بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ فی زمانہ سونے کی قیمت بہت زیادہ بڑھ چکی ہے۔ ایک تولہ سونے کی قیمت بھی ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت سے تجاوز کر چکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر زید کے پاس ساڑھے سات تولے سے کم صرف سونا ہی ہو، کسی قسم کا دوسرا مال زکوٰۃ یعنی چاندی، نقد رقم، پرائز بانڈز اور مال تجارت نہ ہو، اور اس سونے کی قیمت اتنی بڑھ جائے کہ اس سے ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس سے زیادہ بآسانی خریدی جا سکتی ہو، تو کیا اب زیدپر زکوٰۃ لازم ہوگی؟
پوچھی گئی صورت میں زید پر زکوٰۃ لازم نہیں ہوگی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر کسی کے پاس سونا ہو، لیکن اس کے ساتھ کوئی اور مال زکوٰۃ یعنی چاندی، نقد رقم، پرائز بانڈز اور مال تجارت نہ ہو، تو اب سونے کا نصاب اس کےوزن (ساڑھے سات تولے) کے حساب سے ہی شمار کیا جاتا ہے، قیمت کے اعتبار سے اس کا نصاب نہیں لیا جاتا۔ اگر سونا ساڑھے سات تولےہوگا، تو ہی زکوٰۃ لازم ہوگی۔ ساڑھے سات تولے سے کم پر زکوٰۃ لازم نہیں ہوگی۔ (بدائع الصنائع، 2/ 107- الدر المختار مع رد المحتار، 3/278 - بہار شریعت، 1 / 902 - وقار الفتاوی، 2 / 384)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی ابو محمد علی اصغر عطّاری مدنی
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضان مدینہ جنوری 2025ء