تعمیر مسجد میں زکوۃ کی رقم دینا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مسجد کی تعمیر میں زکاۃ کی رقم دینے کاشرعی حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا مسجد کی تعمیر میں زکاۃ کی رقم دے سکتے ہیں؟
جواب
مسجد کی تعمیر میں زکاۃ کی رقم بغیر حیلہ کیے استعمال نہیں کر سکتے، اور اگر ایسا کیا تو زکاۃ بھی ادا نہیں ہو گی، اور اگر بوقت ضرورت، عاقل بالغ مستحق زکاۃ (یعنی فقیر شرعی کہ جس کے پاس قرض اور حاجت اصلیہ سے زائد ساڑھے باون تولے چاندی یا اس کی قیمت کے برابر مال موجود نہیں، اور وہ سید یا ہاشمی بھی نہیں، اور وہ اپنے اصول وفروع میں سے بھی نہیں، اور نہ یہ اس کے اصول و فروع میں سے ہے اورنہ ان کے درمیان میاں بیوی والا رشتہ ہے، اس) کو زکاۃ کی رقم دے کر اس کا مالک بنا دیا جائے، اور وہ فقیر شرعی اس رقم پر قبضہ کر کے، اپنی خوشی سے وہ رقم، مسجد یا مدرسہ کی تعمیر پر لگا دے، تو اس میں شرعا کوئی حرج نہیں ہے۔
زکوٰۃ شرعاً مال کے ایک معین حصے کا شرعی فقیر کو مالک بنانا ہے، چنانچہ تنویر الابصار میں ہے
”ھی تملیک جزء مال عینہ شارع من مسلم فقیر غیر ہاشمی ولا مولاہ مع قطع المنفعۃ عن الملک من کل وجہ للہ تعالی“
ترجمہ: اللہ عزوجل کی رضا کے لئے شارع کی طرف سے مقرر کردہ مال کے ایک جزء کا مسلمان فقیر کو مالک کر دینا، جبکہ وہ فقیر نہ ہاشمی ہو اور نہ ہی ہاشمی کا آزاد کردہ غلام، اور اپنا نفع اس سے بالکل جدا کر لیا جائے۔ (تنویر الابصار مع الدر المختار، جلد 3، صفحہ 203 تا 206، مطبوعہ: کوئٹہ)
امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فتاویٰ رضویہ میں فرماتے ہیں: ”زکوٰۃ کا رکن تملیکِ فقیر (یعنی فقیر کو مالک بنانا) ہے۔ جس کام میں فقیر کی تملیک نہ ہو، کیسا ہی کارِ حَسن ہو جیسے تعمیرِ مسجد یا تکفینِ میت یا تنخواہِ مدرسانِ علمِ دین، اس سے زکوٰۃ نہیں ادا ہو سکتی۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد 10، صفحہ 269، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4758
تاریخ اجراء: 27 شعبان المعظم1447ھ/16 فروری 2026ء