تدفین کے بعد تلقین کی برکتیں کیا ہیں؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
دفن کے بعد کی جانے والی تلقین کے فوائد
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
تلقین بعد دفن کی دو برکتیں کتابوں میں بیان کی گئی ہیں: ایک تو یہ کہ تلقین ذکرِ الٰہی ہے، اور ذکر الٰہی سے میت کو انس حاصل ہوتا ہے (یعنی اسے سکون ملتا اور اس کادل بہلتاہے)، دوسری یہ کہ روایت کے مطابق یہ امید کی جاسکتی ہے، تلقین کی برکت سے میت سے سوالات منکر نکیر نہیں ہوں گے۔
علامہ شامی علیہ الرحمۃ رد المحتار میں شرح منیہ کے حوالے سے لکھتے ہیں: و إنما لا ينهى عن التلقين بعد الدفن لأنه لا ضرر فيه بل نفع فإن الميت يستأنس بالذكر ترجمہ: بعدِ دفن تلقین سے منع نہیں کیا جائے گا، کیونکہ اس میں کوئی ضرر نہیں بلکہ فائدہ ہے۔ بے شک ذکر سے میت کا دل بہلتا ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، ج 03، ص 95، مطبوعہ: کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے حدیث میں ہے: حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ و سلم فرماتے ہیں: جب تمہارا کوئی مسلمان بھائی مرے اور اس کومٹی دے چکو تو تم میں ایک شخص قبر کے سرہانے کھڑا ہو کر کہے: یا فلاں بن فلانہ (یعنی اس کا اور اس کی والدہ کا نام لے) وہ سنے گا اور جواب نہ دے گا پھر کہے: یا فلاں بن فلانہ! وہ سیدھا ہو کر بیٹھ جائے گا پھر کہے یا فلاں بن فلانہ وہ کہے گا، ہمیں ارشاد کر اللہ عزوجل تجھ پر رحم فرمائے گا۔ مگر تمہیں اس کے کہنے کی خبر نہیں ہوتی۔پھر کہے: اذكر ما خرجت عليه من الدنيا شهادة أن لا إله إلا اللہ و أن محمدا رسول اللہ و أنك رضيت بالله ربا و بالإسلام دينا و بمحمد نبيا و بالقرآن إماما۔ ترجمہ: یاد کر وہ بات کہ جس کے ساتھ تو دنیا سے آیا یعنی اس بات کی گواہی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں اور بیشک تو اللہ کے رب ہونے اور اسلام کے دین ہونے اور محمد کے نبی ہونے اور قرآن کے امام ہونے پر راضی تھا۔ نکیرین ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر کہیں گے، چلو ہم اس کے پاس کیا بیٹھیں جسے لوگ حجت سکھا چکے، اس پر کسی نے حضور (صلی اللہ تعالی علیہ و سلم) سے عرض کی، اگر اس کی ماں کا نام معلوم نہ ہو؟ فرمایا: حوا کی طرف نسبت کرے۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر و الضیاء فی الاحکام و غیرھا بعض اجلہ ائمہ تابعین فرماتے ہیں: جب قبر پر مٹی برابر کرچکیں اور لوگ واپس جائیں تو مستحب سمجھا جاتا کہ میت سے اس کی قبر کے پاس کھڑے ہو کر یہ کہا جائے: یا فلان بن فلان قل لا الہ الا اللہ۔ تین بار پھر کہا جائے: قل ربی اللہ و دینی الاسلام و نبیی محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم۔ (بہار شریعت، ج 1، حصہ 4، ص 850، 851، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5235
تاریخ اجراء: 05 صفر المظفر 1448ھ / 20 جولائی 2026ء