logo logo
AI Search

اضافی بستروں اور برتنوں پر زکوۃ دینا ہوگی؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اضافی بستروں اور برتنوں پرزکوۃ کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

علمائے کرام و مفتیان عظام کی بارگاہ میں سوال عرض ہے کہ گھروں میں عموماً کچھ فالتو بستر (چادریں، رضائیاں، کمبل)  وغیرہ اور چارپائیاں پڑی ہوتی ہیں جن کا استعمال کبھی کبھار مہمانوں کی آمد پر ہوتا ہے، اسی طرح کچھ اضافی برتن بھی پڑے ہوتے جو کبھی کبھی خاص مہمانوں کی خاطر مدارت کے وقت ہی استعمال ہوتے ہیں، کچھ کچن سے متعلقہ الیکٹرونکس مشینیں بھی فالتو ہی رکھی ہوتی ہیں اور ان چیزوں کے علاوہ دلہن کا بیش قیمت "لہنگا" جو صرف ایک بار ہی استعمال ہوتا ہے اور پھر وہ بھی پڑا ہی رہتا ہے، گھر کے افراد کے فالتو کپڑے سلے ہوئے جو خاص مواقع پر استعمال کے لیے رکھے ہوتے ہیں، کچھ کپڑے بغیر سلے بھی رکھے ہوتے ہیں۔کیا ان سب مذکورہ چیزوں پر زکوۃ دینا ہوتی ہے؟

جواب

زکوۃ صرف سونا چاندی، چرائی کے جانوروں اور مالِ تجارت میں فرض ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی بھی سامان ہو اگرچہ کتنا ہی قیمتی ہو اور کبھی استعمال نہ ہوتا ہو اس پر زکوۃ فرض نہیں ہوگی۔ المحیط البرہانی میں ہے "مال الزکاۃ الأثمان و ھو الذھب والفضۃ وأشباھھا والسوائم وعروض التجارۃ" ترجمہ: زکوٰۃ کے مال (یہ) ہیں: اثمان یعنی سونا چاندی اور ان کی مثل (کوئی دوسری کرنسی)، اور چرائی کے جانور اور تجارت کا سامان۔ (المحیط البرھانی، کتاب الزکاۃ، جلد 2، صفحہ 20، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)

امام اہل سنت، امام احمد رضا خان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”زکوٰۃ صرف تین چیزوں پر ہے: سونا، چاندی کیسے ہی ہوں، پہننے کے ہوں یا برتنے کے، سکّہ ہو یا ورق۔ دوسرے چرائی پر چھوٹے جانور۔ تیسرے تجارت کا مال۔ باقی کسی چیز پر نہیں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 161، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5066
تاریخ اجراء: 09 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 25 مئی 2026ء