نماز جمعہ سے پہلے نماز جنازہ پڑھ سکتے ہیں؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
جمعہ کی نماز سے پہلے نماز جنازہ پڑھنے کا حکم شرعی
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا جمعہ کی نماز سے پہلے نماز جنازہ پڑھ سکتے ہیں؟
جواب
جی ہاں! نمازِ جمعہ سے پہلے جنازہ کی نماز پڑھی جا سکتی ہے، بلکہ اگر جمعہ سے پہلے جنازہ تیار ہو، تو محض لوگوں کی تعداد بڑھانے کی غرض سے نمازِ جنازہ میں دیر نہ کریں، پہلے ہی دفن کر دیں، کیونکہ احادیث میں کسی شخص کے انتقال کا یقین ہو جانے کے بعد اس کی تجہیز و تکفین اور تدفین میں جلدی کرنے کا حکم ہے، (البتہ! موت کا یقین ہونے، قبر کی تیاری کرنے اور غسل و کفن وغیرہ کے ضروری انتظامات کرنے میں جو دیر لگتی ہے، اس کی اجازت ہے)۔
نیز یہاں ایک اور مسئلہ بھی ذہن نشین رہے کہ نمازِ جمعہ سے پہلے مکروہ وقت بھی ہوتا ہے اور مکروہ وقت میں جنازہ پڑھنے سے متعلق تفصیل یہ ہے کہ جنازہ، جنازہ گاہ میں پہلے سے تیار موجود تھا اور اتنی تاخیر کی گئی کہ مکروہ وقت شروع ہو گیا، تو اب مکروہ وقت میں نماز جنازہ ادا کرنا مکروہ تحریمی ہے، لیکن اگر میت کو جنازہ گاہ میں لایا ہی مکروہ وقت میں گیا، تو اس صورت میں بلا کراہت نمازِ جنازہ پڑھنا جائز ہے، جبکہ تدفین مکروہ اوقات میں بھی کی جا سکتی ہے، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں۔
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فتاویٰ رضویہ میں فرماتے ہیں: "اگر روزِ جمعہ پیش از جمعہ جنازہ تیار ہو گیا، جماعت کثیرہ کے انتظار میں دیر نہ کریں پہلے ہی دفن کر دیں۔ اس مسئلہ کا بہت لحاظ رکھنا چاہئے کہ آج کل عوام میں اس کے خلاف رائج ہے، جنہیں کچھ سمجھ ہے وہ تو اسی جماعتِ کثیر کے انتظار میں روکے رکھے ہیں اور نرے جُہال نے اپنے جی سے اور باتیں تراشی ہیں، کوئی کہتا ہے میّت بھی جمعہ کی نماز میں شریک ہو جائے، کوئی کہتا ہے نماز کے بعد دفن کریں گے تو میت کو ہمیشہ جمعہ ملتا رہے گا۔ یہ سب بے اصل و خلافِ مقصدِ شرع ہیں۔" (فتاوی رضویہ، جلد 09، صفحہ 310، رضا فاؤندیشن، لاہور)
مکروہ وقت میں جنازہ آئے، تو بلا کراہت نماز پڑھنا جائز ہونے کے متعلق علامہ علاؤالدین حصکفی رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہِ لکھتے ہیں: ”فلو وجبتا فيها لم يكره فعلهما: أي تحريما وفي التحفة الأفضل أن لا تؤخر الجنازة“ ترجمہ: اور اگر نمازِ جنازہ و سجدہ تلاوت مکروہ وقت میں واجب ہوں، تو ان کو اسی وقت میں ادا کرنا مکروہ تحریمی نہیں اور تحفۃ الفقہاء میں ہے کہ (مکروہ وقت میں جنازہ حاضر ہو) تو مؤخر نہ کرنا افضل ہے۔
مذکورہ بالا عبارت کے تحت علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی حَنَفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ/1836ء) لکھتے ہیں: ”وما في التحفة أقره في البحر والنهر والفتح و المعراج لحدیث: ثلاث لایؤخرون، منھا الجنازۃ اذا حضرت وقال في شرح المنية: والفرق بينها وبين سجدة التلاوة ظاهر، لأن التعجيل فيها مطلوب مطلقا إلا لمانع وحضورها في وقت مباح مانع من الصلاة عليها في وقت مكروه، بخلاف حضورها في وقت مكروه“ ترجمہ: شارح کا ”تحریما“ کہنا، اِس مسئلہ میں کراہت تنزیہی کو ثابت کرتا ہے، (لیکن پھر فوراً بعد) ”تحفۃ الفقہاء“ کا جملہ نقل کرنا، دراصل ”تحریما“ والے لفظ سے پیدا ہونے والے مفہوم سے استدراک ہے، کیونکہ تحفۃ الفقہاء کی عبارت کا مفہوم یہ ہے کہ جب جنازہ میں تاخیر نہ کرنا افضل ہے، تو اصلاً کراہت رہے گی ہی نہیں (یعنی کراہتِ تنزیہی بھی نہیں) اور جو قول ”تحفۃ الفقہاء“ میں نقل کیا گیا ہے، اِسی کو ”بحر الرائق، نہر الفائق، فتح القدیر اور معراج الدرایۃ“ میں برقرار رکھا ہے، اس حدیث پاک کی وجہ سے کہ تین کاموں کو مؤخر نہ کیا جائے، ان میں سے ایک جنازہ ہے کہ جب حاضر ہو چکا ہو اور منیہ کی شرح میں فرمایا: اور نمازِ جنازہ اور سجدہ تلاوت میں فرق یہ ہے کہ نمازِ جنازہ میں جلدی کرنا مطلقاً (شریعت کو) مطلوب ہے مگر یہ کہ کوئی مانع موجود ہو (جیسے) اس کا مباح وقت میں حاضر ہو جانا، مکروہ وقت (تک موخر کر کے) پڑھنے سے مانع ہے، بخلاف اس کے کہ جنازہ مکروہ وقت میں حاضر ہو (کہ اس میں اصلاً کراہت نہیں)۔ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاۃ، جلد 2، صفحہ 43، مطبوعہ: کوئٹہ)
مفتی جلال الدین احمد امجدی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1422ھ/2001ء) لکھتے ہیں: ”اگر مکروہ وقت مثلاً: آفتاب غروب ہونے سے دس منٹ پیشتر جنازہ لایا گیا، تو اسی وقت پڑھیں، کوئی کراہت نہیں، کراہت اُس صورت میں ہے کہ پیشتر سے تیار موجود ہے اور تاخیر کی، یہاں تک کہ وقتِ کراہت آ گیا۔“ (فتاویٰ فیض الرسول، جلد 1، صفحہ 443، شبیر برادرز، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5329
تاریخ اجراء: 11 ربیع الاول 1448ھ/25 اگست 2026ء