logo logo
AI Search

گندم کے بھوسے پرعشر لازم ہوگا یا نہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

گندم کے بھوسے پرعشر کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر گندم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ فالتو بھوسہ، جو گہائی کے بعد بچتا ہے، وہ بھی حاصل کرنے کی نیت ہو، تو کیا گندم کے دانوں کا عشر ادا کرنے کے بعد اس بھوسے کا بھی عشر ادا کرنا ہوگا؟

جواب

بھوسے کے لیے خاص طور پر زمین الگ سے چھوڑی نہیں جاتی، بلکہ زمین گندم کے لیے چھوڑی جاتی ہے، اور گندم ہی اصل مقصود ہوتی ہے، جو بھوسے سے بہت مہنگی ہوتی ہے، اور بھوسہ اس سے ضمنی طور پر حاصل ہوتا ہے، تو اب ایسی صورت میں اگرچہ کوئی بھوسہ بھی حاصل کرنے کی نیت کر لے، تو وہ ضمنی طور پر ہی حاصل ہوگا اور اس پر عشر لازم نہیں ہوگا۔ علامہ برہان الدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں:

”بخلاف السعف والتبن لأن المقصود الحب والتمر دونھا“

ترجمہ: کھجور کے پتوں اور بھوسے پر عشر نہیں ہے کیونکہ مقصود کھجوریں اور دانے ہوتے ہیں نہ کہ پتے اور بھوسہ۔ (الھدایۃ، کتاب الزکاة، جلد 1، صفحہ 108، مطبوعہ: بیروت)

تبیین الحقائق میں ہے

”أما الحطب والقصب والحشيش لا يقصد بها استغلال الأرض غالبا بل تنفى عنها“

ترجمہ: رہی بات لکڑی، سرکنڈے اور گھاس کی، تو عموماً ان کے ذریعے زمین کو باقاعدہ پیداوار کے لیے استعمال کرنا مقصود نہیں ہوتا، بلکہ یہ چیزیں زمین سے ہٹا دی جاتی ہیں۔ (تبیین الحقائق، جلد 2، صفحہ 103، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہارِ شریعت میں ہے ”جو چیزیں ایسی ہوں کہ ان کی پیداوار سے زمین کے منافع حاصل کرنا مقصود نہ ہو، ان میں عشر نہیں، جیسے ایندھن، گھاس، نرکل، سینٹھا، جھاؤ، کجھور کے پتے “ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 917، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4675
تاریخ اجراء: 06 شعبان المعظم 1447ھ/26 جنوری 2026 ء