کیا نابالغ بچی کے سونے پر زکوٰۃ ہوگی؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نابالغ بچی کے سونے پر زکوۃ ہوگی یا نہیں؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
بیٹی کے لیے اسی کی رقم سے سات تولہ سونا خرید رہا ہوں، جب کہ بیٹی نابالغہ ہے، تو کیا اس سونے پر زکوۃ فرض ہو گی؟
جواب
نابالغہ پر زکوۃ فرض نہیں ہوتی، کہ زکوۃ کی فرضیت کے لیے بالغ ہونا شرط ہے، لہذا نابالغہ بچی کی رقم سے اسی کے لیے سونا خریدنے سے، اس سونے پر زکوۃ فرض نہیں ہو گی۔
فتاوی عالمگیری میں ہے
منھا العقل و البلوغ فلیس الزکاۃ علی الصبی
ترجمہ: زکوۃ کی شرائط میں سے عقل اور بلوغت بھی ہے، پس نابالغ بچے پر زکوۃ واجب نہیں ہوگی۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 1، صفحہ 172، مطبوعہ: کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے زکاۃ واجب ہونے کے لیے چند شرطیں ہیں:۔۔۔ (2) بلوغ۔۔۔ نابالغ پر زکوۃ واجب نہیں۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 875، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد ابوبکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4754
تاریخ اجراء: 02 رمضان المبارک1447ھ / 20 فروری2026ء