
بازار میں خرید و فروخت کے وقت یہ دعا پڑھی جائے
سوال: بازار میں خرید و فروخت کے وقت یہ دعا پڑھی جائے
چاندی کی مردانہ انگوٹھی کی مرمت (Repair)کا حکم
جواب: خرید و فروخت جائز ہے۔جبکہ چاندی کی ایسی مردانہ انگوٹھی، جو ساڑھے چار ماشے کے برابر یا اس سے زائد وزن کی ہو یا اس میں دو نگ لگے ہوں،اس کی ایسے شخص کے ...
پتوجڑی کی خرید و فروخت کا حکم؟
سوال: گائے کے پیٹ میں دو قسم کی اوجھڑی ہوتی ہے۔ ایک بڑی اور ایک اس کے ساتھ بٹوے (پرس) کی شکل میں چھوٹی ہوتی ہے۔ اس میں بھی پیٹ کی طرح گوبر اور غلاظت بھری ہوتی ہے، اس کو پتوجڑی کا نام دیا جاتا ہے۔اس کو اکثر لوگ اب بیچتے ہیں ، جو بیرون ملک ایکسپورٹ ہوتی ہے ۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان سے کاسمیٹک کا سامان بنتا ہے۔ اللہ بہتر جانے اس کا کیا ہوتا ہے،لیکن آنکھوں دیکھا حال ہے کہ اس کی مالیت کافی ہے،یعنی ایک پتوجڑی کی قیمت فی الوقت 1500روپے تک بھی گئی ہے۔اس پتوجڑی میں بڑے پیٹ کی بنسبت زیادہ نجاست پائی جاتی ہے، اس کا صاف کرنا بھی انتہائی مشکل امر ہے۔عرض یہ ہے کہ ایک مسلمان کے لیے اس کی خرید وفروخت کرناکیسا ہے؟نیز اس کی رقم کسی دینی کا م میں خرچ کرنایا کسی غریب کودے دینا کیساہے؟ یادرہےکہ ہمارے ہاں اکثر لوگ بیرون ممالک ایکسپورٹ کرنے کے لیےخریدتے ہیں،کھانے کےلیے بہت کم لوگ خریدتےہیں۔
سامان نقد خرید کر اُدھار بیچنا
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مُفْتِیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ زیدمیرے پاس آتا ہے اسے فریزر یا موٹر سائیکل لینی ہے وہ مجھ سے اس کیلئے قرض مانگتا ہے، میں زید سے کہتا ہوں کہ میں آپ کو مارکیٹ سے فریزر نقد لے کر دیتا ہوں، آپ کو جو قسطیں (Installments) اور نفع (Profit) مارکیٹ میں دینا ہے وہ مجھے دے دینا، وہ اس پر راضی ہو کر میرے ساتھ مارکیٹ جاتا ہے، میں اسے نقد میں فریزر یا موٹرسائیکل خرید کر دے دیتا ہوں، اس صورت میں شرعی حکم کیا ہوگا؟ اور جو قبضہ کرنے کا کہا جاتا ہے تو اس قبضہ کرنے سے کیا مراد ہے؟ کیا مجھے وہ موٹرسائیکل ایک دو دن کیلئے گھر لے جاکر پھر زید کو دینی ہوگی؟ یا یہ مراد ہے کہ مجھے اپنے ہی نام کی رسید بنانی چاہئے؟
رسید اپنے نام پر بنوانا قبضہ شمار ہوگا؟
سوال: زید میرے پاس آتا ہے اسے فریزر یا موٹر سائیکل لینی ہے ، وہ مجھ سے اس کے لئے قرض مانگتا ہے ۔ میں زید سے کہتا ہوں کہ میں آپ کو مارکیٹ سے فریزر نقد لے کر دیتا ہوں،آپ کو جو قسطیں (Installment) اور نفع (Profit) مارکیٹ میں دینا ہے وہ مجھے دے دینا، وہ اس پر راضی ہو کر میرے ساتھ مارکیٹ جاتا ہے، میں اسے نقد میں فریزر یا موٹرسائیکل خرید کر دے دیتا ہوں، اس صورت میں شرعی حکم کیاہوگا؟ اور جو قبضہ کرنے کا کہا جاتا ہے تو اس قبضہ کرنے سے کیا مراد ہے؟کیا مجھے وہ موٹرسائیکل ایک دو دن کیلئے گھر لے جا کر پھر زید کو دینی ہوگی؟یا یہ مراد ہے کہ مجھے اپنے ہی نام کی رسید بنانی چاہیے؟
خریداری کا وکیل اپنے لئے مال خریدے تو نئے قبضے کی صورت کیا ہوگی؟
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ زید نے بکر کو اس بات کا وکیل کیا کہ وہ اس کے لئے مطلوبہ مقدار میں دھاگا خرید ے ، بکر نے مقررہ مقدار میں دھاگہ خریدلیاابھی وہ دھاگا بکر کے قبضہ میں ہی ہے ، اگر بکر خریدا ہوا دھاگا زید سے خود اپنے لئے خریدنا چاہے تو کیایہ جائز ہے؟ اور اس خریداری کیلئے اسے جدید قبضے کی ضرورت ہوگی یا نہیں؟واضح رہے کہ زید بیرونِ ملک رہتا ہے اور بکر اس سے فون ہی پر معاملات طے کرتا ہے ۔
چلتے کاروبار میں فی پیس کے حساب سے نفع طے کرنے کا حکم اور اس کا متبادل جائز طریقہ
جواب: خرید کر اس پر قبضہ کرلے پھر اس سامان کو اپنا نفع (Profit) رکھ کر مثلاً ڈھائی لاکھ ریال کا زید کو ایک متعین مدت مثلا ً چھ ماہ کے لئے ادھار پر بیچ دے...
والد صاحب نے زمین بیچ کر رقم بیٹے کو دے دی، تو حج کس پر فرض ہوگا ؟
سوال: میرے والد محترم نے آج سے 5 سال قبل اپنی آبائی زمین کو بیچا جس کے عوض ان کے پاس تقریبا 50 لاکھ کی رقم آئی۔ انہوں نے وہ رقم مجھے اپنا گھر خریدنے کے لئے دے دی ،کیونکہ کہ ہم کرائےکے گھر میں رہتے تھے۔ چنانچہ میں نے اپنی کمپنی جس میں میں کام کرتا ہوں ان سے کچھ رقم قرض لے کر ان پیسوں میں ملا کر ایک گھر خرید لیا جس میں میرے والدین اور میں نے رہنا شروع کر دیا۔ میرا سوال یہ ہے کہ میرے والد نے جب زمین فروخت کی تو ان کے پاس اتنی رقم آئی کہ وہ حج کر سکتے تھے تو کیا ان پر حج کرنا فرض ہوا ۔ جب کہ انہوں نے وہ رقم ڈائریکٹ مجھے دے دی کہ میں ان پیسوں سے مکان خرید لوں اور کرایوں سے بچا جائے۔ تو اس کچھ عرصہ میں وہ رقم میری ملکیت میں رہی اور بعد میں اس رقم سے میں نے گھر خرید لیا جو کہ میرے نام پر ہے اور اس میں کچھ رقم بطورِ قرض میں نے اپنی کمپنی سے لی۔ تو کیا حج مجھ پر فرض ہوا یا میرے والد پر۔ اگر میرے والد پر ہوا تو اب وہ اس دنیا میں نہیں ہیں، تو کیا ان کی جگہ حج بدل ادا کرنا ہو گا اور وہ ادا ہو جائے گا۔اور اگرمجھ پر فرض ہوا تو ، میرے لئے کیا حکم ہے؟
خیار عیب کیا ہے؟ اس کی مدت کتنی ہے اور کس وجہ سے یہ ختم ہوجاتا ہے؟
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کےبارے میں کہ خرید و فروخت (بیع و شراء) کے معاملات میں "خیار" یعنی کسی چیز کو قبول کرنے یا رد کرنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔ اُن خیارات میں سے ”خیارِ عیب“ بھی ہے۔ اِس کی تعریف کیا ہے؟ اِس کی مدت کتنی ہوتی ہے؟ اور کن وجوہات یا اسباب کی بنیاد پر یہ خیار ختم یا ساقط ہو جاتا ہے؟ اور اس کی کوئی عملی مثال بھی ہو تو بہت مفید رہے گا۔