نابالغ اور بالغ کا جنازہ ایک ساتھ پڑھنے کا طریقہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نابالغ بچہ اور بالغ مرد کی نمازِ جنازہ ایک ساتھ کیسے پڑھی جائے گی؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا نا بالغ اور بالغ کی ایک ساتھ نمازِ جنازہ ہو سکتی ہے؟ اگر ہو سکتی ہے تو کیسے ادا کی جائے گی؟
جواب
بالغ اور نابالغ کا جنازہ ایک ساتھ پڑھ سکتے ہیں اور جب بالغ اور نابالغ کا جنازہ ایک ساتھ پڑھا جائے تو درودِ پاک پڑھنے کے بعد تیسری تکبیر کہہ کر پہلے بالغ والی دعا پڑھی جائے، پھر نابالغ والی دعا پڑھی جائے۔ واضح رہے کہ اگر کئی جنازے موجود ہو ں تو سب کی ایک ساتھ نمازِ جنازہ پڑھ سکتے ہیں۔ لیکن اگر دشواری نہ ہو تو بہتر یہی ہے کہ ہر میت پر الگ نماز پڑھی جائے۔
اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے فتاویٰ رضویہ میں سوال ہوا کہ کتنے لوگوں کا جنازہ اکٹھا ہو سکتا ہے تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ”سو دوسو جتنے جنازے جمع ہوں سب پر ایک ساتھ ایک نماز ہو سکتی ہے۔“
مزید اگلے صفحے پر بالغ اور نابالغ کا جنازہ ایک ساتھ پڑھنے کے بارے میں فرمایا: ”بالغوں کے ساتھ نابالغوں کی نماز بھی ہو سکتی ہے۔ دونوں دعائیں (یعنی بالغ اور نابالغ والی) پڑھی جائیں، پہلے بالغوں کی پھر نابالغوں کی۔ اور بہر حال اگر دقّت نہ ہو تو ہر جنازے پر جدا نماز بہتر ہے۔“ (فتاویٰ رضویہ، ج 24، ص 199، 200، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا رضا محمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2535
تاریخ اجراء: 27 ربیع الثانی 1447ھ/21 اکتوبر 2025ء