
غسل کے بعد جسم پر جمےہوئے میل کا علم ہوا، تو پہلے والے غسل و نمازوں کا حکم
سوال: بعض دفعہ بغل یا جسم کے کسی اور حصہ پر جسم کے میل کی تہ جمی ہوئی ہوتی ہے ، انسان کی توجہ نہیں جاتی ، اس کو ہٹائے بغیر ہی وہ فرض غسل کرلیتا ہے ،اس کے بعد نمازیں وغیرہ بھی ادا کرتا رہتا ہے ،بعد میں اس کو پتہ چلتا ہے کہ اس کے جسم پر فلاں جگہ غسل سے پہلے سے ہی میل جما ہوا ہے ، تو ایسی صورت میں اس کا پہلے کیا ہوا غسل ادا ہوا یا نہیں ؟ اس نے جو نمازیں پڑھیں ، وہ ادا ہوئیں یا نہیں ؟ نیز اب جب اس کو علم ہوگیا ہے ،تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
جواب: کسی عضو کو دھونے سے مراد یہ ہے کہ اس عضو پر کم از کم دو قطرے پانی بہہ جائیں۔ لہذا برف سے وضو صرف اسی صورت میں ہوگا جب اعضائے وضو پر کم از کم دو قطر...
اجنبی مرد و عورت کا مصافحہ کرنا کیسا؟
جواب: کسی کے سر میں لوہے کا سُوا (بڑی سوئی) چُبھو دیا جائے، یہ اِس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ نا محرم خاتون کو چھوئے۔(المعجم الکبیر للطبرانی، جلد20، صفحہ 211...
جواب: کسی پیشے والے کے لیے اس کے اوزار،اہل علم کے لیے ضروری کتابیں) نکال کر ساڑھے 52 تولے چاندی یااس کی رقم یااتنی مالیت کے برابر کسی چیز کا مالک نہ ہو۔ لہذ...
زکوۃ کی رقم سے مدرسہ کی زمین خریدنا
جواب: کسی عاقل بالغ شرعی فقیر کو مالک کر دیا جائے، اور وہ قبضہ کرنے کے بعد اپنی طرف سےوہ رقم مدرسے کی زمین کی خریداری میں دے دے تو جائز ہے۔ فتاوی عالمگ...
کیا ٹانگ ہلا کر منی خارج کرنا بھی مشت زنی کی طرح گناہ ہے ؟
جواب: کسی بھی طریقے مثلاً مشت زنی، لواطت ،زنا وغیرہ کے ذریعے اپنی شہوت پوری کرنا ، ناجائز و گناہ ہے جس کی شدید مذمت قرآن و حدیث میں بیان ہوئی ہے، لہذا بیان ...
چھوٹے بچے کا جنازہ ہاتھوں پر اٹھاکر قبرستان لے جانا کیسا؟
جواب: کسی نومولود یا دودھ پیتے بچے یا ان سے کچھ بڑی عمر والے کی نہ ہو،بلکہ کسی بڑے کی ہو ،توجنازہ اٹھانے میں سُنَّت یہ ہے کہ میت چار پائی پر ہو اور اس کو چا...
واٹر پروف جرابوں پر مسح کرنے کا حکم؟
سوال: واٹر پروف جرابیں بھی ملتی ہیں جوعام جرابوں کی طرح پہنی جاتی ہیں اور یہ چمڑے کی تو نہیں ہوتیں ،لیکن کافی موٹی ہوتی ہیں اوران کو کسی ایسےمیٹریل سے بنایا گیا ہے کہ اس میں پانی داخل نہیں ہوتا اور یہ اتنی مضبوط بھی ہوتی ہیں کہ تنہا ان کو پہن کر کئی میل سفر کیا جا سکتاہے۔ کیا ایسی جرابوں پر مسح کرنا، جائز ہے؟
مخصوص دعا پڑھنے سے قضائے عمری معاف ہونا
موضوع: کیا کسی خاص دعا سے قضائے عمری معاف ہوسکتی ہے؟
قبلہ کی طرف پاؤں کرنے کا حکم ؟ چند چیزوں سے اعتراض اور جواب
سوال: کعبہ شریف کی طرف پاؤں پھیلانے کا کیا حکم ہے؟ زید کا کہنا ہے کہ عام حالت میں اور بالخصوص سوتے وقت کعبہ شریف کی طرف پاؤں پھیلانا بلا کراہت جائز و درست ہے اور اس پر چند مسائل سے استدلال کیا ہے، جن کی تفصیل یہ ہے: (1) مریض قبلہ کی طرف پاؤں پھیلا کر نماز پڑھے گا۔ (2) نزع کے عالَم میں قبلہ کی طرف ٹانگیں پھیلانے کا حکم دیا گیا ہے۔ (3) غسلِ میت کے وقت بھی یہی حکم ہے اور پھر (4) جنازہ لے کر چلنےمیں بھی اگر میت کے پاؤں قبلہ کی جانب ہونے میں کچھ کلام نہیں۔ تو جب ان احکامات میں کعبہ کی طرف پاؤں پھیلانے کی تلقین ہے، تو معلوم ہوا یہ ایسی چیز نہیں جس کی شریعت میں ممانعت وارد ہو، لہٰذا کسی بھی حالت میں قبلہ کی طرف پاؤں کر سکتے ہیں، تو برائے کرم اس حوالے سے رہنمائی فرما دیجئے۔