logo logo
AI Search

نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ پڑھنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ پڑھنے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

فقہ حنفی کی رو سے نماز جنازہ میں سورت فاتحہ بنیت قراءت پڑھنا جائز نہیں ہے کیونکہ نماز جنازہ قراءت کا محل نہیں بلکہ دعا و ثناء کا محل ہے ہے البتہ اگر کوئی سورت فاتحہ کو قراءت کی نیت سے نہیں بلکہ حمدوثناء کی نیت سے پڑھے تو یہ جائز ہے اور نماز جنازہ میں سورت فاتحہ نہ پڑھنا کثیر صحابۂ کرام مثل حضرت عمر بن خطاب، علی ابن ابی طالب، عبد اللہ بن عمر اورابو ہریرہ اور تابعین مثل حضرت عطاء، طاؤس، سعیدبن مسیب، ابن سیرین، ابن جبیرشعبی، حکم، ابن منذر، مجاہد، حماد، اور سفیان ثوری رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسی جلیل القدر شخصیات کا موقف ہے۔

نمازِ جنازہ کاطریقہ مختلف احادیث و آثار میں جو بیان کیا گیا ہے اس میں سورت فاتحہ پڑھنے کا حکم نہیں دیا گیا چنانچہ امام مالک رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ حضرت ابو سعید مقبری نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نماز جنازہ کے طریقے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا فإذا وضعت کبرت و حمدت اللہ و صلیت علی نبیہ ثم أقول اللّٰھم عبدک و ابن عبدک الخ ترجمہ: جب جنازہ رکھا جاتا ہے تو میں تکبیر کہتا ہوں اور اللہ کی حمد و ثناء بیان کر تا ہوں اور پھر نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر درود بھیجتا ہوں پھر کہتا ہوں: اے اللہ یہ تیرا بندہ ہے اور تیرے بندے کا بیٹا ہے (پھر آخر تک پوری دعا بتائی)۔ (مؤطا امام مالک، کتاب الجنائز، باب ما یقول، جلد 1، صفحہ 209، مطبوعہ کراچی)

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے استاذ، امام ابن شیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز جنازہ کے طریقے کے حوالے سے ایک روایت بیان کرتے ہیں: عن الشعبی قال فی التکبیرۃ الأولی یبدأ بحمد اللہ و الثناء علیہ و الثانیۃ صلاۃ علی النبی صلی اللہ علیہ و سلم و الثالثۃ دعاء للمیت و الرابعۃ للتسلیم ترجمہ: حضرت امام شعبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا جنازہ میں پہلی تکبیر میں حمد وثناء پڑھی جائے اور دوسری تکبیر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر درود اور تیسری میں میت کے لئے دعا اور چوتھی میں سلام پھیرا جائے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الجنائز،ما یبدأ بہ فی التکبیرۃ، جلد 2، صفحہ 490، مکتبۃ الرشد، الریاض)

ان دونوں روایتوں میں نمازِ جنازہ کا طریقہ بیان کیا گیا ہے لیکن سورہ فاتحہ پڑھنے کا نہیں کہا گیا، صرف حمد و ثناء کا کہا گیا ہے۔ اسی طرح صحابہ کرام سے کئی اور روایات و آثار بھی ہیں جن میں بیان کیا گیا ہے کہ نماز جنازہ میں قراء ت نہ کی جائے چنانچہ مؤطا امام مالک و مصنف ابنِ ابی شیبہ وغیرہ میں ہے و اللفظ لمؤطا عن نافع أن عبد اللہ بن عمر کان لا یقرأ فی الصلاۃ علی الجنازۃ ترجمہ: حضرت نافع فرماتے ہیں کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نمازجنازہ میں قراء ت نہیں کیا کرتے تھے۔ (مؤطا امام مالک، کتاب الجنائز، باب ما یقول، جلد 1، صفحہ 210، مطبوعہ کراچی)

حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نمازِ جنازہ میں قراء ت کے حوالے سے پوچھا گیا تو فرمایا: قال: لم یوقت لنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم قولا و لا قراء ۃ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہمارے لئے کسی قول یا کسی( خاص سورت کی) قراء ت کو معین نہیں فرمایا۔ (بدائع الصنائع، کتاب الصلاۃ، کیفیۃ الصلاۃ علی الجنازۃ، جلد 1، صفحہ 314،دار الکتب العلمیہ، بیروت)

مصنف ابنِ ابی شیبہ میں ہے عن سعید بن أبی بردۃ عن أبیہ قال قال لہ رجل أقرأ علی الجنازۃ بفاتحۃ الکتاب؟ قال لا تقرأ ترجمہ: حضرت سعید بن ابی بردہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ان سے کسی نے پوچھا کہ کیا میں نمازِ جنازہ میں سورہ فاتحہ پڑھوں؟ فرمایا: نہیں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ،باب من قال لیس علی الجنازۃ قراء ۃ جلد 2 صفحہ 493، مکتبۃ الرشد، الریاض)

اُسی میں ہے حدثنا یحیی بن أبی بکر، قال ثنا محمد بن عبد اللہ بن أبی سارۃ قال سألت سالما فقلت القراء ۃ علی الجنازۃ فقال لا قراء ۃ علی الجنازۃ ترجمہ: محمد بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم سے نمازِ جنازہ میں قراء ت کے حوالے سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: جنازہ پر قراء ت نہیں ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ،باب من قال لیس علی الجنازۃ قراء ۃ جلد 2 صفحہ 493، مکتبۃ الرشد، الریاض)

حضرت ابو العالیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ما کنت أحسب أن فاتحۃ الکتاب تقرأ إلا فی صلاۃ فیھا رکوع و سجود ترجمہ: سورہ فاتحہ اسی نماز میں پڑھی جاتی ہے جس میں رکوع وسجود ہوتے ہیں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، باب من قال لیس علی الجنازۃ قراء ۃ، جلد 2، صفحہ 493، مکتبۃ الرشد، الریاض)

کثیر صحابہ وتابعین کا بھی یہی موقف ہے چنانچہ علامہ عینی لکھتے ہیں و لیس فی صلاۃ الجنازۃ قراء ۃ القرآن عندناقال ابن بطال و ممن کان لا یقرأ فی الصلاۃ علی الجنازۃ و ینکر عمر بن الخطاب و علی بن أبی طالب و ابن عمر و أبو ھریرۃ و من التابعین عطاء و طاوس و سعید بن المسیب و ابن سیرین و ابن جبیر و الشعبی و الحکم. و قال ابن المنذر و مجاہد و حماد و بہ قال الثوری، و قال مالک رضی اللہ عنہ قراء ۃ الفاتحۃ لیست معمولا بھا فی بلدنا فی صلاۃ الجنازۃ ترجمہ: ہمارے نزدیک نمازِ جنازہ میں قرآن پاک کی قراء ت نہیں ہے۔ ابن بطال فرماتے ہیں کہ جو صحابہ نماز جنازہ میں قراء ت نہیں کیا کرتے بلکہ اس کا انکار فرمایا کرتے تھے ان میں حضرت عمر بن خطاب، علی ابن ابی طالب، ابن عمر، ابو ہریرہ، اور تابعین میں سے حضرت عطاء، طاؤس، سعیدبن مسیب، ابن سیرین، ابن جبیر، شعبی، حکم، ابن منذر، مجاہد، حماد، اور سفیان ثوری (جیسی جلیل القدر شخصیات) شامل ہیں، امام مالک فرماتے ہیں ہمارے بلاد (یعنی مدینہ شریف) میں نمازجنازہ کے اندر سورت فاتحہ کے پڑھنے پر عمل نہیں ہے۔ (بنایہ، کتاب الجنائز، جلد 3، صفحہ 216، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

محقق علی الاطلاق امام ابن ہمام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فتح القدیر میں اور علامہ زیلعی اپنی کتاب تبیین میں لکھتے ہیں: و اللفظ للاول لا یقرأ الفاتحۃ إلا أن یقراھا بنیۃ الثناء و لم تثبت القراء ۃ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ترجمہ: نمازی، نمازِ جنازہ میں سورت فاتحہ کی قراءت نہ کرے البتہ ثناء کی نیت سے پڑھ سکتا ہے اورنماز جنازہ میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے قراء ت ثابت نہیں ہے۔ (فتح، باب الجنائز، فصل الصلوۃ علی المیت جلد 2، صفحہ 122،دار الفکر، بیروت)

فقہ حنفی کی مشہور کتاب محیط برہانی میں فتاوی اہل سمر قندکے حوالے سے ہے من قرأ فی صلاۃ الجنازۃ بفاتحۃ الکتاب إن قرأ بنیۃ الدعاء فلا بأس بہ، و إن قرأ بنیۃ القراء ۃ لا یجوز أن یقرأ؛ لأن صلاۃ الجنازۃ محل الدعاء و لیست محل القراء ۃ ترجمہ: اگر کسی نے نمازِ جنازہ میں سورہ فاتحہ دعاء کی نیت سے پڑھی تو کوئی حرج نہیں اگر قرآن کی قراء ت کی نیت سے پڑھی تو جائز نہیں ہے کیونکہ نماز جنازہ دعاء کا محل ہے قراء ت کا محل نہیں ہے۔ (محیط برہانی، کتاب الصلوۃ، الفصل الثانی و الثلاثون، جلد 2، صفحہ 180،دار الکتب العلمیہ، بیروت)

بلکہ جن احادیث کے ظاہر سے نماز جنازہ میں سورت فاتحہ پڑھنے کی اجازت معلوم ہوتی ہے تو ان کا مطلب بیان کرتے ہوئے بھی فقہاء نے یہی فرمایا ہے کہ وہاں سورت فاتحہ کو حمد و ثناء کی نیت سے پڑھنا مراد ہے اور حمد و ثناء کی نیت سے پڑھنے کو ہم بھی جائز ہی کہتے ہیں چنانچہ محیط برہانی میں ہے و ما روی من الأحادیث یدل علی الجواز لا علی الوجوب ونحن نقول بالجواز فقد روی الحسن بن زیاد عن أبی حنیفۃ فی صلاتہ أنہ لو قرأ الفاتحۃ بدلا عن الثناء لا بأس بہ ترجمہ: اور (فاتحہ پڑھنے والی) روایات فاتحہ کے جواز پر دلالت کر تی ہیں نہ کہ وجوب پر اور جواز کے تو ہم خود بھی قائل ہیں جیسا کہ امام حسن بن زیاد حضرت ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نماز جنازہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں اگر ثناء کی جگہ فاتحہ پڑھی تو کوئی حرج نہیں ہے۔ (محیط برہانی، کتاب الصلوۃ، الفصل الثانی و الثلاثون، جلد 2، صفحہ 180، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

علامہ کاسانی رحمۃ اللہ علیہ بدائع الصنائع میں لکھتے ہیں و تأویل حدیث جابر أنہ کان قرأ علی سبیل الثناء لا علی سبیل قراء ۃ القرآن و ذلک لیس بمکروہ عندنا ترجمہ: حدیثِ جابر کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے سورہ فاتحہ ثناء کی نیت سے پڑھی تھی نہ کہ قرآن کی قراء ت کے طورپر اور یہ ہمارے نزدیک بھی مکروہ نہیں ہے۔ (بدائع الصنائع، کتاب الصلاۃ، کیفیۃ الصلاۃ علی الجنازۃ، جلد 1، صفحہ 314،دار الکتب العلمیہ، بیروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری 
فتویٰ نمبر: JTL-0355
تاریخ اجراء: 24 شوال المکرم 1442ھ / 26 مئی 2022ء