logo logo
AI Search

میت کے گھر کھانا کھانے کے متعلق دلائل کا جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

میت کے گھر سے کھانا کھانے کے متعلق دلائل کا تفصیلی جائزہ

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ذیل میں چند احادیث اور آثار و روایات ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ میت کے گھر والے اگر کھانے کی دعوت دیں تو ان کا دعوت کرنا بھی جائز ہے اور ان کی دعوت قبول کرتے ہوئے کھانا بھی منع نہیں ہے۔ بلکہ جائز ہے۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام علیہم الرضوان سے صراحتاً میت کے گھر سے کھانے اور کھلانے کا ثبوت ہے۔ روایات و آثار یہ ہیں:

  • الحاوی للفتاوی میں ہے کہ ”صحابہ سات دن تک میت کی طرف سے کھلاتے تھے۔“

تو اس سے بعض لوگوں کا استدلال اس طرح ہے کہ مولوی تو پہلے دن کا کھانا منع کرتے ہیں جبکہ صحابہ تو سات دن کھانا کھلایا کرتے تھے۔

  • دوسری یہ روایت بخاری میں ہے: ”جب کسی گھر میں فوتگی ہوئی تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے تلبینہ تیار کروایا۔ جب عام خواتین چلی گئیں اور میت کے گھر والے کچھ خاص لوگ رہ گئے تو ان کو تلبینہ کھلایا۔“ (بخاری، کتاب الاطعمہ، باب التلبینہ)

بعض لوگوں کا استدلال یہ تھا کہ اگر میت کے گھر سے کھانا منع ہوتا تو سیدہ یہ کام کبھی نہ کرتیں۔ لہذا میت کے گھر سے کھانا بالکل جائز ہے۔

  • تیسری روایت یہ ہے کہ ”حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا جب انتقال ہونے لگا تو انہوں نے اپنے گھر والوں کو وصیت کی کہ ایک قافلے والے پہنچنے والے ہیں۔ وہ مجھے غسل بھی دیں گے اور میرا جنازہ بھی پڑھیں گے۔ تم میرے جنازے کے بعد انہیں کھانا کھلا دینا۔“ (شمع رسالت کے تیس پروانے مص 106، طالب ہاشمی) (البدایہ والنہایہ (اردو)، ج 7، ص 326)

اس سے بھی بعض لوگوں نے یوں استدلال کیا ہے کہ اگر میت کے گھر سے پہلے دن کا کھانا، کھانا منع ہوتا تو صحابی رسول کبھی بھی گھر والوں کو قافلے کو کھانا کھلانے کی وصیت نہ کرتے۔

نوٹ: اس کھانے کو کھانے والوں میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے قارئ قرآن اور امت کے مفتی بھی شامل تھے۔ جب حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے اس امت کے اتنے بڑے مفتی کھانا کھا سکتے ہیں تو آج کے مفتی کیوں اس سے روکتے ہیں؟

  • چوتھی دلیل یہ ہے کہ چوتھے پارے میں سورہ نساء میں ہے: ”جب تم میراث تقسیم کرو تو اس میں یتیموں اور مسکینوں کو کھانا کھلاؤ“

اس پر عمل کرتے ہوئے ایک صحابی نے مال وراثت سے بکری ذبح کی اور سب کو کھلائی۔

تو پتہ چلا میت کے گھر اور مال سے کھانا کھلایا جا سکتا ہے۔

  • پانچویں دلیل جو غالبا مشکوۃ میں ہے کہ ”ایک گھر میں فوتگی ہوئی۔ اس عورت نے نبی علیہ السلام کو گھر کھانے کے لئے بلایا۔ نبی علیہ السلام اپنے چند صحابہ کے ساتھ اس گھر میں تشریف لے گئے۔ جب منہ میں لقمہ لیا تو فرمایا: کہ یہ وہ بکری ہے جو مالک کی اجازت کے بغیر ذبح کی گئی ہے۔ “

اس سے بھی بعض لوگوں نے استدلال کیا کہ اگر میت کے گھر دعوت منع ہوتی تو صحابیہ کبھی آپ کو دعوت نہ دیتیں اور اگر میت کے گھر کھانا منع ہوتا تو نبی علیہ الصلوۃ والسلام صحابہ کرام علیہم الرضوان کے ساتھ کبھی بھی کھانا کھانے تشریف نہ لے جاتے۔

نوٹ: اس پر دعوت اسلامی کی شائع کردہ کتاب نورالایضاح، ص 455 میں اس کے ضمن میں اعلی حضرت کا جو کلام نقل کیا گیا ہے اس کی بھی وضاحت کر دیجئے۔

ان احادیث اور ان سے استدلالات کی روشنی میں آپ کی بارگاہ میں عرض ہے کہ ان احادیث میں صراحتا یہ بات ثابت ہو رہی ہے کہ میت کے گھر کھانے کی دعوت کرنا، دعوت قبول کرتے ہوئے کھانا، کھانا جائز ہے۔

جبکہ دوسری طرف حدیث ابن ماجہ ہے کہ "عن جرير بن عبد اللہ البجلي، ‏‏‏‏‏‏قال: ”كنا نرى الاجتماع إلى اهل الميت وصنعة الطعام من النياحة“ ترجمہ: جریر بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم یعنی صحابہ کرام میت کے گھر والوں کے پاس جمع ہونے اور ان کے لیے ان کے گھر کھانا تیار کرنے کو نوحہ سمجھتے تھے۔ (ابن ماجہ، باب ماجاء فی النھی عن الاجتماع الی اھل المیت و صنعۃ الطعام، ج 1، ص 502)

اس روایت میں صحابہ کرام علیہم الرضوان کا طرز عمل یہ ثابت ہوا کہ وہ ان میت والے کھانوں کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ سوال یہ ہے کہ اس روایات اور جواز والی روایات میں تطبیق کیا ہوگی؟ کون سی ناسخ اور کون سی منسوخ ہوگی؟ یا دونوں طرح کی روایات کا محمل علیحدہ علیحدہ ہے؟

جواب

احناف کے نزدیک کسی کے ہاں میت ہونے کی صورت میں آئے ہوئے لوگوں کو بطور دعوت کھانا کھلانا جائز نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک بری بدعت ہے۔ البتہ میت کے گھر والوں کے لئے کھانا بنا کر انہیں کھلانا جائز و مستحب ہے۔ یونہی میت کے ایصال ثواب کے لئے فقرا و مساکین کے لئے کھانے کا اہتمام کرنا بھی ایک جائز و مستحب عمل ہے۔ سوال میں ذکر کردہ دلائل میں سے کسی بھی دلیل سے صراحتاً یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کسی گھر میں میت ہونے کی صورت میں بطور دعوت کھانا جائز ہے۔ بلکہ ان میں سے پہلی دلیل سے ایصال ثواب کے طور پر سات دن تک کھانا کھلانا ثابت ہو رہا ہے جو کہ جائز امر ہے۔ دوسری دلیل میں میت کے گھر والوں اور خاص مہمانوں کو کھانا کھلانا ثابت ہو رہا ہے نہ کہ ہر کسی کو بطور دعوت کھانا کھلانا۔ تیسری دلیل میں حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجہ کے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ کو کھانا کھلانے کے متعلق لکھی ہوئی بات ذکر کردہ کتاب میں موجود ہی نہیں۔ چوتھی دلیل میں لکھی ہوئی روایت سے بھی یہی ثابت ہو رہا ہے کہ مال وراثت سے کھانا کھلایا تھا۔ یہ نہیں لکھا کہ میت ہوتے ہی تین دن کے اندر اندر دعوت دے کر کھلایا تھا۔ پانچویں دلیل سے بھی میت ہونے کی صورت میں دعوت دے کر کھانا کھانا ثابت نہیں ہو رہا۔ بلکہ اس میں کھانا کھلانے کے دیگر بہت سے احتمالات ہیں (جو کہ آخر میں بیان کئے ہیں)۔ اس لئے اذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال کے قاعدے کے تحت وہ جواز کی دلیل نہیں بن سکتی۔ نیز اس کے مقابلے میں ممانعت والی قولی حدیث کو فعلی پر اصولا بھی ترجیح حاصل ہے اور ممانعت والی حدیث اس حدیث سے اس وجہ سے بھی راجح ہے کہ علما نے اسے قبول کیا ہے اور ممانعت کو بطور مذہب کے لیا ہے۔

جواب کے دلائل:

ایامِ موت میں میت کی طرف سے بطورِ دعوت کھانا بنانا، ممنوع و ناجائز و بدعتِ قبیحہ ہے۔ چنانچہ حضرتِ سیدنا جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’کنا نعد الاجتماع الی اھل المیت و صنعۃ الطعام من النیاحۃ‘‘ ترجمہ: ہم (گروہِ صحابہ کرام علیہم الرضوان) اہلِ میت کے ہاں جمع ہونے اور اُن کے کھانا تیار کروانے کو میت پر نوحہ کرنا شمار کرتے تھے (اور نوحہ کرنا شرعاً جائز نہیں ہے)۔ (سنن ابن ماجہ، ص 117، مطبوعہ کراچی)

نیز سنن ابی داؤد میں ہے: ”عن أنس، قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: «لا عقر في الإسلام»“ ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں کوئی عقر نہیں ہے۔ (سنن أبي داود، ج 3، ص 216، حدیث نمبر: 3222، المکتبۃ العصریہ، بیروت)

عقر سے مراد یہ ہے کہ کسی کے مرنے پر جانور ذبح کرنا جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں جب کوئی مرتا تو اس کے مرنے پر بکریاں و اونٹ ذبح کئے جاتے جسے اسلام میں منع کر دیا گیا۔ چنانچہ احمد بن محمد بن اسماعیل طحطاوی لکھتے ہیں: ’’ھذا نفی لعادۃ الجاہلیۃ وتحذیر منھا فانھم کانوا ینحرون الابل علی قبور الموتی ویقولون انہ کان یعقرھا للاضیاف فی حیاتہ فیکافأ بذلک بعدموتہ‘‘ ترجمہ: اس حدیث میں زمانہ جاہلیت کے لوگوں کی عادت کی نفی کی جارہی ہے او راس کام سے دور رہنے کی تعلیم دی جارہی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ اپنے مردوں کی قبور پر اونٹ ذبح کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ بندہ اپنی زندگی میں ان کے ذریعے لوگوں کی ضیافت کرتا تھا اور اس کی موت کے بعد اب ہمارا ذبح کرنا اس کی طرف سے ضیافت ہوگا۔ (حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح، کتاب الصلوۃ، ص 618، مطبوعہ کراچی) 

یہی مضمون تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، ج 1، ص 246 پر بھی موجود ہے۔

رد المحتار سمیت فقہ کی متداول کتب میں موجود ہے: ’’یکرہ اتخاذ الضیافۃ من الطعام من اھل المیت لانہ شرع فی السرور ولا فی الشرور وھی بدعۃ مستقبحۃ‘‘ ترجمہ: میت کے گھر والوں کی طرف سے دعوت کا اہتمام کرنا مکروہ ہے، اِس وجہ سے کہ دعوت کا اہتمام کرنا خوشی کے موقع پر مشروع ہے، غمی میں مشروع نہیں اور یہ دعوت کرنا بدعتِ قبیحہ ہے۔ (رد المحتار مع الدر مختار، ج 3، ص 175، مطبوعہ پشاور)

عرفاً معمول یہ ہے کہ پہلے تین دن تک کا کھانا میت کا کھانا شمار ہوتا ہے، جس کی ممانعت ہے، لہٰذا تین دن کے بعد کا کھانا میت کا کھانا شمار نہ ہوگا۔ البتہ اِس کے بعد بھی اگر موت کی نیت سے دعوت کی گئی، تو وہ دعوت بھی میت کا کھانا کہلائے گی اور ممنوع ہو گی۔ چنانچہ فتاوی تاتار خانیہ میں ہے: ’’لا یباح اتخاذ الضیافۃ عندہ ثلاثۃ ایام‘‘ ترجمہ: میت والوں کا تین دن تک دعوت کے طور پر کھانا تیار کرنا، جائز نہیں۔ (فتاوی تاتارخانیہ، ج 2، ص 139، مطبوعہ کراچی)

امام اہلسنت علیہ الرحمۃ اِس بارے میں فرماتے ہیں: ’’تین دن تک اِس کا معمول ہے، لہٰذا ممنوع ہے، اِس کے بعد بھی موت کی نیت سے اگر دعوت کرے گا، ممنوع ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ، ج 9، ص 667، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

میت کا کھانا صرف فقراء کھا سکتے ہیں، اغنیاء کے لیے کھانا، جائز نہیں، لہٰذا پہلے، دوسرے اور تیسرے دن، جو کھانا بطورِ دعوت تیار کیا جائے، اُس کا کھانا اغنیاء کے لیے جائز نہیں۔ چنانچہ فتاوی رضویہ میں ہے: ’’اغنیاء کو اِس (یعنی جو کھانا ایامِ موت میں بطورِ دعوت دیا جائے، اُس) کا کھانا، جائز نہیں۔‘‘ (فتاوی رضویہ، ج 9، ص 614، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

بطور ثواب اغنیا پر صدقہ کرنا بھی نیکی کا کام ہے، لیکن فقیر پر صدقہ کرنے میں زیادہ ثواب ہے۔ چنانچہ رد المحتارمیں ہے: ’’صرح فی الذخیرۃ بان فی التصدق علی الغنی نوع قربۃ دون قربۃ الفقیر‘‘ ترجمہ: ذخیرہ میں اِس بات کی صراحت کی گئی ہےکہ غنی پر صدقہ کرنا بھی قربت (نیکی)ہے، لیکن فقیر پر تصدّق سے کم درجہ ہے۔ (ردالمحتار مع الدر مختار، ج 6، ص 517، مطبوعہ پشاور)

سائل کی روایات کے جوابات:

  • الحاوی للفتاوی کی عبارت سے مراد میت کے لئے ایصال ثواب ہے۔ چنانچہ اس میں ہے: "عن سفيان قال: قال طاؤس: إن الموتى يفتنون في قبورهم سبعا، فكانوا يستحبون أن يطعم عنهم تلك الأيام" حضرت سفیان کہتے ہیں کہ حضرت طاؤس نے فرمایا: بے شک مردے سات دن تک اپنی قبر میں فتنے میں پڑے رہتے ہیں۔ لہذا صحابہ کرام اتنے دنوں تک مردوں کی طرف سے کھانا کھلانا پسند کرتے تھے۔ (الحاوي للفتاوی، ج 2، ص 216، دارالفکر، بیروت)

اس روایت کی وضاحت علامہ سیوطی شافعی نے چند صفحوں کے بعدیوں کی ہے: "فقول طاؤس: "فكانوا يستحبون" إن حمل على الرفع - كما هو القول الأول - كان ذلك من تتمة الحديث المرسل، ويكون الحديث اشتمل على أمرين، أحدهما أصل اعتقادي، وهو فتنة الموتى سبعة أيام، والثاني حكم شرعي فرعي، وهو استحباب التصدق والإطعام عليهم مدة تلك الأيام السبعة، كما استحب سؤال التثبيت بعد الدفن ساعة" ترجمہ: حضرت طاؤس کا یہ کہنا کہ وہ سات دن تک کھانا کھلانا پسند کرتے تھے۔ یہ قول اگر روایت کے مرفوع ہونے پر محمول کیا جائے (جیسا کہ ماقبل میں پہلا قول گزرا) تو یہ روایت حدیث مرسل کے تتمہ سے شمار ہوگی۔ اس حدیث کا مصداق دو امر ہوں گے۔ ان میں سے ایک اعتقادی قاعدہ ہے کہ مُردوں کا فتنہ میں مبتلا ہونا سات دن تک ہوتا ہے۔ امر ثانی حکم شرعی فرعی بیان کرنا ہے کہ ان سات دنوں تک مُردوں کے لئے تصدق کرنا اور ان کی طرف سے کھانا کھلانا مستحب ہے۔ جیسا کہ تدفین کے فورا بعد تلقین کرنا مستحب عمل ہے۔ (الحاوي للفتاوی، ج 2، ص 222، دارالفکر، بیروت)

  • حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بیان کردہ روایت میں کھانا کھلانے سے مراد بطور دعوت کھانے کا اہتمام کرنا مراد نہیں ہے بلکہ میت کے گھر والوں کے لئے کھانے کا انتظام کرنا مراد ہے جیسا کہ آل جعفر کے لئے بھی کھانا تیار کرنے کا حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ یہ مراد ان کے اپنے فعل سے ثابت ہے کہ انہوں نے کھانا تب بھیجا جب عام لوگ چلے گئے۔ میت کے گھر والوں کے لئے کھانا تیار کرکے بھیجنا جائز بلکہ مستحب ہے۔جبکہ بطور دعوت کھانا تیار کرنا جائز نہیں جیسا کہ شروع میں ذکر کیا۔

مکمل روایت یہ ہے: ”عن عائشة، زوج النبي صلى اللہ عليه وسلم: أنها كانت إذا مات الميت من أهلها، فاجتمع لذلك النساء، ثم تفرقن إلا أهلها وخاصتها، أمرت ببرمة من تلبينة فطبخت، ثم صنع ثريد فصبت التلبينة عليها، ثم قالت: كلن منها، فإني سمعت رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم يقول: «التلبينة مجمة لفؤاد المريض، تذهب ببعض الحزن»

ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب کسی گھر میں کسی کی وفات ہو جاتی اور اس کی وجہ سے عورتیں جمع ہوتیں اور پھر وہ چلی جاتیں، صرف گھر والے اور خاص خاص عورتیں رہ جاتیں تو آپ ہانڈی میں "تلبینہ" پکانے کا حکم دیتیں، وہ پکایا جاتا، پھر ثرید بنایا جاتا اور تلبینہ اس پر ڈالا جاتا، پھر ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتیں کہ اسے کھاؤ؛ کیوں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ فرماتے تھے: تلبینہ مریض کے دل کو تسکین دیتا ہے اور اس کا غم دور کرتا ہے۔ (صحيح البخاري، ج 7، ص 57، حدیث: 5417، دار طوق النجاۃ)

ترمذی میں ہے: "قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: ‏‏‏‏"اصنعوا لآل جعفر طعاما، ‏‏‏‏‏‏فإنه قد اتاهم امر شغلهم"​ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے گھر والوں کے بارے میں فرمایا: جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا تیار کرو، کیونکہ ان پر (غم وحزن کی ایسی) حالت آپڑی ہے جس نے انہیں مشغول کر دیا ہے (یعنی غم میں ہونے کے سبب یہ اپنا کھانا نہیں بنا سکتے )" (سنن الترمذی، کتاب الجنائز، ج 3، ص 314، حدیث: 998، مصطفی البابی حلبی، مصر)

فتح القدیر میں ہے: ”ويكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت لأنه شرع في السرور لا في الشرور، وهي بدعة مستقبحة. روى الإمام أحمد وابن ماجه بإسناد صحيح عن جرير بن عبد اللہ قال: كنا نعد الاجتماع إلى أهل الميت وصنعهم الطعام من النياحة. ويستحب لجيران أهل الميت والأقرباء الأباعد تهيئة طعام لهم يشبعهم يومهم وليلتهم؛ لقوله صلى اللہ عليه وسلم: «اصنعوا لآل جعفر طعاماً فقد جاءهم ما يشغلهم». حسنه الترمذي وصححه الحاكم“

 ترجمہ: میت کے گھر والوں سے کھانے کی ضیافت لینا مکروہ ہے۔ کیونکہ ضیافت خوشی کے موقع پر ہوتی ہے نہ کہ غمی کے موقع پر۔ (ایسے موقع پر دعوت لینا) ایک بری بدعت ہے۔ امام احمد بن حنبل اور ابن ماجہ نے صحیح سند کے ساتھ حضرت جریر سے روایت کیا ہے کہ ہم (گروہِ صحابہ کرام علیہم الرضوان) اہلِ میت کے ہاں جمع ہونے اور اُن کے کھانا تیار کروانے کو میت پر نوحہ کرنا شمار کرتے تھے (اور نوحہ کرنا شرعاً جائز نہیں ہے)۔ البتہ اہل میت کے پڑوسیوں اور قریبی رشتہ داروں پر اہل میت کے لئے دن اور رات کا کھانا تیار کرنا مستحب ہے۔ کیونکہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آل جعفر کے لئے کھانا تیار کرو کہ انہیں جو تکلیف پہنچی ہے اس نے انہیں کھانا تیار کرنے سے مشغول (بے پرواہ) کر دیا ہے۔ امام ترمذی نے اس روایت کو حسن کہا ہے اور امام حاکم نے اس کا صحیح ہونا بیان کیا ہے۔ (فتح القدیر، کتاب الصلاة، ج 2، ص 102، مطبوعہ کوئٹہ)

  • حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصال ہوا تو ان کا جنازہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پڑھایا۔ اتنی بات تو ثابت ہے۔ لیکن انہوں نے گھر والوں کو قافلے والوں کے لئے کھانا تیار کرنے کا کہا یا کھانا کھلایا، ایسا سیر کی کتب میں مذکور نہیں ہے۔ چنانچہ اسد الغابہ میں ہے: ”وتوفي أبو ذر بالربذة سنة إحدى وثلاثين، أو اثنتين وثلاثين، وصلى عليه عبد الله بن مسعود“ ترجمہ: ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ربذہ کے مقام پر 31 یا 32 ہجری کو انتقال ہوا۔ ان کا جنازہ عبداللہ ابن مسعود نے پڑھایا۔ (أسد الغابة، ج 6، ص 96، دارالکتب العلمیہ، بیروت)

البدایہ و النہایہ میں بھی کھانے کا تذکرہ نہیں ہے۔ چنانچہ اس میں ہے: ”وسير أبو ذر إلى الربذة فلما حضره الموت أوصى امرأته وغلامه فقال: إذا مت فاغسلاني وكفناني من الليل ثم ضعاني على قارعة الطريق فأول ركب يمرون بكم فقولوا: هذا أبو ذر، فلما مات فعلوا به كذلك فاطلع ركب فما علموا به حتى كادت ركابهم تطأ سريره، فإذا ابن مسعود في رهط من أهل الكوفة فقال: ما هذا؟ فقيل جنازة أبي ذر، فاستهل ابن مسعود يبكي وقال: صدق رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم يرحم اللہ أبا ذر يمشي وحده ويموت وحده ويبعث وحده“

 ترجمہ: حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ربذہ کی طرف چلے گئے تھے۔ جب ان کی موت کا وقت آیا تو انہوں نے اپنی بیوی اور غلام کو وصیت کی کہ جب میں فوت جاؤں تو میرا غسل و کفن رات کے وقت کرنا اور پھر مجھےرستے کی ایک طرف رکھ دینا۔ سب سے پہلے جو قافلہ تمہارے پاس آئے تو اسے کہنا کہ یہ ابو ذر ہے۔ جب حضرت ابو ذر کا وصال ہوگیا تو انہوں نے ایسا ہی کیا۔ایک قافلہ اچانک نکلا اور انہیں میت کے رکھے ہونے کا علم نہ ہوا۔ قریب تھا کہ ان کے سوار میت کو روندھ دیتے کہ قافلے کے ایک سوار حضرت ابن مسعود (جو کہ کوفہ سے تھے، انہوں) نے پوچھا یہ کیا ہے۔ کہا گیا کہ یہ ابو ذر کا جنازہ ہے۔ حضرت ابن مسعود رونا شروع ہو گئے اور کہا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سچ فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ ابو ذر پر رحم فرمائے۔ یہ اکیلے چلیں گے، اکیلے مریں گے اور اکیلے ہی اٹھائے جائیں گے۔ (البداية والنهاية ، ج 5، ص 12، دار احیاء التراث العربی، بیروت)

  • چوتھی دلیل میں ذکر کردہ آیت اور اس کے تحت بیان کردہ روایت سے صرف یہ ثابت ہو رہا ہے کہ جب مال وراثت تقسیم کیا جائے تو ایسے افراد جن کا وراثت میں حصہ نہیں بن رہا، انہیں مال وراثت سے کچھ دینا چاہئے۔ اسی پر عمل کرتے ہوئے بعض صحابہ نے تقسیم وراثت کے وقت مال وراثت سے ان لوگوں کو کھلایا جو وارث نہیں بن رہے تھے۔ شرعا یہ ایک مستحب عمل ہے۔ لیکن آیت یا اس کے تحت ذکر کردہ روایات میں یہ کہیں نہیں ہے کہ میت ہوتے ہی تین دن کے اندر اندر یہ کام کیا گیا۔ بلکہ ممکن ہے کہ یہ کام بعد میں کیا گیا ہو کیونکہ عموما میت ہوتے ہی وراثت تقسیم نہیں کی جاتی۔ بلکہ کچھ دنوں بعد ہی تقسیم وراثت کا عمل شروع ہوتا ہے۔ بالفرض فورا بھی کیا گیا ہو تو اس وقت اس سے مراد یتیم اور مسکین ہوں گے۔ انہیں یہ کھلانا بطور ایصال ثواب ہوگا۔ یہ بھی یاد رہے کہ اس آیت پر عمل تب ہوگا جب مال وراثت کے مستحقین میں نابالغ نہ ہوں، ورنہ ان کے حصے سے دیگر افراد کو کھلانا جائز نہیں ہے۔ البتہ بالغ افراد اپنے حصے سے کھلا سکتے ہیں۔

آیت یہ ہے: ﴿وَ  اِذَا  حَضَرَ  الْقِسْمَةَ  اُولُوا  الْقُرْبٰى  وَ  الْیَتٰمٰى  وَ  الْمَسٰكِیْنُ  فَارْزُقُوْهُمْ  مِّنْهُ  وَ  قُوْلُوْا  لَهُمْ  قَوْلًا  مَّعْرُوْفًا ﴿۸﴾﴾ ترجمۂ کنز العرفان: اور جب تقسیم کرتے وقت رشتہ دار اور یتیم اور مسکین آجائیں تواس مال میں سے انہیں بھی کچھ دیدو اور ان سے اچھی بات کہو۔ (پ 4، سورۃ النساء، آیت 8)

اس کے تحت تفسیر خزائن العرفان میں ہے: ”اِس آیت میں میت کے ترکہ سے غیر وارث رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں کو کچھ بطورِ صدقہ دینے اور قول معروف کہنے کا حکم دیا زمانۂِ صحابہ میں اِس پر عمل تھا محمد بن سیرین سے مروی ہے کہ اُن کے والد نے تقسیمِ میراث کے وقت ایک بکری ذبح کرا کے کھانا پکایا اور رشتہ داروں یتیموں اور مسکینوں کو کھلایا اور یہ آیت پڑھی ابن سِیرین نے اسی مضمون کی عبیدہ سلمانی سے بھی روایت کی ہے اُس میں یہ بھی ہے کہ کہا کہ اگر یہ آیت نہ آئی ہوتی تو یہ صدقہ میں اپنے مال سے کرتا۔“ (تفسیر خزائن العرفان، تحت سورۃ النساء، آیت 8)

اسی آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے: اس مستحب حکم پر یوں بھی عمل ہو سکتا ہے کہ بعض اوقات کوئی بیٹا یتیم بچے چھوڑ کر فوت ہو جاتا ہے اور اس کے بعد باپ کا انتقال ہوتا ہے تو وہ یتیم بچے چونکہ پوتے بنتے ہیں اور چچا یعنی فوت ہونے والے کا دوسرا بیٹا موجود ہونے کی وجہ سے یہ پوتے داد ا کی میراث سے محروم ہوتے ہیں تو دادا کو چاہیے کہ ایسے پوتوں کو وصیت کر کے مال کا مستحق بنا دے اور اگر دادا نے ایسا نہ کیا ہو تو وارثوں کو چاہیے کہ اوپر والے حکم پر عمل کرتے ہوئے اپنے حصہ میں سے اسے کچھ دے دیں۔ اس حکم پر عمل کرنے میں مسلمانوں میں بہت سستی پائی جاتی ہے بلکہ اس حکم کا علم ہی نہیں ہوتا۔ البتہ یہ یاد رہے کہ نابالغ اور غیر موجود وارث کے حصہ میں سے دینے کی اجازت نہیں۔ (تفسیر صراط الجنان، ج 2، 150، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

  • پانچویں دلیل میں ذکر کردہ روایت میں یہ تو ثابت ہو رہا ہے کہ میت کے گھر والوں کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو بلایا گیا تھا۔ لیکن اس سے صراحتا یہ ثابت نہیں ہو رہا کہ یہ کھانے کی دعوت تھی۔ بلکہ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ کھانے کا وقت ہونے کی وجہ سے کھانا پیش کیا گیا نہ کہ خاص دعوت کے لئے بلایا گیا ہو۔ بالفرض دعوت کے لئے بھی بلایا گیا ہو تو بھی اس میں یہ احتمال ہے کہ یہ دعوت پہلے سے ہونا طے تھا نہ کہ خاص میت کی وجہ سے دعوت دی گئی ہو۔ نیز یہ دعوت نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا خاصہ بھی ہو سکتی ہے۔ جب اس حدیث میں اتنے احتمالات ہیں تو یہ محل استدلال نہ رہی کہ اذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال۔ پھر اس حدیث کے مقابلے میں ممانعت والی روایات بھی ہیں جو کہ دلائل کے شروع میں بیان کی گئی ہیں۔ ممانعت اور اجازت والی احادیث جمع ہو جائیں تو ممانعت والی حدیث کو ترجیح دے دی جاتی ہے۔ یونہی ممانعت والی روایت قولی ہے اور سائل کی ذکر کردہ روایت فعلی اور فعلی روایت پر قولی کا راجح ہونا معروف و معلوم ہے۔ پھر فقہا نے ممانعت والی حدیث کو اپنے مذہب کے موقف کی دلیل بنایا ہے۔ جبکہ دوسری روایت کو محتمل قرار دے کر چھوڑ دیا ہے۔ لہذا کسی طور پر بھی اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے میت کے کھانے کا جواز ثابت نہیں ہو سکتا۔

چنانچہ سنن ابی داؤد میں حدیث یوں ہے: ’’عن رجل، من الأنصار، قال: خرجنا مع رسول الله صلى اللہ عليه وسلم في جنازة، فرأيت رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم وهو على القبر يوصي الحافر: «أوسع من قبل رجليه، أوسع من قبل رأسه»، فلما رجع استقبله داعي امرأة فجاء وجيء بالطعام فوضع يده، ثم وضع القوم، فأكلوا، فنظر آباؤنا رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم يلوك لقمة في فمه، ثم قال: «أجد لحم شاة أخذت بغير إذن أهلها»، فأرسلت المرأة، قالت: يا رسول اللہ ، إني أرسلت إلى البقيع يشتري لي شاة، فلم أجد فأرسلت إلى جار لي قد اشترى شاة، أن أرسل إلي بها بثمنها، فلم يوجد، فأرسلت إلى امرأته فأرسلت إلي بها، فقال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: «أطعميه الأسارى»‘‘

 ترجمہ: ایک انصاری صحابی نے بیان کیا ہے کہ ہم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں گئے تو میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ قبر پر تشریف فرما تھے کھودنے والے کو سمجھاتے تھے فرماتے تھے کہ اس کے پاؤں کی طرف فراخ کرو اس کے سر کی طرف فراخ کرو پھر جب واپس ہوئے تو آپ کے سامنے اس کی بیوی کی طرف سے بلانے والا آیا۔ آپ نے منظور فرمایا ہم آپ کے ساتھ تھے کھانا لایا گیا۔ حضور نے اپنا ہاتھ رکھا پھر قوم نے کہ سب کھانے لگے۔ تو ہم نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنے منہ میں لقمہ پھرا رہے ہیں۔ پھر فرمایا کہ میں ایسی بکری کا گوشت محسوس کرتا ہوں جو اس کے مالک کی بغیر اجازت لی گئی ہے۔ اس عورت نے کہلا کر بھیجا کہ یارسول الله میں نے بقیع کی طرف بھیجا تھا یہ وہ جگہ تھی یہاں بکریاں فروخت کی جاتی تھیں تاکہ میرے لیے بکری خریدے۔ بکری ملی نہیں میں نے اپنے پڑوسی کے پاس آدمی بھیجا جس نے بکری خریدی تھی یہ کہ مجھے وہ بکری قیمتًا بھیج دے وہ ملا نہیں۔ تو میں نے اس کی بیوی کے پاس بھیجا اس نے وہ میرے پاس بھیج دی تب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کھانا قیدیوں کو کھلا دو۔ (سنن ابی داؤد، ج 3، ص 244، حدیث 3332، المکتبۃ العصریہ، بیروت)

مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس حدیث کے تحت فرمایا ہے: ’’         کھانے کی دعوت نہیں تھی جیسا کہ الفاظ حدیث سے معلوم ہو رہا ہے۔ یہ بات خیال میں رکھی جائے۔ یہاں کھانا دعوت کے طور پر نہیں پکایا گیا تھا نہ حضور کو دعوت طعام کے لئے بلایا گیا تھا، اس کے  گھر حضور تشریف لے گئے تھے، کھانے کا وقت تھا، اس نے کھانا بھی پیش کر دیا۔ فقہاء فرماتے ہیں: کہ میت والوں سے دعوت لینا ممنوع ہے۔ اس مسئلہ کی بہت صورتیں ہیں: (1) بعض وارث نابالغ ہوں۔ (2) بعض وارث غائب ہوں۔ (3) قوم دعوت دینے پر مجبور کرے کہ میت کی روٹی دے۔(4) اہل میت رواج کے ماتحت شرم و حیا سے روٹی دیں۔

پہلی دو صورتوں میں دعوت دینا، دعوت کھانا دونوں حرام ہیں کہ اس میں یتیم کا مال کھانا ہے اور غائب کا مال اس کی اجازت کے بغیر کھانا ہے۔ آخری دونوں صورتوں میں کھانا مکروہ ہے۔ اگر یہ چار صورتیں نہ ہوں مثلا مہمانوں کے لئے کسی خاص وارث نے یا سارے بالغ وارثوں نے کھانا پکادیا یا اتفاقا کسی کو کھلادیا تو بلاکراہت جائز ہے۔ یہاں جو واقعہ بیان ہو رہا ہے اس میں یہ چاروں صورتیں نہ تھیں، لہٰذا فقہاء کایہ مسئلہ اس حدیث کے خلاف نہیں۔ (مرآۃ المناجیح، ج 8، ص 263، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

ممانعت والی روایت کی ترجیح:

جواب کے دلائل کے شروع میں ممانعت کے حوالے سے حضرت جریر کی روایت کو ترجیح دیتے ہوئے علامی شامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں ’’وبحث ھنا فی شرح المنیۃ بمعارضۃ حدیث جریر المار بحدیث آخر فیہ أنہ علیہ الصلاۃ والسلام - (دعتہ امرأۃ رجل میت لما رجع من دفنہ فجاء وجیء بالطعام) أقول: وفیہ نظر، فإنہ واقعۃ حال لا عموم لھا مع احتمال سبب خاص، بخلاف ما فی حدیث جریر.علی أنہ بحث فی المنقول فی مذھبنا ومذھب غیرنا کالشافعیۃ والحنابلۃ استدلالا بحدیث جریر المذکور علی الکراھۃ، ولا سیما إذا کان فی الورثۃ صغار أو غائب‘‘

 ترجمہ: شرح منیہ میں یہاں حدیث جریر کے مقابلے میں ایک اور حدیث سے معارضہ کرتے ہوئے بحث کی ہے، و ہ حدیث یہ ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ و السلام کی ایک فوت ہونے والے شخص کی تدفین سے واپسی پر اس کی بیوی نے دعوت کی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں گئے اور ان کی بارگاہ میں کھانا پیش کیا گیا۔ ”میں یہ کہتا ہوں کہ اس معارضے میں نظر ہے۔ کیونکہ یہ ایک ایسے حال میں واقع ہوا ہے کہ جس کا کوئی عموم نہیں ہے بلکہ اس میں ایک خاص سبب کے طور پر ہونے کا احتمال بھی ہے۔ بخلاف حضرت جریر کی حدیث کے کہ اس کے بارے میں جو بحث ہے وہ ہمارے اور دیگر فقہا (جیسے شوافع اور حنابلہ) کے مذہب کے طور پر منقول ہے کہ حدیث جریر سے کراہت کا استدلال ہوتا ہے۔ خصوصا اس صورت میں کہ جب ورثا میں سے کچھ نابالغ ہوں یا غائب ہوں۔ (رد المحتار، کتاب الصلوۃ، باب صلوۃ الجنازۃ، ج 2، ص 241، دار الفکر، بیروت)

سیدی و مرشدی امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن علامہ شامی کی اس عبارت ”فإنّہ واقعۃ حالٍ لا عموم لھا“کے تحت جد الممتار میں فرماتے ہیں: لأنّ وقائع العين مظان الاحتمالات مثلاً يمكن هاهنا أنّ الدعوة كانت موعودةً بهذا اليوم من قبل، واتّفق فيه الموت على أنّ ضيافة الموت ضيافة تتّخذ لأجل الموت، وضيافة الصحابة رضي اللہ تعالى عنهم للنبيّ صلّى اللہ تعالى عليه وسلّم لم تكن متفقةً على موت أحدٍ ولا حياته، فلو أنّ النبيّ صلّى اللہ تعالى عليه وسلّم جاءها في غير موت لأضافته فلم يكن فيه إحداث شيء جديد من أجل الموت بحيث لو لم يقع الموت لم يكن، بخلاف ما نحن فيه؛ فإنّه إنّما يكون لأجل الموت بحيث لو لم يكن لم يكن، -على أنّ الحاظر والمبيح إذا اجتمعا قدّم الحاظر- هذا ما عندي والعلم بالحقّ عند ربّي، وبالجملة فليس لنا البحث في المنقول في المذهب، والله تعالى الموفّق

 ترجمہ: کیونکہ اس واقعے میں احتمالات کی گنجائش ہے۔ مثلا: ممکن ہے کہ اس دن پہلے سے دعوت رکھی گئی ہو اور اس دن اچانک موت ہو گئی ہو نہ یہ کہ مرنے کی وجہ سے ضیافت کی جارہی ہے۔ صحابہ میں سے کسی کا حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کرنا کسی کی موت یا زندگی پر موقوف نہیں تھا۔ اگر حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم موت نہ ہونے کی صورت میں بھی تشریف لے آتے تو بھی وہ عورت ضرور آپ کی دعوت کرتی۔ اس دعوت میں موت کی وجہ سے کوئی نئی چیز تیار کرنا نہیں ہے کہ اگر موت نہ ہوتی تو دعوت نہ ہوتی۔ بخلاف اس مسئلے کے جس میں ہم ہیں (یعنی مروجہ دعوت کے۔) کیونکہ یہ موت کی وجہ سے ہی ہوتی ہے۔ اگر موت نہیں ہوگی تو یہ دعوت نہیں ہوگی۔ نیز قاعدہ یہ ہے کہ جب ممانعت والی اور اجازت والی دلیل جمع ہو جائے تو ممانعت والی دلیل کو مقدم کیا جائے گا۔ یہ میرے نزدیک ہے اور سچا علم میرے رب کے پاس ہے۔ بالجملہ ہمیں مذہب میں منقول مسئلے میں بحث کی گنجائش نہیں ہے۔ اللہ پاک ہی توفیق دینے والا ہے۔ (جد الممتار علی رد المحتار، مطلب فی کراہۃ الضیافۃ، ج 3، ص 681، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

فتاوی رضویہ میں ہے: ”فعل و قول میں جب تعارض ہو قول واجب العمل ہے کہ فعل احتمال خصوص وغیرہ رکھتا ہے۔“ (فتاوی رضویہ، ج 4، ص597، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

اسی میں ہے "اور عقل و نقل کا قاعدہ مسلمہ ہے کہ اذا جاء الاحتمال  بطل الاستدلال (جب احتمال آجائے تو استدلال باطل ہو جاتا ہے۔)" (فتاوی رضویہ، ج 30، ص 570، رضا فاونڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: ابو شاہد محمد ماجد علی مدنی
مصدق: مفتی ابو الحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: Lar-12249
تاریخ اجراء: 10 ربیع النور 1445ھ / 27 ستمبر 2023ء