وکیل کا زکوٰۃ کی رقم کسی اور غرض سے صدقہ کردینا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وکیل نے زکوۃ کی رقم کسی اور غرض سے صدقہ کر دی، تو اس کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میں نے زکوٰۃ کی کچھ رقم اپنی امی کو زکوٰۃ اداکرنے کے لیے دی تھی، لیکن انہوں نے وہ رقم، دادا دادی کے ایصالِ ثواب کے نام سے مستحق زکوۃ کو دے دی، تو کیا اس سے زکوٰۃ ادا ہو گئی، یا پھروہ نفلی صدقہ شمار ہوگا، جبکہ میری نیت زکوٰۃ کی تھی۔؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں جب وہ رقم مستحق زکوٰۃ کو پہنچ گئی، تو آپ کی زکوۃ ادا ہو گئی؛ کیونکہ آپ کی شرعی حیثیت مؤکل (وکیل بنانے والے) کی ہے، جبکہ والدہ کی شرعی حیثیت وکیل کی ہے، اور زکوۃ کی ادائیگی میں مؤکل کی نیت معتبر ہوتی ہے، نہ کہ وکیل کی، لہذا جب آپ نے والدہ کو زکوٰۃ کی نیت سے رقم دی تھی، تو آپ کی نیت کے مطابق زکوۃ ادا ہو چکی۔
البحر الرائق میں ہے
و اذا جازت النيابة في المالية مطلقا فالعبرة لنية الموكل لا لنية الوكيل و سواء نوى الموكل وقت الدفع الى الوكيل او وقت دفع الوكيل الى الفقراء او فيما بينهما
ترجمہ: اور جب عبادت مالیہ میں نیابت مطلقا جائز ہے تو مؤکل کی نیت کا اعتبار ہے وکیل کی نیت کا کوئی اعتبار نہیں، چاہے مؤکل نے وکیل کو دیتے وقت نیت کی ہو، یا وکیل کے فقراء کو دیتے وقت کی ہو، یا ان دونوں وقتوں کےدرمیان کسی وقت نیت کی ہو۔ (البحر الرائق، جلد 3، صفحہ 108، مطبوعہ: کوئٹہ)
مجمع الانھر میں ہے
فالعبرة لنية الموكل لا نية الوكيل
ترجمہ: پس اعتبار مؤکل کی نیت کا ہے، نہ کہ وکیل کی نیت کا۔ (مجمع الانھر، جلد 1، صفحہ 455، مطبوعہ: کوئٹہ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4800
تاریخ اجراء: 12 رمضان المبارک 1447ھ / 02 مارچ 2026ء