رقم دینے کے بعد زکوٰۃ کی نیت کرنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فقیر کو پیسے دینے کے بعد زکوۃ کی نیت کرنا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر کوئی عورت کچھ عرصہ پہلے ہی فقراء کو پیسے دے چکی ہو تو کیا اب وہ ان پیسوں میں زکوۃ کی نیت کر سکتی ہے جبکہ وہ پیسے ان لوگوں نے ابھی تک استعمال نہیں کئے اور ان لوگوں کو زکاۃ بھی لگتی ہے؟
جواب
صورت ِ مسئولہ میں اگر رقم ابھی زکوۃ کے مستحق افراد کے پاس موجود ہے، (یعنی جن کو دی تھی وہ شرعی فقیر تھے اور سید یا ہاشمی نہیں تھے اور رقم ابھی ان کے پاس ہی موجود ہے) تو اس میں زکوۃ کی نیت کی جاسکتی ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
وإذا دفع إلى الفقير بلا نية ثم نواه عن الزكاة فإن كان المال قائما في يد الفقير أجزأه، وإلا فلا كذا في معراج الدراية
ترجمہ: فقیر کو بغیر نیت زکوٰۃ دے دی، پھر دینے کے بعد زکوٰۃ کی نیت کی تو اگر مال فقیر کے پاس موجود ہو تو یہ نیت کفایت کر جائے گی اور اگر مال فقیر کے پاس موجود نہ رہا تو نیت کفایت نہیں کرے گی، جیسا کہ معراج الدرایہ میں ہے۔ (فتاوی ھندیۃ، کتاب الزکاۃ، ج 1، ص 171، دار الفکر، بیروت)
بہار شریعت میں ہے: (زکوٰۃ) دیتے وقت نیّت نہیں کی تھی، بعد کو کی تو اگر وہ مال فقیر کے پاس موجود ہے یعنی اسکی ملک میں ہے تو یہ نیّت کافی ہے ورنہ نہیں۔ (بہار شریعت، ج 1، حصہ 5، ص 886، مکتبۃ المدینہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-2568
تاریخ اجراء: 05 رمضان المبارک 1445 ھ/16 مارچ 2024 ء