logo logo
AI Search

قرض دیئے ہوئے پیسوں پر زکوۃ ہوگی؟

پھنسے ہوئے پیسے کی زکوۃ کا حکم

مجیب: ابو احمد محمد انس رضا عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-1579
تاریخ اجراء: 24رمضان المبارک1444 ھ/15اپریل2023 ء

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کسی اسلامی بھائی کا پیسہ پھنسا ہوا ہے کیا وہ اس کی زکوۃ نکالےگا؟ اگر نکالےگا تو کب نکالےگا؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

اگر مقروض پیسہ دینے سےانکار نہیں کرتا بلکہ اقرار کرتا ہے اور ٹال مٹول کرتا ہے یا نادار ہونےکی وجہ سے ادئیگی نہیں کر پا رہا یا منکر ہے مگر قرض خواہ کے پا س گواہ موجود ہیں تو قرض کی زکوۃ سال بسال واجب ہوتی رہے گی اور ادائیگی اس وقت واجب ہوگی جب نصاب کا پانچواں حصہ وصول ہوجائے اور اگر وہ قرض کئی سال رہا تووصولی کے بعد تمام سالوں کی زکوۃ لازم ہوگی اس لئے بہتر ہے کہ اپنے بقیہ مالوں کی زکوۃ دینےکےساتھ ساتھ قرض کی بھی زکوۃ دیتا رہے تاکہ بعد میں حساب کتاب کی دشواریاں نہ ہوں۔

اور اگر جس پر قرض ہے، وہ قرض سے انکار کرگیا اور اس کے پاس گواہ نہیں، اب اگر بعد میں قرض وصول بھی ہوجائے، تب بھی، جب تک ملا نہیں تھا، اس عرصے کی زکوۃ لازم نہیں ہوگی۔

بہار شریعت میں ہے: مدیُون نے دین سے انکار کر دیا اور اُس کے پاس گواہ نہیں پھر یہ اموال مل گئے، تو جب تک نہ ملے تھے، اُس زمانہ کی زکوۃ واجب نہیں۔ اگر دین ایسے پر ہے جو اس کا اقرار کرتا ہے مگر ادا میں دیر کرتا ہے یا نادار ہے یا قاضی کے یہاں اس کے مفلس ہونے کا حکم ہو چکا یا وہ منکر ہے، مگر اُس کے پاس گواہ موجود ہیں تو جب مال ملے گا، سالہائے گزشتہ کی بھی زکوۃ واجب ہے۔ (بہار شریعت، جلد1، حصہ 05، صفحہ877 ،876، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم