زکوٰۃ سونے کے کس ریٹ سے ادا ہوگی؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ایڈوانس زکوٰۃ ادا کرنے کے بعد سونا مہنگا ہوگیا تو کیا حکم ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میرے پاس تقریباً چار تولہ سونا ہے۔ میں زکوٰۃ ایک ساتھ ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتی، اس لیے میں ہر مہینے تنخواہ میں سے پانچ ہزار روپے زکوٰۃ کی نیت سے نکالتی ہوں۔ پچھلے سال کی زکوٰۃ تقریباً تیس ہزار روپے بنتی تھی، جو میں نے پانچ پانچ ہزار کر کے ادا کر دی، اور یہ پوری رقم گزشتہ ماہ جنوری میں مکمل ہوئی۔ اب میرا سوال یہ ہے کہ پچھلے سال کی زکوٰۃ جو تیس ہزار روپے میں نے ادا کی، وہ اس وقت کے سونے کے ریٹ کے حساب سے کافی سمجھی جائے گی یا آج کے سونے کے ریٹ کے مطابق؟ کیونکہ آج کے ریٹ کے حساب سے چار تولہ سونے کی زکوٰۃ پچاس ہزار روپے سے زیادہ بنتی ہے۔ اس صورت میں مجھے کتنی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی، جبکہ میں ایک ساتھ پوری رقم ادا نہیں کر سکتی اور ہر مہینے پانچ پانچ ہزار ہی نکال سکتی ہوں؟
جواب
اولا یہ جان لیجئے کہ اگر کسی کے پاس اموالِ زکوٰۃ میں صرف سونا ہی ہو اور کچھ بھی نہ ہو تو اب زیورات پر زکوۃ واجب ہونے کیلئے زیورات کا وزن کے اعتبار سے ساڑھے سات تولہ ہونا ضروری ہے، لہذا جب تک اس کے پاس خاص سونے کا نصاب مکمل نہیں ہوگا یعنی پورے ساڑھے سات تولے سونا نہیں ہوگا، تو زکوٰۃ فرض نہیں ہوگی۔ البتہ اگر سونا ساڑھے سات تولےسے کم ہو مگر سونے کے ساتھ چاندی، مال تجارت، روپے پیسے، پرائز بانڈ وغیرہ میں سے کچھ بھی زائد از ضرورت موجود ہو اگرچہ سو پچاس روپے ہی ہوں، تو اس صورت میں فرضیتِ زکوۃ کا نصاب ساڑھے باون تولے چاندی کی مالیت ہوگا، اگر سونے اور دوسرے اموالِ زکوۃ کی کُل مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کو پہنچ جائے تو اب اُس پر زکوۃ فرض ہوگی اور عموما تھوڑی بہت اضافی رقم ہر شخص کے پاس ہوتی ہی ہے جسے ملا کر اوپر کے طریقہ کار کے مطابق ساڑھے تولے سے کم سونے پر بھی مشترکہ طور پر زکوٰۃ لازم ہوجاتی ہے۔ نیز سونے کی زکوۃ نکالتے ہوئے اُسی قیمت کا اعتبار کیا جاتا ہے جو اس کے قمری سال پورا ہونے کے وقت ہوتی ہے۔ لہذا پچھلے سال کی زکوۃ نکالنے میں اُسی گزشتہ سال کے اُس دن کے سونے کی قیمت کا اعتبار ہوگا، جس دن اس سونے پر قمری سال پورا ہوا ہو، ادائیگی کے وقت کے ریٹ کا اعتبار نہیں ہوگا۔
مزید یہ کہ صاحبِ نصاب کے مال پر جب سال مکمل ہوجائے، تو فوری طور پر مکمل زکوۃ ادا کرنا ضروری ہوتا ہے، سال مکمل ہوجانے کے بعد ادائیگی میں تاخیر کرنا، یا قسطوں میں ادا کرنا گناہ ہوتا ہے۔ اگر اتنی رقم نہ ہو کہ جس سے ایک ساتھ مکمل زکوۃ ادا کی جاسکے تو یا تو کسی سے قرض لے کر پوری واجب زکوٰۃ فوراً ادا کر دی جائے۔ یا پھر سونا یا کوئی اور مال بیچ کر اس سے ملنے والی رقم سے زکوٰۃ ادا کردی جائے۔ سال مکمل ہونے کے بعد تھوڑی تھوڑی زکوۃ ادا کرنے کی اجازت نہیں اور اب تک جو اس طرح ادا کی، اس سے توبہ بھی لازم ہے۔
تھوڑی تھوڑی مقدار میں زکوٰۃ ادا کرنی ہو تواس کا طریقہ یہ ہے کہ سال مکمل ہونے سے پہلے ہی دینا شروع کردیں مثلا یکم رمضان کو زکوٰۃ فرض ہونی ہے تو دس بارہ ماہ پہلے سے تھوڑی تھوڑی دیتے رہیں اور جب سال مکمل ہو تو جتنی رقم باقی ہو، تمام کی زکوۃ ادا کردیں۔ اب تاخیر نہ کریں۔
اگر صرف سونا ہو، تو زکوٰۃ اس وقت فرض ہو گی جبکہ وہ ساڑھے سات تولہ مکمل ہو، چنانچہ تحفۃ الفقہاء میں ہے:
اما الذھب المفرد أن یبلغ نصابا و ذلک عشرون مثقالا۔۔۔ و ان کان اقل من ذلک فلا زکاۃ فیہ
ترجمہ: صرف سونا ہو، تو اگر وہ نصاب کو پہنچے، تب اس میں زکوٰۃ فرض ہو گی اور وہ نصاب بیس مثقال (یعنی ساڑھے سات تولہ) سونا ہے اور اگر سونا اس سے کم ہو، تو اس میں زکوٰۃ فرض نہیں ہو گی۔ (تحفۃ الفقھاء، جلد 1، صفحہ 266، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
اگر سونا ساڑھے سات تولہ سے کم ہو اور اس کےساتھ مالِ زکوۃ میں سے کوئی بھی مال (مثلاً چاندی، روپے، مالِ تجارت، پرائز بانڈ وغیرہ) موجود ہو، تو وجوبِ زکوۃ کا نصاب ساڑھے باون تولے چاندی کی مالیت ہوگا، چنانچہ تبیین الحقائق میں ہے:
یضم الذھب الی الفضۃ بالقیمۃ فیکمل بہ النصاب لان الکل من جنس واحد
ترجمہ: سونے کو قیمت کے اعتبار سے چاندی کے ساتھ ملایا جائے گا تاکہ نصاب مکمل ہو جائے، کیونکہ یہ سب ایک ہی جنس سے ہیں۔ (تبیین الحقائق، جلد 1، صفحہ 281، مطبوعہ ملتان)
مفتئ اعظم پاکستان حضرت علامہ مفتی وقار الدین قادری علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: سونے کی مقدار ساڑھے سات تولے اور چاندی کی مقدار ساڑھے باون تولے ہے۔ جس کے پاس صرف سونا ہے، روپیہ پیسہ، چاندی اور مالِ تجارت بالکل نہیں، اس پر سوا سات تولے تک سونے میں زکوٰۃ فرض نہیں ہے، جب پورے ساڑھے سات تولہ ہو گا، تو زکوٰۃ فرض ہو گی،۔۔۔ لیکن اگر چاندی اور سونا دونوں یا سونے کے ساتھ روپیہ پیسہ، مالِ تجارت بھی ہے، اسی طرح صرف چاندی کے ساتھ روپیہ پیسہ اور مالِ تجارت بھی ہے، تو وزن کا اعتبار نہ ہو گا، اب قیمت کا اعتبار ہو گا، لہٰذا سونا چاندی ، نقد روپیہ اور مالِ تجارت سب کو ملا کر، اگر ان کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو جائے، تو اس پر زکوٰۃ فرض ہے۔ (وقار الفتاوی، جلد 2، صفحہ 384 تا 385، بزم وقار الدین، کراچی)
سونے پرقمری سال کے پورا ہوتے وقت کی قیمت کا اعتبار ہوگا، چنانچہ مراقی الفلاح میں ہے:
إن أدى من قيمته تعتبر قيمته يوم الوجوب و هو تمام الحول عند الإمام
ترجمہ: اگر زکوۃ کی ادائیگی قیمت سے ہو تو امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک زکوۃ واجب ہونے والے دن کی قیمت کا اعتبار کیا جائے گا اور وہ(قمری) سال پورا ہونے کا دن ہے۔ (مراقی الفلاح، کتاب الزکوۃ، صفحہ 363، مکتبۃ المدینہ)
تنویر الابصار مع در مختار میں ہے:
(و جاز دفع القيمة في زكاة) و تعتبر القيمة يوم الوجوب
ترجمہ: زکوۃ کی ادائیگی قیمت سے کرنا بھی جائز ہے اور زکوۃ واجب ہونے والے دن کی قیمت کا اعتبار کیا جائے گا۔ (تنویر الابصار مع در مختار، جلد 2، کتاب الزکوۃ، باب زکوۃ الغنم، صفحہ 250 - 251، مطبوعہ کوئٹہ)
سال پورا ہونے پر فوری طور پر مکمل زکوۃ ادا کرنا واجب ہےاور تاخیر گناہ ہے، چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان ر حمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: اگر سال گزر گیا اور زکوٰۃ واجب الادا ہوچکی تو اب تفریق و تدریج (یعنی تھوڑی تھوڑی ادائیگی) ممنوع ہوگی بلکہ فوراًتمام و کمال زر واجب الادا ادا کرے کہ مذہبِ صحیح و معتمد و مفتی پر ادائے زکوٰۃ کا وجوب فوری ہے جس میں تا خیر باعثِ گناہ۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 10، صفحہ 76، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1091
تاریخ اجراء: 17 شعبان المعظم1447ھ / 06 فروری 2026ء