي الروضة دفع إلى فقير بلا نية ثم نواه عن الزكاة إن كان قائما في يد الفقير أجزأه وإلا فلا۔ “

یعنی "روضہ" میں مذکور ہے کہ کسی شخص نے فقیر کو زکوٰۃ کی نیت کے بغیر مال دیا، پھر بعد میں اُس مال پر زکوٰۃ کی نیت کی، تو اگر وہ مال فقیر کے پاس موجود ہو تو یہ نیت کفایت کر جائے گی، اگر وہ مال فقیر کے پاس موجود نہ رہا تو اُس کی یہ نیت کافی نہ ہوگی۔ (حاشیۃ الشلبی علی التبیین ، کتاب الزکاۃ،ج 01،ص 258،مطبوعہ ملتان)

درِ مختار میں ہے:

”(وشرط صحة أدائها نية مقارنة له) أي للأداء (ولو) كانت المقارنة (حكما) كما لو دفع بلا نية ثم نوى والمال قائم في يد الفقير ۔“

یعنی زکوٰۃ کی درست ادائیگی کے لیے ضروری ہے کہ ادائیگی کے وقت زکوٰۃ کی نیت پائی جائے اگر چہ کہ یہ مقارنت حکماً ہو، جیسا کہ کسی شخص نے بغیر زکوٰۃ کی نیت کے مال دیا پھر اُسی مال پر زکوٰۃ کی نیت کرلی، جبکہ وہ مال ابھی فقیر کے ہاتھ میں موجود ہو ۔

(والمال قائم في يد الفقير) کے تحت ردالمحتارمیں ہے :

”بخلاف ما إذا نوى بعد هلاكه بحر. وظاهره أن المراد بقيامه في يد الفقير بقاؤه في ملكه لا اليد الحقيقية، وأن النية تجزيه مادام في ملك الفقير، ولو بعد أيام۔“

 یعنی برخلاف اس کے کہ جب وہ مال ہلاک ہونے کے بعد اُس پر زکوٰۃ کی نیت کرے "بحر"۔ ظاہر یہی ہے کہ یہاں "بقیامہ فی يد الفقير" سے مراد اس مال کا فقیر کی ملکیت میں باقی رہنا ہے، نہ کہ اُس مال کا حقیقی طور پر فقیر کے ہاتھوں میں ہونا۔ یہ زکوٰۃ کی نیت اُسی وقت تک کافی ہوگی جب تک کہ وہ مال فقیر کی ملکیت میں ہو، اگرچہ زکوٰۃ دینے والا چند دن بعد زکوٰۃ کی نیت کرے۔ (رد المحتار مع الدر المختار، کتاب الزکاۃ، ج03،ص223-222، مطبوعہ کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے:”(زکوٰۃ) دیتے وقت نیّت نہیں کی تھی، بعد کو کی تو اگر وہ مال فقیر کے پاس موجود ہے یعنی اسکی ملک میں ہے تو یہ نیّت کافی ہے ورنہ نہیں ۔“ (بہارشریعت،ج01، حصہ 05، ص886، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب:ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی

فتوی نمبر:NOR-13760

تاریخ اجراء:22شوال المکرم1446ھ/21اپریل2025ء