logo logo
AI Search

صاحب نصاب اور مال دونوں الگ الگ ملک ہوں تو زکوۃ کا حکم؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مال کسی اور جگہ، بندہ کسی اور جگہ ہو، تو زکوٰۃ کس حساب سے دینی ہوگی ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک اسلامی بہن کے سونے کے زیورات پاکستان میں ہیں، لیکن اس وقت وہ اپنے شوہر کے ساتھ آسٹریلیا میں رہتی ہیں۔ کبھی کبھار چھٹی کے موقع پر وہ پاکستان آتی ہیں۔ ان کا زیور اتنا ہے کہ اس پر زکوۃ لازم ہوتی ہے۔ چند دن بعد ان کی زکوۃ کا سال مکمل ہوجائے گا اور انہیں زکوۃ ادا کرنی ہوگی۔ اُس وقت بھی زیورات پاکستان میں ہوں گے، مگر وہ خود آسٹریلیا میں ہوں گی، تو وہ اپنی زکوٰۃ پاکستان کی قیمت کے مطابق ادا کریں گی یا آسٹریلیا کی قیمت کے مطابق ادا کریں گی؟

جواب

زکوٰۃ کی ادائیگی میں اس جگہ کا اعتبار کیا جاتا ہے، جس جگہ پر مال موجود ہوتا ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں وہ اسلامی بہن اپنے زیورات کی زکوٰۃ پاکستان کی قیمت کے مطابق ادا کرے گی۔

زکوٰۃ کی ادائیگی میں مال والی جگہ کا اعتبار ہوتا ہے۔ جیسا کہ بدائع الصنائع میں ہے:

زکاۃ المال فحیث المال فی الروایات کلھا

یعنی تمام روایات کے مطابق مال کی زکوٰۃ ادا کرنے میں مال والی جگہ کا اعتبار ہے۔ (بدائع الصنائع، جلد 2، صفحہ 75، بیروت)

اسی طرح درمختار میں ہے:

ويقوم في البلد الذي المال فيه

یعنی زکوٰۃ کی ادئیگی کے لیے مالک اس جگہ کی قیمت لگائے گا، جہاں پر مال موجود ہے۔ (الدرالمختار، جلد 3، صفحہ 251، کوئٹہ)

اس کی مثال دیتے ہوئے ردالمحتار میں ہے:

فلو بعث عبدا للتجارة في بلد آخر يقوم في البلد الذي فيه العبد

یعنی اگر کسی نے اپنا تجارتی غلام  دوسرے شہر بھیجا، تو اب اس غلام کی قیمت اس شہر کے مطابق لگائی جائے گی، جس میں غلام موجود ہے۔ (ردالمحتار، جلد 3، صفحہ 251، کوئٹہ)

جس جگہ مال ہو، وہاں کی قیمت کااعتبار کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ بہار شریعت میں ہے: قیمت اس جگہ کی ہونی چاہیے، جہاں مال ہے اور اگر مال جنگل میں ہو، تو اس کے قریب جو آبادی ہے، وہاں جو قیمت ہو، اس کااعتبار ہے۔ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 908، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی ابو محمد علی اصغر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Gul-3100
تاریخ اجراء: 14 رجب المرجب 1445 ھ/26 جنوری 2024ء