ڈاکو سے اپنا مال بچاتے ہوئے قتل ہونے والا شہید ہوگا ؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
چور ڈاکو سے اپنے مال کا دفاع کرتے ہوئے قتل ہونے والا شہید کہلائے گا ؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر لٹیرا کسی شخص سے مال چھیننے کی کوشش کرے اور وہ شخص اپنا مال بچانے کے لیے مزاحمت کرے اور اسی دوران گولی لگنے کی وجہ سے وہ قتل ہو جائے، تو کیا شریعت کی رو سے یہ شہادت کی موت کہلائے گی یا پھر یہ خود کو ہلاکت پر پیش کرنے کے زمرے میں آئے گا؟ سائل: دانش علی (واہ کینٹ)
جواب
اپنے مال کی حفاظت و دفاع کرتے ہوئے قتل ہوجانے والے شخص کو شہادت کا درجہ حاصل ہوگا، احادیث مبارکہ میں اپنے مال کو بچانے کے لیے مزاحمت میں مارے جانے والے شخص کو صراحت کے ساتھ شہید قرار دیا گیا ہے، لہذا یہ خود کو ہلاکت پر پیش کرنے کے زمرے میں ہرگز نہیں آئے گا۔ تاہم مال کے دفاع کے لیے مزاحمت کرنا کوئی ضروری نہیں۔
اپنے مال کی حفاظت میں مارا جانے والا شہید ہے ، جیسا کہ حدیث پاک میں ہے: ”من قتل دون ماله فهو شهيد“ ترجمہ: جو شخص اپنا مال بچاتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے۔ (صحیح البخاری، ج 3، ص 136، حدیث 2480، دار طوق النجاۃ، بيروت)
مذکورہ بالا حدیث پاک کے تحت عمدۃ القاری میں ہے: ”يدل أن للانسان أن يدفع من قصد ماله ظلما، فإذا قتل صار شهيدا، وهذا النوع داخل في المظالم لأن فيه دفع الظلم“ ترجمہ: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ انسان ایسے شخص سے مزاحمت کر سکتا ہے، جو ظالمانہ طور پر اس کا مال لینے کا ارادہ کرے، پھر اگر وہ قتل کر دیا گیا تو شہید کہلائے گا۔ یہ قسم بھی مظالم میں داخل ہے، کیونکہ اس میں ظلم کو دور کرنا ہے۔ (عمدۃ القاری، جلد 13، صفحہ 33، دار إحياء التراث العربي، بیروت)
مرآۃ المناجیح میں ہے: ”یعنی چور یا ڈاکو یا کسی اور ظالم نے اس کا مال چھیننا چاہا، اس نے دفاع کے طور پر اس سے جنگ کی اور مارا گیا، تو یہ شخص شہید ہوگا، کہ ظلمًا قتل ہوا ہے۔ “ (مرآۃ المناجیح، جلد 5، صفحہ 250، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
اسی طرح ایک اور روایت میں ہے: ”عن ابی ھریرۃ قال جاء رجل إلى رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم، فقال: يا رسول اللہ، أرأيت إن جاء رجل يريد أخذ مالي؟ قال: فلا تعطه مالك، قال: أرأيت إن قاتلني؟ قال: قاتله، قال: أرأيت إن قتلني؟ قال:فأنت شهيد، قال: أرأيت إن قتلته؟ قال: هو في النار“ ترجمہ: حضرت ابو ہريرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوا: یا رسول اللہ! اگر کوئی شخص میرا مال چھیننے کے ارادے سے آئے، تو اس متعلق آپ کیا فرماتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا مال اسے مت دو۔ اس نے عرض کیا: اگر وہ مجھ سے لڑائی کرے تو پھر ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :تم بھی اس کا مقابلہ کرو۔ اس نے عرض کیا: اگر وہ مجھے قتل کر دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو تم شہید ہوگے۔ اس نے عرض کیا: اور اگر میں اسے قتل کر دوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جہنم میں جائے گا۔ (صحیح المسلم، ج 1، ص 124، حدیث 225، دار احیاء التراث العربی، بیروت)
مذکورہ بالا روایت کے تحت مرآۃ المناجیح میں ہے: ”یعنی اس صورت میں اسے اپنا مال نہ دے، کیونکہ اپنے کو ظلم سے بچانا اچھا ہے۔۔۔ خیال رہے کہ یہ نہی حرمت کی نہیں، نیز حالتِ مجبوری اس سے مستثنٰی ہے۔۔۔ لہذا اگر کوئی شخص اس حالت میں جنگ نہ کرے تو مجرم نہیں۔“ (مرآۃ المناجیح، ج 5، ص 251، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
بہار شریعت میں ہے: ”اپنی جان یا مال یا کسی مسلمان کے بچانے میں لڑا اور مارا گیا وہ شہید ہے، لوہے یا پتھر یا لکڑی کسی چیز سے قتل کیا گیا ہو۔ “ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 862، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
فقہی شہید کی تعریف کے حوالے سے درر شرح غرر میں ہے: ”هو مسلم طاهر بالغ قتل ظلما ولم يجب بنفس القتل مال ولم يرتث سواء قتله باغ أو حربي أو قطاع الطريق“ ترجمہ: فقہی شہید اس مسلمان بالغ طاہر کو کہتے ہیں جو ظلماً قتل کیا گیا ہو اور اس کے قتل کے بدلے کوئی مال (دیت وغیرہ) لازم نہ آیا ہو اور زخمی ہونے کے بعد کچھ دیر زندہ رہ کر دنیا سے کوئی نفع نہ اٹھایا ہو، خواہ اسے کسی باغی نے قتل کیا ہو، یا حربی کافر نے، یا ڈاکوؤں نے۔ (درر الحکام شرح غرر الاحکام، ج 1، ص 168، دار احیاء الکتب العربیہ، بیروت)
بہار شریعت میں ہے: ”اصطلاح فقہ میں شہید اس مسلمان عاقل بالغ طاہر کو کہتے ہیں جو بطور ظلم کسی آلۂ جارحہ سے قتل کیا گیا اور نفس قتل سے مال نہ واجب ہوا ہو اور دنیا سے نفع نہ اٹھایا ہو۔ شہید کا حکم یہ ہے کہ غسل نہ دیا جائے، ویسے ہی خون سمیت دفن کر دیا جائے۔ تو جہاں یہ حکم پایا جائے گا فقہا اسے شہید کہیں گے ورنہ نہیں، مگر شہید فقہی نہ ہونے سے یہ لازم نہیں کہ شہید کا ثواب بھی نہ پائے، صرف اس کا مطلب اتنا ہو گا کہ غسل دیا جائے و بس۔ “ (بھار شریعت، ج 1، حصہ 4، ص 860، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
فقہی و حکمی شہید کی بہترین وضاحت کرتے ہوئے صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”شہید کی دو قسم ہے۔ ایک وہ جس کو اصطلاحِ فقہ میں شہید کہا جاتا ہے، جس کا حکم یہ ہے کہ نہ غسل دیا جائے، اسی طرح خون سمیت دفن کر دیا جائے اور جو کپڑا اس کے جسم پر از جنس کفن سے ان کو اتارا نہ جائے۔ اس شہادت کے لئے چند شرائط ہیں، جب تک وہ شرائط پائے نہ جائیں اصطلاح فقہ میں اس کو شہید نہیں کہا جائے گا۔ دوسرا وہ شہید جس کو اگرچہ اصطلاح فقہ میں شہید نہ کہیں کہ ان شرائط کا جامع نہیں، جو شہید فقہی کے لیے ضروری تھیں، مگر اسکو بھی شہید کہا جائے گا، اگرچہ اس کو غسل و کفن دیا جائے گا، مگر شہادت کی فضیلت اس کو حاصل ہے اور شہادت کا ثواب پائے گا، جو مسلمان کفار کے ہاتھوں آجکل مقتول ہو رہے ہیں ان میں بیشتر وہی ہیں جن کو اصطلاحِ فقہ کے اعتبار سے بھی یقینا شہید کہا جائے گا، کہ وہ آلہ جارحہ سے ظلماً قتل کئے گئے اور زخمی ہونے کے بعد انہیں دنیا سے کسی قسم کا نفع اٹھانے کا بھی موقع نہ ملا۔ بعضوں کو ایسا موقع ضرور حاصل ہوتا ہے کہ ان کا کچھ علاج ہوتا ہے یا کسی قسم کا نفع وہ اٹھالیتے ہیں، مثلا انہوں نے کسی دنیوی چیز کی وصیت کی، یا کچھ کھایا پیا یا معرکہ سے اسے اٹھا لائے۔ تو اگرچہ فقہاء کی اصطلاح میں اسے شہید نہیں کہیں گے، مگر یہ بھی شہداء میں شمار ہو گا، اس کو بھی شہادت کا ثواب ملے گا۔ (فتاوی امجدیہ، ج 1، ص 319، مکتبہ رضویہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: Pin-7802
تاریخ اجراء: 07 صفر المظفر 1448ھ/22 جولائی 2026ء