لائف انشورنس کی جمع شدہ رقم پر زکوٰۃ ہوگی؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
لائف انشورنس میں جمع کروائی گئی رقم پر زکوٰۃ کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ہم نے بیمہ پالیسی (لائف انشورنس) کروائی ہوئی ہے، جس کے لئے ہم ہر سال تقریبا پچاس ہزار جمع کرواتے ہیں۔ شرعی رہنمائی فرما دیجئے کہ بیمہ پالیسی کی رقم پر زکوۃ لازم ہوگی؟
جواب
بلا اجازتِ شرعی کسی بھی قسم کی انشورنس کروانا ناجائز و حرام ہے اور اگر کروائی ہو تو توبہ کے ساتھ ساتھ اس کو ختم کروانا بھی لازم ہے۔ جہاں تک آپ کا سوال ہے، تو آپ نے لائف انشورنس میں جو رقم جمع کروائی ہے، تو اس رقم کی حیثیت قرض کی ہے اور قرض پر زکوۃ کے حوالے سے حکم شرعی یہ ہے کہ وہ رقم تنہا یا دیگر اموالِ زکوٰۃ کے ساتھ مل کر ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر پہنچ جائے، تو شرائطِ زکوٰۃ کی موجودگی میں سال بہ سال اس رقم پر بھی زکوٰۃ لازم ہوتی رہتی ہے، پھر زکوٰۃ فرض ہونے کی صورت میں بہتر یہی ہوتا ہے کہ قرض میں دی ہوئی رقم کی زکوٰۃ بھی سال بہ سال ادا کر دی جائے، البتہ اگر قرض والی رقم کی زکوٰۃ ابھی ادا نہیں کرتے، تو اس کی بھی گنجائش موجود ہے، کیونکہ قرض دی ہوئی رقم کی زکوۃ کی ادائیگی اس وقت واجب ہوتی ہے، جب مقدارِ نصاب یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کا کم از کم پانچواں حصہ وصول ہو جائے، پانچواں حصہ وصول ہو جانے پر اس رقم کی گزشتہ تمام سالوں کی فی الفور زکوۃ ادا کرنا واجب ہے اور اگر پورا قرض ایک ساتھ وصول ہو جائے، تو تمام سالوں کی پوری زکوۃ ایک ساتھ فی الفور ادا کرنا واجب ہے، بلا عذر شرعی تاخیر کرنا گناہ ہے۔ لہذا بہتر یہی ہے کہ اس رقم کی بھی سال بہ سال زکوٰۃ ادا کر دی جائے، تاکہ اس کا الگ سے حساب نہ رکھنا پڑے۔
تنبیہ! آپ نے جتنی رقم بیمہ پالیسی میں جمع کروائی ہے اس اصل رقم پر شرائط پائے جانے کی صورت میں زکوۃ لازم ہے، لیکن اصل رقم پر ملنے والے زائد نفع پر زکوۃ لازم نہیں ہوگی، کیونکہ زکوۃ پاک رقم پر ہوتی ہے اور یہ نفع سود ہے، جسے واپس کرنا یا بغیر ثواب کی نیت کے شرعی فقراء پر صدقہ کرنا لازم ہے۔
فتاوی قاضی خان میں ہے
ففى الدين القوى تجب الزكاة اذا حال الحول و يتراخى الاداء الى ان يقبض اربعين درهما، و كلما قبض اربعين درهما يلزمه درهم
ترجمہ: دَینِ قوی میں سال گزرنے پر زکوٰۃ لازم ہوگی اور ادائیگیِ زکوٰۃ چالیس درہم وصول ہونے تک مؤخر ہو سکتی ہے۔ جب جب چالیس دراہم وصول ہوں گے ایک درہم کی ادائیگی بطور زکوٰۃ لازم ہوگی۔ (فتاوى قاضى خان، ج 1، ص 223، دار الکتب العلمیۃ، بيروت)
قرض پر زکوۃ سے متعلق فتاوی رضویہ میں ہے: قرض جسے عرف میں دست گردان کہتے ہیں، (اس میں )سال بسال زکوۃ واجب ہوتی رہے گی مگر اس کا ادا کرنا اسی وقت لازم ہوگا جبکہ اس کے قبضہ میں بقدر خمس آئے گا، ملخصا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 162، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
بہار شریعت میں ہے: دَین قوی کی زکاۃ بحالتِ دَین ہی سال بہ سال واجب ہوتی رہے گی، مگر واجب الادا اُس وقت ہے جب پانچواں حصہ نصاب کا وصول ہو جائے، مگر جتنا وصول ہوا اُتنے ہی کی واجب الادا ہے یعنی چالیس درم وصول ہونے سے ایک درم دینا واجب ہوگا اور اسّی ۸۰ وصول ہوئے تو دو، و علیٰ ہذا القیاس۔ (بہار شریعت، ج 1، حصہ 5، ص 906، مکتبۃ المدینہ)
فتاوی اہلسنت (احکام زکوٰۃ) میں ہے: جو رقم انشورنس میں جمع کروائی ہے، اس پر بھی زکوٰۃ لازم ہوگی کہ وہ آپ کی ملکیت ہے البتہ اس پر جو نفع ہوا، اس پر زکوٰۃ نہیں کہ زکوٰۃ پاک رقم پر ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ انشورنس کروانا اور سود پر رقم لینا، ناجائز و حرام کام ہیں اور شریعت ان کاموں سے منع کرتی ہے، لہٰذا جس شخص سے متعلق سوال ہے، اس پر لازم ہے کہ فوری طور پر ان دونوں کاموں سے چھٹکارا حاصل کرے اور اللہ تعالی کی بارگاہ میں سچی توبہ بھی کرے۔ (فتاوی اھلسنت (احکام زکوٰۃ)، صفحہ 273 ، مکتبۃ المدینۃ)
و اللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4853
تاریخ اجراء: 07 شوّال المکرم 1447ھ / 27 مارچ 2026ء