زکوٰۃ کی رقم سے بورنگ کروا سکتے ہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
زکوٰۃ کی رقم سے بورنگ کروانے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہماری برادری کے غریب لوگوں کا طبقہ ایک جگہ آباد ہے، جہاں کافی عرصے سے لائن کے پانی کا مسئلہ چل رہا ہے۔ ان غریب افراد کے لیے روزانہ اپنی ضرورت کے پانی کا انتظام کرنا بہت مشکل ہو رہا ہے۔ ہماری کمیونٹی کے پاس زکوٰۃ کی مد میں جمع کی ہوئی رقم موجود ہے۔
کیا کمیونٹی ایسے علاقے میں زکوٰۃ کی رقم سے پانی کی بورنگ کروا سکتی ہے؟ اگر اس کے لیے براہ راست زکوٰۃ کی رقم صرف نہیں کرسکتے، تو زکوٰۃ کی رقم کا شرعی حیلہ کر کے یہ کام کرواسکتے ہیں؟
جواب
زکوٰۃ کی ادائیگی میں تملیک یعنی مستحقِ زکوٰۃ کو مالک بنانا شرط ہے اور بورنگ کروانے میں مالِ زکوٰۃ کی تملیک نہیں پائی جاتی، لہذا بورنگ کروانے کے لیے زکوٰۃ کی رقم کا استعمال کرنا، جائز نہیں، اور بورنگ کروا دی، تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔
رہا پوچھی گئی صورت میں زکوٰۃ کی رقم کا شرعی حیلہ کرنا، تو اگر کمیونٹی وغیرہ کے اہلِ ثروت افراد کے ذریعے زکوٰۃ کے علاوہ صاف مال سے بورنگ وغیرہ کروا کر پانی کا انتظام کرنا، ممکن ہو، تو اس کام کے لیے زکوٰۃ کی رقم کا حیلہ کرنے کی ہرگز اجازت نہیں۔ ہاں اگر واقعی زکوٰۃ سے بورنگ کروانے کے علاوہ کوئی صورت ممکن نہ ہو اور پانی کی شدید قلت ہو، تو ایسی صورت میں زکوٰۃ کی رقم کا شرعی حیلہ کرنے کے بعد اسے اس کام کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔
شرعی حیلہ کا آسان طریقہ یہ ہےکہ پہلے کسی با اعتماد مستحقِ زکوۃ شرعی فقیر کو زکوٰۃ کی رقم کا مالک بنا دیا جائے، مثلاً: زکوٰۃ کی رقم اسے یہ کہہ کر دے دی جائے کہ یہ آپ کی مِلک ہے، اور وہ اس رقم پر قبضہ کرلے۔ یوں وہ اس رقم کا مالک ہوجائے گا۔ پھر وہ اپنی مرضی سے خود یا کسی دوسرے کو رقم دے کر بورنگ کروالے۔ اس سے زکوٰۃ دینے والے اور فقیر، دونوں کو بورنگ کے ذریعے مسلمانوں کی خدمت کا پورا پورا ثواب ملے گا۔
تبیین الحقائق میں ہے:
”لایجوز ان یبنی بالزکاۃ المسجد لان التملیک شرط فیھا، ولم یوجد، وکذا لایبنی بھا القناطر والسقایات“
ترجمہ: زکوٰۃ سے مسجد بنانا، جائز نہیں، اس لیے کہ زکوٰۃ میں تملیک شرط ہے، اور وہ یہاں نہیں پائی جارہی، اسی طرح اس سے پل اور پانی کی سبیلیں بھی نہیں بنوا سکتے۔ (تبیین الحقائق، ج 1، ص 300، مطبوعہ ملتان)
ہدایہ اور اس کی شرح بنایہ میں ہے:
”(ولا یبنی بھا مسجد ولا یکفن بھا میت لانعدام التملیک وھو الرکن) وکذا لاتبنی بھا القناطر والسقایات، ولا یحفر بھا الآبار۔۔۔ ونحو ذلک مما لایملک فیہ“
ترجمہ: زکوٰۃ سے مسجد نہیں بنا سکتے، نہ ہی اس سے میت کو کفن دے سکتے ہیں، تملیک نہ پائے جانے کی وجہ سے جو کہ رکن ہے۔ اور اسی طرح اس سے پل یا پانی کی سبیلیں نہیں بنوا سکتے، اور اس سے کنویں بھی نہیں کھدوا سکتے۔ اور اسی طرح ہر اس صورت کا حکم ہے جس میں تملیک نہیں پائی جاتی۔ (البنایہ شرح الھدایہ، ج 3، ص 462، مطبوعہ بیروت)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”(زکوٰۃ) دینے میں تملیک شرط ہے، جہاں یہ نہیں جیسے محتاجو ں کو بطور اباحت اپنے دستر خوان پر بٹھا کر کھلا دینا یا میت کے کفن دفن میں لگانا یا مسجد، کنواں، خانقاہ، مدرسہ، پُل، سرائے وغیرہ بنوانا، ان سے زکوٰۃ ادا نہ ہوگی، اگر ان میں صَرف کیا چاہے تو اس کے وہی حیلے ہیں جو مسئلہ رابعہ میں گزرے۔“ (فتاوی رضویہ، ج 10، ص 110، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاھور)
بلا ضرورت امور خیر کے لیے بھی زکوٰۃ کا حیلہ کرنے کی اجازت نہیں، چنانچہ امامِ اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”ہزاروں روپے فضول خواہش یا دنیوی آسائش یا ظاہری آرائش میں اٹھانے والے مصارف خیر میں ان حیلوں کی آڑ نہ لیں۔ متوسط الحال بھی ایسی ہی ضرورتوں کی غرض سے خالص خدا ہی کے کام (میں) صرف کر نے کے لیے ان طریقوں پر اقدام کریں۔‘‘ (فتاوی رضویہ، ج 10، ص 109، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
فتاوی امجدیہ کے حاشیہ میں مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”بضرورت حیلہ شرعیہ کرنے کے بعد زکوٰۃ صدقہ فطر کی رقوم مدارس میں صرف کرنے کی اجازت دی گئی ہے، اور یہ اپنی جگہ ثابت، جو حکم بضرورت ہوتا ہے، وہ قدر ضرورت سے متجاوز نہیں ہوتا ہے۔“ (فتاوی امجدیہ، ج 1، ص 372، مطبوعہ مکتبہ رضویہ، کراچی)
امور خیر میں ضرورتاً زکوٰۃ صرف کرنی ہو، تو اس کے حیلے کے طریقے سے متعلق مجمع الانھر میں ہے:
”ان ارید الصرف الی ھذہ الوجوہ صرف الی فقیر، ثم یامر بالصرف الیھا، فیثاب المزکی والفقیر“
ترجمہ: اگر ان امور (یعنی مسجد اور پل کی تعمیر وغیرہ) میں زکوٰۃ صرف کرنی ہو، تو پہلے زکوٰۃ کسی شرعی فقیر کو دے دی جائے، پھر اسے ان امور میں خرچ کرنے کا کہا جائے، تو اس سے زکوٰۃ ادا کرنے والے اور فقیر، دونوں کو ثواب ملے گا۔ (مجمع الانھر، ج1، ص222، مطبوعہ بیروت)
امامِ اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”اگر اس قسم کے معاملات میں اٹھانا چاہیں، تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ جو شخص شرعاً مصرف زکوٰۃ ہے اسے بہ نیت زکوٰۃ دے کر اس کا قبضہ کرادیں، پھر وہ اپنی طرف سے اپنے آپ، خواہ اسے دے کر، خریداری یتیم خانہ خواہ کسی دینی مقدمہ امورِ خیر میں لگا دے۔ (فتاوی رضویہ، ج 10، ص 263، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
دوسرے مقام پر امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”کسی مسلمان مصرف زکوٰۃ معتمد علیہ کو کہ اس کی بات سے نہ پھرے، مال زکوٰۃ سے کچھ روپے بہ نیت زکوٰۃ دے کر مالک کردے، پھر اس سے کہے تم اپنی طرف سے فلاں سید کی نذر کر دو، اس میں دونو ں مقصود حاصل ہو جائیں گے، کہ زکوٰۃ تو اس فقیر کو گئی اور یہ جو سید نے پایا نذرانہ تھا، اس کا فرض ادا ہوگیا اور خدمتِ سید کا کامل ثواب اسے اور فقیر، دونوں کو ملا۔‘‘ (فتاوی رضویہ، ج 10، ص 106، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Faj-8965
تاریخ اجراء: 09 ذوالحجۃ الحرام 1446ھ/06 جون 2025ء