logo logo
AI Search

ترکی پرندہ کھانا حلال ہے یا حرام؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ترکی پرندہ کھانے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک پرندہ ہے جس کا نام ”ترکی پرندہ “(TURKEY BIRD) ہے، یہ ایک پالتو پرندہ ہے، اس کی شکل و صورت مرغ سے ملتی جلتی ہوتی ہے اور مرغ کی طرح ہی اس کی غذا دانہ پانی وغیرہ ہے، مردار و گندگی نہیں کھاتا، مگر عام مرغ سے کچھ بڑا ہوتا ہے اور شتر مرغ سے چھوٹا ہوتا ہے، میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا یہ حلال پرندہ ہے، اس کا گوشت کھا سکتے ہیں ؟۔

جواب

مذکورہ پرندہ جسےانگریزی میں  (TURKEY BIRD)اور عربی میں دیک رومي یا دجاجة رومیة کہتے ہیں، یہ مرغ کی ہی ایک قسم ہے (المورد، انجلیزي - عربي، ص 998) اور مرغ کی تمام اقسام شریعت میں حلال و جائز ہیں، کیونکہ پرندوں کی حلت کے بارے شریعت مطہرہ کا اصول یہ ہے کہ وہ پرندے جن میں دمِ مسفوح یعنی بہتا ہوا خون ہو، اور وہ پنجوں سے شکار کرنے والے اور مردار خور نہ ہوں، وہ حلال ہیں۔اور مرغ کی تمام اقسام بھی ایسی ہی ہیں کہ دم مسفوح والے پرندے ہیں جو شکاری و مردار خور نہیں، لہذا حلال ہیں ۔

صحیح مسلم، سنن ابی داؤد اور سنن نسائی شریف میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: ”نھٰی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن کل ذی ناب من السباع، وعن کل ذی مخلب من الطیر “ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ہر کیل والے درندے اور ہر پنجے والے پرندے (کو کھانے سے) منع فرمایا ہے۔ (صحیح مسلم، کتاب الصید والذبائح، باب تحریم، جلد 6، صفحہ 60، دار الطباعة العامرة، تركيا)

ذی مخلب سے مراد پنجے سے شکار کرنے والا ہے چنانچہ حضرت علامہ سید احمد طحطاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "ومن ذی مخلب ھو الذی یصطاد بمخلبہ وھو المراد بالاجماع" یعنی ذی مخلب سے مراد بالاجماع وہ ہے جو پنجے سے شکار کرتا ہو۔ (حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار، کتاب الذبائح، جلد 4، صفحہ 155، مطبوعہ، کوئٹہ)

فتاوی ہندیہ میں ہے: الحيوان في الأصل نوعان: نوع يعيش في البحر ونوع يعيش في البر، أما الذي يعيش في البحر فجميع ما في البحر من الحيوان يحرم أكله إلا السمك خاصة۔۔، وأما الذي يعيش في البر فأنواع ثلاثة: ليس له دم أصلا وما ليس له دم سائل وما له دم سائل، فما لا دم له۔۔۔لا يحل أكله إلا الجراد خاصة، وكذلك ما ليس له دم سائل۔۔۔ وما له دم سائل نوعان: مستأنس ومتوحش۔لایحل۔ذو المخلب من الطير کالعقاب وما أشبه ذلك وما لا مخلب له من الطير، والمستأنس منه كالدجاج والبط، والمتوحش كالحمام والفاختة۔۔ ونحوها حلال بالإجماع“

ترجمہ: حیوان کی دو قسمیں ہیں۔ (۱) پانی میں زندگی گزارنے والے (۲) خشکی میں زندگی گزارنے والے۔پانی میں زندگی گزارنے والے تمام جانور حرام ہیں سوائے مچھلی کے۔اور خشکی پر رہنے والے حیوان تین قسم کے ہیں (1) جن میں اصلا خون نہیں۔ (2) جن میں بہتا ہوا خون نہیں۔ (3) جن میں بہتا ہوا خون ہے۔ ان میں سے پہلی قسم جن میں اصلاً خون نہیں یہ تمام حرام ہیں سوائے ٹڈی کے، اور اسی طرح دوسری قسم جن میں خون بہنے والا نہیں یہ سب بھی حرام ہیں اور (تیسری قسم) جن میں بہتا ہوا خون ہے۔ ان کی دو قسمیں ہیں۔ (1) مانوس (پالتو) (2) وحشی۔ اور پرندوں میں سے جو اپنے پنجوں سے شکار کرتے ہیں وہ حرام ہیں جیسے عقاب، اور جو اس سے مشابہ ہیں اور وہ پرندے جن کے شکار کرنے والے پنجے نہیں ان میں سے پالتو جیسے مرغی، بطخ اور وحشی جیسے کبوتر، فاختہ اور ان کی مثل پرندے بالاجماع حلال ہیں۔ (ملخصا فتاوی ھندیہ، جلد 5، صفحہ 289، دارالفکر، بیروت)

حضرت علامہ مفتی ابو الخیر نور اللہ نعیمی بصیر پوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "قواعد و ضوابط شریعت غراء کی رو سے۔۔ایسا پرندہ جس میں بہنے والا خون ہو اس کی حرمت ان دو چیزوں سے ثابت ہوتی ہے، چنگل سے شکار کرنا یا مردار خور ہونا، فتاوی عالمگیری 75، جلد 4 ”مالہ دم سائل“ کے بیان میں ہے: وکل ذی مخلب من الطیر نیز اسی میں ہے وکل ذی مخلب من الطیر و ما اکل الجیف وبہ ناخذ ونحوہ فی الخانیۃ ص 752 ج 4 والدر المختار ورد المحتار للشامی، ص265، 266، ج 5، وتکملۃ البحر ج 8 ص 171، 172 ورمز الحقائق ص 346 وھو المفھوم من المتون الموضوعۃ لنقل المذاھب کالکنز وغیرہ، عنایہ شرح ہدایہ ج 8، ص 419 میں ہے: واصل ذلک ان کل ما یاکل الجیف فلحمہ نبت من الحرام فیکون خبیثا عادۃ بلکہ ائمہ ثلاثہ امام اعظم، امام شافعی، امام احمد علیھم الرحمہ کا مجمع علیہ مذہب یہی ہے۔۔۔طوطانہ چنگل سے شکار کرتا ہے اور نہ مردار خور ہے لہذا حلال ہے، عوام کا کہنا کہ پرندہ پنجہ سے کھانے والا حرام ہے محض غلط ہے، وہ بیچارے ذی مخلب کا معنی نہیں سمجھتے ذی مخلب کا معنی مخلب والا اور مخلب اس دھار دار ناخن کا نام ہے جس کے ساتھ جانور شکار کرتا ہے۔ صراح ص 28، منتہی الارب ج 1، ص 548، منتخب اللغات علی الغیاث ص 448، غیاث اللغات ص 458 میں ہے والنظم من الغیاث ”مخلب بکسرمیم وسکون خائے معجمہ وفتح لام وبائے موحدہ چنگال مرغ شکاری الخ“۔۔۔فتاوی عالمگیر ج 4، ص 75 والنظم للامام والطیر الذی لیس لہ مخلب کالدجاج والحمام الخ۔ پر ظاہر کہ مرغی، کبوتر وغیرہ کا پنجہ ضرور ہے مگر اس سے شکار نہیں کرتے لہذا ذی مخلب نہ ہوئے اور اگر عموم المجاز سے مخلب کا معنی پنجہ لیا جائے تب بھی مدعا ثابت کہ مشائخ کرام نے تفسیرات ِمذکورہ سے مقید فرمادیا اور ہدایہ ج 4، ص 373، کفایہ ج 8، ص 418، تکملۃ البحر ج 8، ص 171، رمز الحقائق ص 364۔۔میں ہے والنظم من الرمز: المراد بذی مخلب ھو سباع الطیر لاکل مالہ مخلب۔" (ملتقطا از فتاوی نوریہ، جلد 3، صفحہ 411 تا 413، دار العلوم حنفیہ فریدیہ، بصیر پور)

فتاوی نوریہ میں ہے: ”ایسے پرندے جن میں دم سائل ہو اور پنجے سے شکار کرنے والے یا موذی اور حرام خور ہوں جیسے باز، چیل، کوا وغیرہ سب کے سب حرام ہیں، باقی حلال۔“ (فتاوی نوریہ، جلد 3، صفحہ 381، دار العلوم حنفیہ فریدیہ، بصیر پور)

امام اہل سنت اعلی حضرت الشاہ احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "ہماری تمام کتب مذہب اور صحاح احادیث سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہم اجمعین میں صاف صریح حکم قطعی کل بلا استثناء وتخصیص موجود ہے کہ ہر پرندا پنے پنجہ سے شکار کرنے والے حرام ہے۔۔غرض یہ قاعدہ کلیہ شرعیہ ہے جس پر ائمہ حنفیہ کا اجماع ہے، اور اس سے ہر گز کوئی پنجے والا پرندہ کہ سباع طیر سے ہو مستثنٰی نہیں۔" (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 314: 315، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: ابو صدیق محمد ابوبکر عطاری
مصدق: مفتی ابو الحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: GRW-0415
تاریخ اجراء: 29 شعبان المعظم 1443ھ / 1 اپریل 2022ء