logo logo
AI Search

نماز جنازہ سے پہلے اذان دینا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

نمازِ جنازہ سے پہلے اذان دینے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

نمازِ جنازہ سے پہلے نہ اذان ہے، نہ اقامت، رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم، صحابۂ کرام رضی اللہ تعالی عنہم، تابعین اور ائمۂ مجتہدین سے نمازِ جنازہ سے پہلے اذان یا اقامت دینا ثابت نہیں، اور زمانہ رسالت سے لے کر آج تک اسی پر عمل جاری ہے، کہ نماز جنازہ کے لیے اذان نہیں دی جاتی، لہٰذا نمازِ جنازہ سے پہلے اذان یا اقامت نہیں کہی جائے گی، بلکہ جب لوگ جمع ہوجائیں تو بلا اذان و اقامت نمازِ جنازہ ادا کی جائے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے ”الأذان سنة لأداء المكتوبات بالجماعة. كذا في فتاوى قاضي خان وقيل: إنه واجب و الصحيح أنه سنة مؤكدة ۔ ۔ ۔ ۔ و ليس لغير الصلوات الخمس و الجمعة نحو السنن و الوتر والتطوعات و التراويح و العيدين أذان و لا إقامة كذا في المحيط وكذا للمنذورة وصلاة الجنازة و الاستسقاء و الضحى و الإفزاع“ ترجمہ: اذان باجماعت ادا کی جانے والی فرض نمازوں کے لیے سنت ہے، جیسا کہ فتاویٰ قاضی خان میں مذکور ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اذان واجب ہے، لیکن صحیح اور راجح قول یہ ہے کہ اذان سنتِ مؤکدہ ہے۔پانچ وقت کی فرض نمازوں اور جمعہ کے علاوہ دیگر نمازوں، مثلاً:سنت نمازیں، وتر، نفل نمازیں، تراویح، عیدین، ان میں نہ اذان ہے اور نہ اقامت، جیسا کہ المحیط میں مذکور ہے۔ اسی طرح منت والی نماز، نمازِ جنازہ، نمازِ استسقاء (بارش کی دعا کی نماز)، نمازِ ضحیٰ (چاشت)، اور نمازِ اِفزاع (خوف و ہراس کے وقت پڑھی جانے والی نماز) کے لیے بھی نہ اذان ہے اور نہ اقامت۔ (فتاوی عالمگیری، الباب الثاني في الأذان، ج 01، ص 53، مطبوعہ: کوئٹہ)

شمس الائمہ علامہ سَرَخْسِی رَحْمَۃاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: (و ليس لغير الصلوات الخمس و الجمعة أذان و لا إقامة)… و كذلك توارثه الناس إلى يومناهذا" ترجمہ: نمازِ پنجگانہ اور جمعہ کے علاوہ نمازوں کے لئےاذان و اقامت شروع نہیں اور آج تک لوگوں میں یہی عمل چلتا آرہا ہے۔ (المبسوط، جلد 1، صفحہ 134، مطبوعہ دار المعرفۃ، بیروت، لبنان)

محی السنہ امام بغوی رَحْمَۃاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: و لا أذان ولا إقامة لشيء من الصلوات سوى الفرائض الخمس، لأنه لم يؤذن على عهد رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم لغيرها“ ترجمہ: پانچ فرض نمازوں(اور جمعہ) کے علاوہ کسی بھی نماز کےلئے اذان و اقامت نہیں، کیونکہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ کی حیاتِ ظاہری میں ان کے علاوہ کسی نماز کے لئےاذان نہیں دی گئی۔ (شرح السنة للبغوي، جلد 2، صفحہ 311، مطبوعہ: بیروت)

صحابہ کرام اور ان کے بعد اہل علم تابعین و تبع تابعین رِضْوَانُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْن کا بھی یہی معمول تھا، چنانچہ امام ترمذی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتےہیں: و العمل عليه عند أهل العلم من أصحاب النبي صلى اللہ عليه وسلم وغيرهم" ترجمہ: نبی پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صحابہ کرام ان کے بعد اہلِ علم کا اسی پرعمل رہا ہے۔ (سننِ ترمذی، صفحہ223، رقم الحدیث532،دارابن کثیر،دمشق)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی 
فتویٰ نمبر: WAT-5244
تاریخ اجراء: 16 صفر المظفر 1448ھ / 01 اگست 2026ء