
میل ورم (Mealworm) نامی کیڑوں کی خرید وفروخت کا حکم
سوال: آج کل بعض کاروبار کرنے والے افراد میل ورم (Mealworm) نامی کیڑے پالتے ہیں ، پھر جب کیڑے بڑے ہو جاتے ہیں ، تو انہیں بیچتے ہیں اور یہ کیڑے خاص قسم کی مرغیوں اور پرندوں کی غذا کے کام آتے ہیں ۔ ان کیڑوں کی خرید و فروخت کا شرعی حکم کیا ہے ؟
میل ورم ،لاروا کیڑوں کی خریدو فروخت کا حکم
سوال: ایک کیڑا ہوتا ہے جسےDarkling beetle کہا جاتا ہے۔ یہ کیڑا نمی سے گندم کے چوکر میں پیدا ہوتا ہے اور اسی میں انڈے دیتا ہے۔ اس کے انڈوں سے جن کیڑوں کی پیدائش ہوتی ہے ، انہیں Mealworm \ larva کہا جاتا ہے۔ Mealworms کو پرندوں اور مچھلیوں کی غذاء کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ جس طرح ان کا استعمال پرندوں کی غذا کے لئے ہے اسی طرح ان کا استعمال ان میں موجود وٹا منز کے باعث باڈی بلڈرز بھی کرتے ہیں تاکہ ان کی باڈی کی نشو ونما اچھی طرح ہوسکے۔ان Mealworms کا کاروبار نہایت ہی کم انویسٹ میں ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی سطح پر اس کا کاروبار ہمارے ملک کے ساتھ ساتھ انٹر نیشنل مارکیٹ میں ہورہا ہے۔پوچھنا یہ ہے کہ : 1:کیا Mealworms کی پرندوں اور مچھلیوں کی غذا کے طور پر تجارت جائز ہے ؟ 2: کیا ان کیڑوں کوباڈی بلڈرز کے ہاتھوں بیچنا جائز ہے ،جن کے بارے میں پتا ہو کہ یہ کھانے کے لے رہے ہیں؟
شرعی وزن سے زائد اور سونے کی مردانہ انگوٹھی بیچنے اور اس کی آمدن کا حکم ؟
سوال: کیافرماتےہیں علمائےدین ومفتیانِ شرعِ متین اس بارےمیں کہ (1)شرعی وزن سے زائد وزن کی چاندی کی مردانہ انگوٹھی اور سونے کی مردانہ انگوٹھی کی خرید و فروخت کرنا کیسا ہے؟ (2)اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کا کیا حکم ہے؟
چیز پر قبضہ کیے بغیر آگے بیچنا کیسا؟
سوال: (1)مارکیٹ میں خرید و فروخت کا ایک طریقہ یہ پایا جاتا ہے کہ کوئی گاہک دکان پر آ کر کسی چیز کو خریدنا چاہتا ہے اور دکاندار کے پاس وہ مال ابھی موجود نہیں ہوتا، تو وہ گاہک کو مال کا نمونہ (Sample)دکھا کر اسے مخصوص مقدار میں وہ مال بیچ دیتا ہے اور پھر کسی دوسرے دکاندار کہ جس کے پاس وہ چیز موجود ہوتی ہے، اُسے کہہ دیتا ہے کہ میرے فلاں گاہک کو وہ چیز اتنی مقدار میں دے دو اور جب گاہک وہ چیز لے لیتا ہے ،تو پہلا دکاندار اس چیز کا ریٹ وغیرہ معلوم کر کے دوسرے دکاندار کو رقم کی ادائیگی کر دیتا ہے، یعنی پہلا دکاندار چیز خریدنے سے پہلے ہی گاہک کو بیچ چکا ہوتا ہے، کیا یہ طریقہ شرعا درست ہے؟ (2)اور اگر اس طریقے سے چیز کو بیچ دیا جائے کہ پہلا دکاندار دوسرے سے کوئی چیز خرید لے اور اس کے بعد اپنے گاہک کو بیچے اور دوسرے دکاندار کو کہہ دے کہ میں نے آپ سے جو چیز خریدی ہے، وہ آگے بیچ دی ہے، لہذا آپ ڈائریکٹ میرے گاہک کو ہی وہ چیز ڈیلیور کر دیں، تو ایسا کرنا کیسا؟ (3)اگر یہ طریقے درست نہیں، تو کیا انداز اختیار کیا جا سکتا ہے، جو شرعاً درست ہو؟
شہد کی مکھیوں کی خرید و فروخت کرنا کیسا؟
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ شہد کی مکھیوں کی خرید و فروخت کرنا جائز ہے یا نہیں؟
سونے کے بدلے سونے کی خریداری کی لازمی احتیاطیں
سوال: ہمارا کام یہ ہے کہ ہم سونے کی چوڑیاں بناتے ہیں،جن میں فقط سونا ہی ہوتا ہے یعنی نگ موتی وغیرہ نہیں ہوتے اور دوکانداروں کو بیچتے ہیں۔ اس میں ہمارا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ ہم جب سونے کی چوڑیاں بیچتے ہیں تو اس کے بدلے سونا ہی لیتے ہیں ۔ مثال کے طور پراگر دس تولے کی سونے کی چوڑیاں ہم نے دوکاندار کو بیچیں تو اس کے بدلے میں اس کے ہم وزن دس تولہ خالص یعنی 24 کیرٹ کا سونا ہی لیتے ہیں ، اس کے ساتھ مزید کوئی رقم وغیرہ نہیں لیتے لیکن دوکاندار اس دس تولہ سونے میں سے ایک تولہ سونا نقد دیتا ہے اور بقیہ سونا ادھار کر لیتا ہے ۔ اس طرح عقد کرنا ، جائز ہے یا نہیں؟ہمیں اس میں فائدہ یوں ملتاہے کہ دوکاندارہم سے جو چوڑیاں خریدتا ہے وہ چوبیس کیرٹ(Karat)کی نہیں ہوتیں بلکہ بائیس کیرٹ یا اس سے کم کیرٹ کی ہوتیں ہیں۔ لیکن ان کے بدلے جو سونا ہم لیتے ہیں وہ چوبیس کیرٹ کا ہوتا ہے۔
ایکسپائر ادویات بیچنے کا شرعی حکم ؟
جواب: خریدتا ہے ،جبکہ دُکاندار اَدویات کے ایکسپائر ہونے کوبتائے بغیرفروخت کردیتاہے،تویہ دھوکاہے اوردھوکادینا حرام ہے، خواہ کسی کافر کو ہی دیا جائے۔ گاہک...
پرانے نوٹوں کے بدلے نئے نوٹ خریدنا کیسا؟
سوال: میں کرنسی کے لین دین کا کاروبار کرتا ہوں۔کاروبار کا طریقہ یہ ہے کہ نئے نوٹ خرید لیتا ہوں اور پھر پرانے نوٹوں کے بدلے زیادہ قیمت پر بیچ دیتا ہوں اور یہ خرید و فروخت ہاتھوں ہاتھ ہوتی ہے،اس میں ادھار نہیں ہوتا۔معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا یہ خرید وفروخت جائز ہے ؟یہ سود کے زمرے میں تو نہیں آتی ؟
اس شرط پر موبائل بیچنا کہ ایک ہفتے بعد واپس خرید لوں گا ، کیسا ہے؟
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارےمیں کہ میں موبائل کی خرید وفروخت کا کام کرتا ہوں۔ بعض اوقات کوئی کسٹمر آتا ہے اور مجبوری کی وجہ سے موبائل بیچتا ہے، لیکن وہ بیچنا نہیں چاہتا۔اس لیے وہ میرے ساتھ اس طرح کا معاہدہ کرتا ہے کہ آپ موبائل مجھ سے خرید کر ایک ہفتے کےلیے اپنے پاس رکھ لو۔ اگر میں ایک ہفتے تک واپس آگیا، تو کچھ اضافی رقم دے کر آپ سے موبائل واپس لے لوں گااور یہ اضافی رقم طے ہو جاتی ہے کہ دو ہزار یا تین ہزار اضافی رقم ہوگی اور اگر نہ آیا تو آپ کی مرضی، چاہے آپ موبائل بیچیں، یا خود استعمال کریں۔ اس کے بعد دونوں فریق اس معاہدے کے پابند ہوتے ہیں، اگر بالفرض مجھے کوئی دوسرا کسٹمر آ کر دس ہزار منافع کی بھی آفر کرتا ہے، تو میں وہ قبول نہیں کر سکتا ، بلکہ موبائل کےمالک کو ہی موبائل واپس کرنےکا پابند ہوتا ہوں اور اس سے نفع بھی وہی لوں گا جو ہمارا آپس میں طے ہو چکا ہو۔ مثال کے طور پر میں نے اس سے موبائل پچیس ہزار کا لیا ہو تو ہفتے بعد اس کو اٹھائیس ہزار کا بیچ دوں گا۔میرا سوال یہ ہے کہ اس طرح کی خرید وفروخت کرنا شرعی طور پر جائز ہے یا نہیں؟