خالہ کو زکوٰۃ دینے کا حکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
خالہ کو زکوٰۃ دینا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میرا سوال یہ ہے کہ میری خالہ کی مالی حالت بہت کمزور ہے، کیا میں انہیں اپنی زکوٰۃ دے سکتا ہوں؟
جواب
اگر خالہ شرعی فقیر ہوں (یعنی ان کی ملکیت میں قرض اور حاجتِ اصلیہ کے علاوہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر مال و اسباب نہ ہو، اور وہ سید یا ہاشمی بھی نہ ہو) تو انہیں زکوۃ دے سکتے ہیں، بلکہ اس کو دینے میں اجنبی لوگوں کو دینے کے مقابلے میں زیادہ ثواب ہے، ایک صدقہ کا اور دوسرا صلہ رحمی کا۔
رشتہ داروں کو صدقہ دینے سے متعلق حدیث پاک میں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و اٰلہٖ و سلم نے ارشاد فرمایا: ”الصدقة على المسكين صدقة وهي على ذي الرحم ثنتان: صدقة و صلة“ ترجمہ: عام مسکین پر صدقہ کرنا ایک صدقہ ہے اور وہی صدقہ اپنے قرابت دار پر کرنا دو صدقے ہیں، ایک صدقہ دوسرا صلہ رحمی۔ (سنن الترمذی، صفحہ 268، حدیث: 658، دار ابن کثیر، دمشق)
اس حدیث پاک کی شرح میں مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: "پہلے مسکین سے مراد اجنبی مسکین ہے یعنی اجنبی مسکین کو خیرات دینے میں صرف خیرات کا ثواب ہے اور اپنے عزیز مسکین کو خیرات دینے میں خیرات کا بھی ثواب ہے اور صلہ رحمی کا بھی۔ صلہ رحمی یعنی اہلِ قرابت کا حق ادا کرنا بھی عبادت ہے، بہترین عبادت، پھر جس قدر رشتہ قوی اسی قدر اس کے ساتھ سلوک کرنا زیادہ ثواب ہے اس لیے رب تعالیٰ نے اہلِ قرابت کا ذکر پہلے فرمایا کہ ارشاد فرمایا: وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ ۔" (مراٰۃ المناجیح، جلد 3، صفحہ 122، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
در مختار میں ہے "(ولا) إلى (من بينهما ولاد)" ترجمہ: نہ ہی ایسے شخص کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے جن کے درمیان اولاد کا رشتہ ہو۔
مذکورہ بالا عبارت کے تحت ماموں کو زکوۃ دینے کے متعلق رد المحتار میں ہے "وقيد بالولاد لجوازه لبقية الأقارب كالإخوة والأعمام والأخوال الفقراء بل هم أولى؛ لأنه صلة وصدقة" ترجمہ: اولاد کی قید اس لیے لگائی گئی ہے کہ دوسرے فقیر رشتہ داروں، مثلاً بھائی، چچا اور ماموں کو زکاۃ دینا جائز ہے، بلکہ وہ زیادہ مستحق ہیں؛ کیونکہ ان کو زکاۃ دینے میں صلہ رحمی بھی ہے اور صدقہ بھی۔ (در مختار مع رد المحتار، جلد 3، صفحہ 344، مطبوعہ: کوئٹہ)
خالہ کو زکوۃ دینے کے متعلق بہار شریعت میں ہے ’’زکاۃ وغیرہ صدقات میں افضل یہ ہے کہ اوّلاً اپنے بھائیوں بہنوں کو دے پھر اُن کی اولاد کو پھر چچا اور پھوپیوں کو پھر ان کی اولاد کو پھر ماموں اور خالہ کو پھر اُن کی اولاد کو پھر ذوی الارحام یعنی رشتہ والوں کو پھر پڑوسیوں کو پھر اپنے پیشہ والوں کو پھر اپنے شہر یا گاؤں کے رہنے والوں کو، حدیث میں ہے کہ نبی صلی ا ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اے اُمتِ محمد (صلی ا ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم)! قسم ہے اُس کی جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا، ﷲ تعالیٰ اس شخص کے صدقہ کو قبول نہیں فرماتا، جس کے رشتہ دار اس کے سلوک کرنے کے محتاج ہوں اور یہ غیروں کو دے، قسم ہے اُس کی جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، ﷲ تعالیٰ اس کی طرف قیامت کے دن نظر نہ فرمائے گا۔‘‘ (بہار شریعت، ج 1، حصہ 5، ص 933، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5406
تاریخ اجراء:28 ربیع الاول 1448ھ/11 ستمبر 2026ء