logo logo
AI Search

عاشورا کے دن کام کرنے اور اس دن کی کمائی کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عاشورا کے دن کی کمائی کے متعلق حکم شرعی

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا عاشورا کے دن کی کمائی جائز نہیں ہے؟ بہت لوگ یہ کہتے ہیں کہ عاشورا کے دن کام نہیں کرنا چاہیے، اور اس دن کی کمائی حرام ہوتی ہے۔ اس کی وضاحت فرما دیجیے۔ میں ایک اسکول میں ٹیچر ہوں اور ہمیں عاشوراکے دن چھٹی نہیں ہوتی۔

جواب

شریعت مطہر ہ میں پورے سال میں عاشورا سمیت کسی بھی دن کام کرنے، کمانے سے منع نہیں کیا گیا، نہ اس کےحرام ہونے پر کوئی دلیل شرعی موجود ہے، جبکہ کسی چیز کو حرام و ممنوع قرار دینے کے لئے دلیل شرعی کا موجود ہونا ضروری ہوتا ہے، بلا دلیل شرعی خود سے کسی چیز کو حرام و ممنوع کہنا، دین پر افترا اور سخت ناجائز و حرام ہے۔ لہذا عاشورا کے دن اگر کوئی حلال ذریعہ معاش اپناکر کمائی کرتا ہے، تو شرعا اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ نیز جو لوگ اپنی اٹکل اور قیاس سے جائز و حلال کام کو حرام و ممنوع قرار دیتے ہیں، ایسے لوگوں پر لازم ہے کہ وہ اس گناہ سے توبہ کریں، اور آئندہ بغیر علم کے ہرگز کوئی شرعی مسئلہ بیان نہ کریں کیونکہ جاہل پر بے علم فتوی دینا سخت حرام ہے۔

چنانچہ اللہ تبارک و تعالی قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:﴿وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّ هٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ﴾ ترجمہ:اور نہ کہو اسے جو تمہاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھو۔ (پارہ 14، سورۃ النحل، آیت: 116)

اس آیت کے تحت تفسیر خزائن العرفان میں ہے "زمانۂ جاہلیت کے لوگ اپنی طرف سے بعض چیزوں کو حلال، بعض چیزوں کو حرام کر لیا کرتے تھے اور اس کی نسبت اللہ تعالٰی کی طرف کر دیا کرتے تھے، اس کی ممانعت فرمائی گئی اور اس کو اللہ پر افتراء فرمایا گیا۔ آج کل بھی جو لوگ اپنی طرف سے حلال چیزوں کو حرام بتا دیتے ہیں ۔۔۔جن کی حرمت شریعت میں وارد نہیں ہوئی۔ انہیں اس آیت کے حکم سے ڈرنا چاہیئے کہ ایسی چیزوں کی نسبت یہ کہہ دینا کہ یہ شرعاً حرام ہیں اللہ تعالٰی پر افتراء کرنا ہے ۔" (تفسیر خزائن العرفان، ص 522، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

امامِ اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: "جھوٹا مسئلہ بیان کرنا سخت شدید کبیرہ ہے اگر قصدًا ہے تو شریعت پر افتراء ہے اور شریعت پر افتراء ﷲ عزوجل پر افتراء ہے، اور ﷲ عزوجل فرماتا ہے:﴿اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ لَایُفْلِحُونَ﴾ وہ جو ﷲ پر جھوٹ افتراء کرتے ہیں فلاح نہ پائیں گے۔ اور اگر بے علمی سے ہے تو جاہل پر سخت حرام ہے کہ فتوٰی دے۔" (فتاوی رضویہ، ج 23، ص 711، 712، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا سرفراز عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5163
تاریخ اجراء: 13 محرم الحرام 1448ھ/29 جون 2026ء