logo logo
AI Search

کیا رینٹ کی گاڑی پر زکوٰۃ فرض ہوگی؟

کرائے پر چلنے والی گاڑیوں پر زکاۃ لازم ہوگی یا نہیں؟

مجیب:ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
فتوی نمبر:Nor-13302
تاریخ اجراء:02رمضان المبارک 1445 ھ/13 مارچ 2024ء

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے پاس چار لوڈر گاڑیاں ہیں اور چاروں کرائے پر چلتی ہیں۔ ان میں سے دو کی آمدن گھر کے ماہانہ اخراجات میں خرچ ہو جاتی ہے، جبکہ دو  لوڈرکی آمدن بچ جاتی ہے، اسے گھر کے بڑے اخراجات جیسے: علاج، شادی، غمی وغیرہ کے لئے بچا کر رکھتا ہوں۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ ان لوڈر گاڑیوں کی وجہ سے مجھ پر زکاۃ لازم ہوگی یا نہیں؟ 

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

پوچھی گئی صورت میں کرائے پر چلنے والی لوڈر گاڑیوں پر زکاۃ لازم نہیں اگرچہ ان کی قیمت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو۔ ہاں! اگر ان سے حاصل ہونے والی آمدن تنہا یا دوسرے قابلِ زکاۃ مال سے مل کر نصاب کو پہنچ جاتی ہے، تو زکاۃ کی دیگر شرائط پائے جانے کی صورت میں اس آمدن پر زکاۃ لازم ہوگی۔

درمختار میں ہے:

الاصل ان ما عدا الحجرین والسوائم انما یزکی بنیۃ التجارۃ

یعنی اصول یہ ہے کہ سونا چاندی اور سائمہ جانوروں کے علاوہ جو چیزیں ہوں ان کی زکاۃ اس وقت ادا کی جائے گی جب وہ تجارت کی نیت کے ساتھ  خریدی ہوں۔ (الدر المختار مع رد المحتار، جلد 3، صفحہ 230،  مطبوعہ:کوئٹہ)

مبسوط میں ہے:

لأن نصاب الزكاة المال النامي ومعنى النماء في هذه الأشياء لا يكون بدون نية التجارة

یعنی اس وجہ سے کہ زکاۃ کا نصاب مالِ نامی ہے اور ان اشیا میں نمو کا معنی نیتِ تجارت کے بغیر نہیں پایا جاتا۔ (المبسوط، جلد 2، صفحہ 198، مطبوعہ: بیروت)

مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: کرایہ پر اٹھانے کے لئے دیگیں ہوں، ان کی زکاۃ نہیں، یوہیں کرایہ کے مکان کی۔ (بہارِ شریعت، جلد1، صفحہ 908، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

فتاوی فقیہ ملت میں ہے: زکاۃ صرف تین چیزوں پر واجب ہوتی ہے، ثمن پرخواہ وہ خلقی ہو یعنی سونا، چاندی یا ثمنِ اصطلاحی یعنی روپیہ، پیسہ۔ مالِ تجارت اور چرائی کے جانور، ان کے علاوہ باقی کسی چیز پر زکاۃ نہیں ۔۔۔۔۔  کرایہ پر چلنے والے ٹرکوں اور بسوں کی قیمت مذکورہ چیزوں میں سے کوئی نہیں، لہٰذا زکاۃ صرف ان گاڑیوں کی آمدنی پر واجب ہے، قیمت پر نہیں۔ (فتاوی فقیہِ ملت، جلد1، صفحہ 306، شبیر برادرز، لاھور)

فتاوی اہلسنت میں ہے: کرایہ مالِ نصاب جتنا ہے یا دوسرے مال کے ساتھ مل کر نصاب جتنا ہو جائے، تو سال گزرنے کے بعد زکاۃ ہوگی: (فتاوی اہلسنت، کتاب الزکوٰۃ، صفحہ 133۔134، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم