logo logo
AI Search

بے نمازی کی نماز جنازہ پڑھنے کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

عمر بھر فرض نماز نہ پڑھنے والے کی نماز جنازہ کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

عمر بھر فرض نماز نہ پڑھنے والے کی نماز جنازہ ادا کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

بلاعذر جان بوجھ کر نماز ترک کرنا گناہِ کبیرہ ہے اور اس پر سخت وعیدیں آئی ہیں، نماز نہ پڑھنے سے بندہ کافر نہیں ہوتا، مسلمان ہی رہتا ہے جبکہ نماز کی فرضیت کا انکار نہ کرے اور نمازِ جنازہ ہر مسلمان کی پڑھنے کا حکم ہے، اگرچہ وہ کتنا ہی بڑا گنہگار ہو۔ صرف چند لوگ ایسے ہیں جن کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھی جائے گی، لیکن ان میں بے نمازی شامل نہیں ہے، لہٰذا اس کی نمازِجنازہ پڑھنا بھی نہ صرف جائز، بلکہ فرضِ کفایہ ہے، تاہم کوئی بڑے پیشوا اور بڑے عالم و مفتی زجراً (دوسروں کی عبرت لیے)، اس کی نمازِ جنازہ نہ پڑھیں، تو اس میں حرج نہیں، تاکہ لوگوں کو تنبیہ ہو اور نماز پڑھنے کی ترغیب ہو۔ عام ائمہ حضرات اور عوام جنازہ پڑھ لیں تاکہ فرض کفایہ ادا ہوجائے۔ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”مرتکبِ کبیرہ کافر نہیں یہی مذہب ہمارے ائمہ حنفیہ و ائمہ شافعیہ و ائمہ مالکیہ اور ایک جماعت ائمہ حنبلیہ وغیرہم جماہیر علمائے دین و ائمہ معتمدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا ہے کہ اگرچہ تارکِ نماز کو سخت فاجر جانتے ہیں مگر دائرہ اسلام سے خارج نہیں کہتے اور یہی ایک روایت حضرت امام احمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے ہے اس کی رُو سے یہ مذہب مہذب حضرات ائمہ اربعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا مجمع علیہ ہے، حلیہ میں فرمایا: ”ذھب الجمھور، منھم اصحابنا ومالک والشافعی واحمد فی روایۃ، الی انہ لایکفر۔ ۔۔“ یعنی: جمہور، جن میں ہمارے علماء بھی شامل ہیں اور مالک وشافعی اور ایک روایت کے مطابق احمد بھی، کی رائے یہ ہے کہ اس کو کافر نہیں کہا جائیگا۔۔۔ رہی نمازِ جنازہ وہ اگرچہ ہر مسلمان غیر ساعی فی الارض بالفساد کے لئے فرض ہے۔ و ھذا منہ، کقاتل نفسہ، بل اولی فان قتل نفسہ اشد من قتل مؤمن غیرہ، وقتل المؤمن اکبر عند اللہ من ترک الصلاۃ۔ وقد قال فی الدر: ”من قتل نفسہ، ولو عمدا، یغسل ویصلی علیہ، بہ یفتی، وان کان اعظم وزراً من قاتل غیرہ“ یعنی: اور یہ (یعنی بے نمازی) انہی میں سے ہے جس طرح خود کشی کرنے والا۔ بلکہ بطریقِ اولیٰ، کیونکہ خودکشی کرنا دوسرے مومن کو قتل کرنے سے زیادہ شدید جرم ہے اور مومن کو قتل کرنا نماز چھوڑنے سے بڑا گناہ ہے۔ اور درمختار میں کہا ہے کہ جو اپنے آپ کو قتل کردے، خواہ جان بوجھ کر ہی، اس کو غسل دیا جائے گا اور نماز پڑھی جائے گی، اسی پر فتوٰی ہے، اگرچہ اس کا گناہ دوسرے کو قتل کرنے والے سے بڑا ہے۔ اگر علما و فضلا، باقتدائے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم فی المدیون و فی قاتل نفسہ (یعنی جیسے مقروض اور خودکشی کرنے والے کی حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام نے زجراً نمازِ جنازہ نہیں پڑھی ایسے ہی) بغرض زجر و تنبیہ نمازِ جنازہ بے نماز سے خود جُدا رہیں، کوئی حرج نہیں، ہاں یہ نہیں ہوسکتا کہ اصلاً کوئی نہ پڑھے یوں سب آثم و گنہگار رہیں گے۔ مسلمان اگرچہ فاسق ہو اُس کے جنازہ کی نماز فرض ہے الامن استثنی و لیس ھذا منھم (مگر جو مستثنیٰ ہیں اور یہ ان میں سے نہیں ہے۔)“ (ملتقطاً از فتاوی رضویہ، جلد 05، صفحہ 108، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

جن لوگوں کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھی جائے گی، بے نمازی ان میں شامل نہیں لہٰذا بے نمازی کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔ جیسا کہ بہار شریعت میں ہے: ”ہر مسلمان کی نماز پڑھی جائے اگرچہ وہ کیسا ہی گنہگار و مرتکبِ کبائر ہو مگر چند قسم کے لوگ ہیں کہ اُن کی نماز نہیں۔ (1) باغی جو امامِ برحق پر ناحق خروج کرے اور اُسی بغاوت میں مارا جائے۔ (2) ڈاکو کہ ڈاکہ میں مارا گیا نہ اُن کو غسل دیا جائے نہ اُن کی نماز پڑھی جائے، مگر جبکہ بادشاہِ اسلام نے اُن پر قابو پایا اور قتل کیا تو نماز و غسل ہے یا وہ نہ پکڑے گئے نہ مارے گئے بلکہ ویسے ہی مرے تو بھی غسل و نماز ہے۔ (3) جو لوگ ناحق پاسداری سے لڑیں بلکہ جو اُن کا تماشہ دیکھ رہے تھے اور پتھر آکر لگا اور مر گئے تو ان کی بھی نماز نہیں، ہاں اُن کے متفرق ہونے کے بعد مرے تو نماز ہے۔ (4)جس نے کئی شخص گلا گھونٹ کر مار ڈالے۔ (5) شہر میں رات کو ہتھیار لے کر لوٹ مار کریں وہ بھی ڈاکو ہیں، اس حالت میں مارے جائیں تو اُن کی بھی نماز نہ پڑھی جائے۔ (6)جس نے اپنی ماں یا باپ کو مار ڈالا، اُس کی بھی نماز نہیں۔ (7) جو کسی کا مال چھین رہا تھا اور اس حالت میں مارا گیا، اُس کی بھی نماز نہیں۔ جس نے خودکشی کی حالانکہ یہ بہت بڑا گناہ ہے، مگر اُس کے جنازہ کی نماز پڑھی جائے گی اگرچہ قصداً خودکشی کی ہو، جو شخص رجم کیا گیا یا قصاص میں مارا گیا، اُسے غسل دیں گے اور نماز پڑھیں گے۔“ (بہار شریعت،جلد 1 ،صفحہ 827، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب:مولانا رضا محمد عطاری مدنی

فتوی نمبر: Web-2536

تاریخ اجراء:27 ربیع الثانی 1447ھ/21  اکتوبر 2025ء