اوجھڑی کھانا کیسا ؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حلال جانور کی اوجھڑی کھانے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ میں کہ اوجھڑی کا حکم تفصیل سے بیان کر دیں۔
جواب
حلال جانو رکی اوجھڑی کھانا، مکروہ تحریمی یعنی ناجائز و گناہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اوجھڑی گندگی و نجاست یعنی جانور کا گوبر جمع ہونے کی جگہ ہے۔ اور فطرت سلیمہ والا انسان ایسی چیز کو کھانے سے نفرت کرتا اور گھن محسوس کرتا ہے۔ لہذا یہ بھی خبیث، گندی اور گھن والی اشیاء میں سے ہیں۔ اور خبیث اشیاء کھانے سے ہماری شریعت نے منع کیا ہے۔ اللہ تعالی قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: ”﴿وَیُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓىٕثَ﴾‘‘ ترجمہ کنز الایمان: اور (یہ نبی ) گندی چیزیں اُن پر حرام کرے گا۔ (سورہ اعراف، آیت: 157)
حدیث پاک میں مثانے کومکروہ قرار دیا گیا۔ اور اس کی وجہ یہ بیان کی گئی کہ وہ پیشاب جیسی گندی چیز جمع ہونے کی جگہ ہے۔ جس علت اور وجہ کی بنیاد پر مثانے کو مکروہ او رخبیث قرار دیا گیا ہے وہی علت اور وجہ اوجھڑی بھی پائی جاتی ہے۔ کیونکہ یہ بھی گندگی و نجاست جمع ہونے کا محل ہیں۔ لہذا اوجھڑی بھی اسی علت کی بنیاد پر مکروہ قرار پائے گی۔
مثانے کی کراہت جس حدیث میں بیان ہوئی وہ یہ ہے: ”كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يكره من الشاة سبعا: المرارة والمثانة والمحياة والذكر والأنثيين والغدة والدم‘‘ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بکری کے سات حصے ناپسند فرماتے تھے: (1) پِتہ، (2) مثانہ، (3) فرج (مادہ جانور کی اگلی شرمگاہ)، (4) ذَکَر (نر جانور کی شرمگاہ)، (5) خصیے، (6) غدود (7) اور خون۔ (المعجم الاوسط، جلد 09، صفحه 181، الحديث 9480، دار الحرمين، القاهرة) (السنن الكبرى للبيهقي، جلد 10، صفحہ 13، حدیث: 19701، دار الكتب العلمية، بيروت)
اس حدیث میں بیان کردہ مکروہ چیزوں کی کراہت، کراہتِ تحریمی ہے اور ان کی وجہ ان کا خبیث ہونا ہے جیسا کہ در مختار میں ہے: ”(كره تحريما) وقيل تنزيها والأول أوجه (من الشاة سبع الحياء والخصية والغدة والمثانة والمرارة والدم المسفوح والذكر) للأثر الوارد في كراهة ذلك“ یعنی بکری میں سے سات چیزیں کھانا مکروہ تحریمی (ناجائز) ہے، اور بعض نے کہا کہ یہ مکروہ تنزیہی ہے، لیکن پہلا قول (تحریمی کراہت) زیادہ راجح (مضبوط) ہے۔۔ وہ سات چیزیں یہ ہیں۔ مادہ جانور کی شرمگاہ، خصیے، غدود، مثانہ، پتّہ، بہتا ہوا خون، اور نَر جانور کاعضو۔ ان سب کی کراہت وارد شدہ اثر (روایت) کی بنیاد پر ہے۔
علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں: ”قال أبو حنيفة: الدم حرام وأكره الستة، وذلك لقوله عز وجل - {حُرِّمَتْ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةُ وَ الدَّمُ} [المائدة: 3]- الآية فلما تناوله النص قطع بتحريمه وكره ما سواه، لأنه مما تستخبثه الأنفس، وتكرهه وهذا المعنى سبب الكراهية - لقوله تعالى - {وَیُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓىٕثَ} [الأعراف: 157]- زيلعي. وقال في البدائع آخر كتاب الذبائح: وما روي عن مجاهد فالمراد منه كراهة التحريم“
یعنی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا: خون تو حرام ہے اور باقی چھ چیزوں کو میں مکروہ سمجھتا ہوں۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "تم پر حرام ہے مُردار اور خون" (المائدہ: 3) — جب خون کے متعلق نص آگئی تو اس کا حرام ہونا قطعی ہے۔ اور باقی چیزوں کو مکروہ قرار دیتا ہوں کیونکہ یہ وہ اشیاء ہیں جنہیں طبیعتیں ناپسند کرتی ہیں اور ان سے گھن کھاتی ہیں۔ اور یہی بات کسی بھی چیز کے مکروہ ہونے کا سبب بنتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "اور (یہ نبی) گندی چیزیں اُن پر حرام کرے گا۔" (الاعراف: 157) — زیلعی۔اور صاحبِ بدائع نے کتاب الذبائح کے آخر میں فرمایا: اور جو روایت حضرت مجاہد سے منقول ہے (جس میں سات چیزوں کی کراہت کا بیان ہے )، اس سے مراد کراہتِ تحریمی ہے۔ (در مختار مع رد المحتار، جلد 6، ص 749، دارا لفکر، بیروت)
اوجھڑی، جانور کا معدہ ہے۔ اور معدے کے متعلق فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ معدہ ، نجاست (یعنی ناپاکی و گندگی) جمع ہونے کا مقام ہے چنانچہ علامہ کاسانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں: ”المعدة معدن الأنجاس“ ترجمہ: معدہ نجاستوں کا مقام ہے۔ (بدائع الصنائع، جلد 1، صفحہ 27، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
اوجھڑی اور مثانے کا مسئلہ ایک جیسا ہے اس کی وضاحت امام اہل سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اپنے ایک فتوے میں کی ہے۔ چنانچہ ان کا فتوی کچھ تسہیل کے ساتھ درج ذیل ہے:
”اہلِ علم پر مستتر (پوشیدہ) نہیں کہ استدلال بالفحوٰی (مفہوم سے دلیل لینا) یا اجرائے علتِ منصوصہ (شریعت میں بیان کردہ علت کو دوسری جگہ لاگو کرنا) خاصہ مجتہد (صرف مجتہد کا اختیار) نہیں، کما نصّ علیہ العلامۃ الطحطاوی تبعاً لمن تقدّمہ من الأعلام۔ اور یہاں خود امام مذہب (امام ابو حنیفہ) رضی اللہ تعالی عنہ نے اشیاءِ ستہ (حدیث میں بیان کردہ چھ مکروہ چیزوں) کی علتِ کراہت پر نص فرمائی (یعنی مکروہ ہونے کی وجہ خود یہ بیان فرمائی) کہ "خباثت" (گندگی و ناپسندیدگی) ہے۔
اب فقیر، متوکلاً علی اللہ تعالیٰ (اللہ تعالیٰ پر بھروسا کرتے ہوئے)، کوئی محل شک (شک کی جگہ) نہیں جانتا کہ۔۔۔کرش یعنی اوجھڑی، امعاء یعنی آنتیں بھی اس حکمِ کراہت میں داخل ہیں۔ بیشک۔۔۔ کرش (اوجھڑی) وا معاء (آنتیں) مثانہ سے اگر خباثت (گندگی) میں زائد (زیادہ) نہیں تو کسی طرح کم بھی نہیں۔۔۔۔ مثانہ اگر معدن بول (پیشاب ٹھہرنے کی جگہ) ہے، شکنبہ و رودہ مخزن فرث ہے (یعنی اوجھڑی اور آنتیں گوبر جمع ہونے کی جگہیں ہیں) اب چاہے اسے دلالۃ النص (نص کی دلالت/اشارہ) سمجھئے، خواہ اجرائے علتِ منصوصہ (شریعت کی بیان کردہ وجہ کو دوسری جگہ لاگو کرنا)۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 238-239، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
کیا اعلی حضرت علیہ الرحمۃ سے پہلے کسی نے اوجھڑی کی ممانعت کا فتوی نہیں دیا؟
بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ اوجھڑی کی ممانعت پر امام اہل سنت امام احمد رضا خان رحمہ اللہ سے پہلے کسی نے فتوی نہیں دیا۔ اور یہ کہہ کر وہ اوجھڑی کا جواز نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ بات بالکل غلط ہے۔ کیونکہ اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اوجھڑی کی ممانعت کا فتوی بلا بنیاد نہیں دیا بلکہ یہ شرعی دلائل یعنی قیاس و دلالۃ النص پر مبنی حکم ہے۔ اور علماء صدیوں سے ہر زمانے میں قیاس و دلالۃ النص کی بنیاد پر نئے مسائل کا حکم بیان کرتے آ رہے ہیں۔ کسی فقیہ کا بیان کردہ ایسا حکم محض اس وجہ سے رد نہیں کیا جا سکتا کہ اس سے قبل کسی نے وہ بیان نہیں کیا خصوصا جبکہ اس حکم کی علت بھی بالکل واضح ہو۔
یہ تو ایک اصولی بات ہے۔ علاوہ ازیں ہم یہاں یہ بھی واضح کرنا چاہتے ہیں کہ امام اہل سنت اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ یہ فتوی دینے میں متفرد (تنہا) نہیں ہیں۔ بلکہ آپ سے ما قبل مستند و معتمد حنفی فقہاء اوجھڑی کی ممانعت کا فتوی دے چکے ہیں۔ اور بالکل اسی بنیاد پر دے چکے ہیں جس بنیاد پر اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے فتوی دیا ہے کہ اوجھڑی نجاست و گندگی جمع ہونے کی جگہ ہے۔ بلکہ علماء نے یہ بھی لکھا ہے کہ اوجھڑی کو کسی نبی نے تناول نہیں فرمایا۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ اوجھڑی گندی چیزوں میں سے ہے۔ طیب و پاکیزہ چیزوں میں سے نہیں ہے۔
چنانچہ علامہ ہاشم ٹھٹھوی رحمہ اللہ (وفات: 1174ھ) اپنی کتاب فاکھۃ البستان میں لکھتے ہیں: ”ودر شکنبه دو روایت است، کذا فی الفتاوی البزازیة نقلاً عن الصلاة المسعودیۃ۔ وعبارة الصلاة المسعودیة فی المسألة الأخیرة هکذا: در شکنبه دو روایت است: در یک مکروه است، و در یک ني، اما کراهیت شکنبه بدان سبب است که وی محل نجاست است، و هیچ پیغمبری وی را نخوردہ. انتهی“ یعنی اوجھڑی کے بارے میں دو روایتیں ہیں، جیسا کہ فتاویٰ بزازیہ میں الصلاة المسعودیۃ سے نقل کرتے ہوئے یہی لکھا ہے۔ اور 'الصلاة المسعودیہ' کی اس مسئلہ میں عبارت یہ ہے: اوجھڑی کے متعلق دو روایتیں ہیں: ایک روایت میں اسے مکروہ (ناجائز) قرار دیا گیا ہے، اور ایک روایت کے مطابق یہ مکروہ نہیں۔ اور اوجھڑی کی کراہت کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ محلِ نجاست ہے، اور کسی نبی نے اسے نہیں کھایا۔ (فاكهة البستان، ص 174، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
یہاں اگرچہ اوجھڑی کے متعلق دو روایتیں بیان ہوئی ہیں لیکن کسی مسئلے کے متعلق دو روایتیں ذکر کر کے ایک کی علت بیان کرنا اس بات کی دلیل ہوتا ہے کہ وہی روایت راجح ہے۔ جیسا کہ علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ ایک مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں: عقوالدریہ میں ہے: ”وقد علل القول الثاني والتعليل دليل الترجيح.“ یعنی اس قولِ ثانی کی علت بیان کی گئی ہے، اور علت بیان کرنا ترجیح کی دلیل ہوتا ہے۔
کچھ آگے چل کے لکھتے ہیں: ”هو المرجح إذ هو المحلى بالتعليل“ وہی راجح (قول) ہے کیونکہ وہی تعلیل کے ساتھ مزین ہے۔(العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية، جلد 1، صفحہ 18، دار المعرفہ)
اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے بعد بھی بہت سے علماءنے اس کے ممنوع ہونے کا حکم بیان فرمایا ہے چنانچہ مفتی وقار الدین قادری رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”مثانہ اور پاخانہ کے عضو اس لئے مکروہ ہیں کہ ان سے نجاستوں کا گزر ہوتا ہے جبکہ اوجھڑی اور آنتوں میں نجاست کا اجتماع ہوتا ہے۔ لہذا اس کا حکم بھی یہی ہے کہ یہ مکروہ تحریمی ہے۔“ (وقار الفتاوی، جلد 01، صفحہ 268، بزم وقار الدین کراچی)
مفتی جلال الدین امجدی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”اوجھڑی کھانا مکروہ تحریمی ہے اور مکروہ تحریمی کا گناہ حرام کے مثل ہے۔“ (فتاوی فیض الرسول، جلد 2، صفحہ 433، شبیر برادرز، لاہور)
مزید لکھتے ہیں: ”حرام قطعی فرض کا مقابل ہوتا ہے اور مکروہ تحریمی واجب کا مقابل ہے۔ یعنی جس طرح واجب کا کرنا لازم و ضروری ہے اسی طرح مکروہ تحریمی سے بچنا لازم و ضروری ہے۔۔۔ اوجھڑی اور آنتوں کے کھانے کو طبعی یعنی مباح کہنے والا نرا جاہل ہے۔ اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ "مکروہ ہی تو ہے، حرام تو نہیں ہے" ان کے قدم گمراہی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ کچھ دنوں کے بعد سنت بلکہ وتر چھوڑ کر کہیں گے" واجب ہی تو ہے، فرض تو نہیں ہے۔" بلکہ اور ترقی کریں گے تو اوجھڑی اور آنتوں کے ساتھ لید گوبر کھائیں گے او رمنع کرنے پر کہیں گے "حرام ہی تو ہے کفر تو نہیں ہے، کھاتے ہیں تو کیا ہوا؟ کھانے کے باوجود بھی تو ہم مسلمان ہیں، کافر تو نہیں ہوئے" العیاذ باللہ تعالی“ (فتاوی فیض الرسول، جلد 2، صفحہ 432 و 433، شبیر برادرز، لاہور)
اس کے علاوہ بہت سے علماء کے فتاوی رسالہ ”اوجھڑی کا مسئلہ“ میں شائع ہو چکے ہیں۔
نوٹ: بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ حدیث میں بیان کردہ سات ممنوعہ چیزوں میں اوجھڑی کا ذکر نہیں ہے، اس لئے اس کا کھانا جائز ہے۔ حالانکہ یہ استدلال ہی غلط ہے۔ حدیث میں تو پھر دُبر (جانور کے پاخانے کا مقام) کا بھی ذکر نہیں ہے۔ تو کیا اس وجہ سے اس کا کھانا حلال ہو جائے گا؟ ہرگز نہیں۔ اصل بات یہ ہے سات کے علاوہ باقی چیزوں کے متعلق بھی اگر ممانعت کی دلیل ثابت ہوگی تو وہ چیز منع ہو جائے گی۔ اور حدیث میں یہ نہیں کہا گیا کہ ان سات کے علاوہ کوئی اور منع نہیں ہے۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: محمد ساجد عطاری
مصدق: مفتی ابو الحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: NRL-0274
تاریخ اجراء: 28 ذیقعدۃ الحرام 1446 ھ / 26 مئی 2025 ء