logo logo
AI Search

علوی کو زکوۃ دینا جائز ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کیا علوی کو زکوۃ دے سکتے ہیں؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا علوی کو زکوۃ دے سکتے ہیں؟

جواب

علوی کو زکوۃ نہیں دے سکتے، تفصیل اس میں یہ ہے کہ:

مولا علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کی جو اولاد، سیدہ فاطمہ زہراء، رضی اللہ تعالی عنہا کے علاوہ، کسی اور سے ہے، وہ علوی کہلاتی ہے، اور مولا علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم قبیلۂ بنو ہاشم سے ہیں، اس لیے ان کی یہ اولاد بھی بلا شبہ ہاشمی ہے، اور یہ اصول مسلم ہے کہ ہاشمی کو زکوۃ نہیں لگتی، لہذا علوی کو زکوۃ نہیں دے سکتے۔

علوی حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی اولاد ہیں، جیسا کہ سیدی اعلی حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”امیر المومنین مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ کی اولاد امجاد اور بھی ہیں قریشی ہاشمی علوی ہونے سے ان کا دامان فضائل مالا مال ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 29، صفحہ 638، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں: ”مصرفِ زکوٰۃ ہر مسلمان حاجت مند جسے اپنے مملوک سے مقدارِ نصاب فارغ عن الحوائج الاصلیہ پر دسترس نہیں بشرطیکہ نہ ہاشمی ہو، نہ اپنا شوہر نہ اپنی عورت اگرچہ طلاقِ مغلظہ دے دی ہو جب تک عدت سے باہر نہ آئے، نہ وہ جو اپنی اولاد میں ہے جیسے: بیٹاب یٹی، پوتا پوتی، نواسا نواسی، نہ وہ جن کی اولاد میں یہ ہے جیسے: ماں باپ، دادا دادی، نانا نانی۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 246، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد آصف عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4737
تاریخ اجراء: 25 شعبان المعظم1447ھ/14 فروری 2026ء