logo logo
AI Search

میت کے غیر ضروری بال کاٹنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

میت کے غیر ضروری بال دور کرنا کیسا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

میت خواہ مرد ہو یا عورت اس کے بدن کے کسی حصے سے بال کاٹنا یا مونڈنا شرعاً، ناجائز و مکروہ  تحریمی ہے چاہے بال کتنے ہی بڑھ گئے ہوں اور اس کے متعلق حکم شرعی یہ ہے کہ میت جس حالت پر ہو اسے ویسے ہی رہنے دیا جائے یعنی اُسی حالت پر غسل وکفن دے کر اس کی تدفین کر دی جائے۔ میت کے غیرضروری بال دور کرنا زینت میں آتا ہے اور میت زینت کی محتاج نہیں ہوتی یہی وجہ ہے کہ ہر وہ کام جس میں زینت ہو وہ میت کےساتھ نہیں کیا جاسکتا لہذا میت کے نہ ناخن تراش سکتے ہیں، نہ مونچھیں لے سکتے ہیں، نہ داڑھی کے بال لے سکتے ہیں، نہ سر کے بال کاٹ سکتے ہیں،نہ سر کے یا داڑھی کے بالوں کو کنگھی کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ میت کےبدن سےزیرِناف بال دورکرنےکے ناجائز ہونے کی ایک اوروجہ سترِ عورت کھلنا یعنی بےپردگی بھی ہے کیونکہ عام طور پر شرمگاہ کی طرف نظر کئے بغیر ان کو دور کرنا ممکن نہیں، اگر بالفرض نظر کئے بغیر دور کرنا ممکن ہو تب بھی اوپر والی وجہ کی روشنی میں یہ عمل جائز نہیں ہوگا۔

میت کے موئےبغل اورزیرِ ناف بال دور کرنا زینت میں آتا ہے اور میت کو زینت کی حاجت نہیں جیسا کہ ملک العلماء امام علاء الدین ابو بکر بن مسعود کاسانی حنفی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی: 587ھ) فرماتے ہیں: و السنة ان يدفن الميت بجميع اجزائه و لهذا لا تقص اظفاره و شاربه و لحيته و لا يختن و لا ينتف ابطه و لا تحلق عانته و لان ذلك يفعل لحق الزينة و الميت ليس بمحل الزينة و لهذا لا يزال عنه شیء مما ذكرنا“ یعنی سنت یہ ہے کہ میت کی اس کے تمام اجزائے بدن کے ساتھ تدفین کی جائے گی لہذا نہ اس کے ناخن تراشے جائیں گی، نہ مونچھیں کتری جائیں گی، نہ داڑھی کاٹی جائے گی، نہ ہی اس کا ختنہ کیا جائے گا، نہ اس کےموئے بغل اکھیڑے جائیں گے اور نہ زیرِ ناف بال مونڈے جائیں گے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ امور زینت کے لئے کئے جاتے ہیں اور میت زینت کا محل نہیں لہذا جتنی چیزیں ہم نے گنوائیں ان میں سے کوئی بھی چیز میت کے بدن سے دور نہیں کی جائے گی۔ (بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع، ج 2، ص 310، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

محقّق علامہ زین ابن نجیم مصری رحمۃ اللہ علیہ (متوفی: 970ھ) شرح کنز میں فرماتے ہیں: و لا يسرح شعره ولحيته و لا يقص ظفره و شعره لانها للزينة و قد استغنى عنها و الظاهر انّ هذا الصنيع لا يجوز قال فی القنية اما التزيّن بعد موتها و الامتشاط و قطع الشعر لا يجوز“ یعنی میت کے سر کے بال اور داڑھی کوکنگھی نہیں کرسکتے، نہ ہی اس کے ناخن اور بال تراش سکتےہیں کیونکہ یہ زینت کے کام ہیں اور میت کو زینت کی حاجت نہیں۔ ظاہر یہی ہے کہ یہ سارے کام ناجائز ہیں،قنیہ میں کہا کہ بعدِ موت میت کو آراستہ کرنا، کنگھی کرنا اور بال کاٹنا جائز نہیں ہے۔ (البحر الرائق شرح کنز الدقائق، ج 2، ص 304، مطبوعہ کوئٹہ)

فتاوی عالمگیری میں ہے: و لا يسرّح شعر الميت ولا لحيته ولا يقصّ ظفره و لا شعره كذا فی الهداية و لا يقصّ شاربه و لا ينتف ابطه و لا يحلق شعر عانته و يدفن بجميع ما كان عليه“ یعنی میّت کے سر کے بال اورداڑھی میں کنگھی نہیں کرسکتے یوہیں ناخن نہیں تراش سکتے، بال نہیں کاٹ سکتے جیساکہ ہدایہ شریف میں لکھا ہے اورنہ مونچھیں کتری جائیں گی، نہ موئے بغل اکھیڑے جائیں گے اور نہ زیرِ ناف مونڈے جائیں گے بلکہ میت کی ان تمام چیزوں کے ساتھ تدفین کی جائے گی۔ (الفتاوی الھندیۃ، ج 1، ص 158، مطبوعہ پشاور)

مُرد ے کے بال کاٹنے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں شیخ الاسلام والمسلمین امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ (متوفی: 1340ھ) فرماتےہیں: نا جائز ہے، فی الدر: لا یسرح شعرہ ای یکرہ تحریماً و لا یقص ظفرہ الا المکسور و لا شعرہ و لا یختن و فی رد المحتار: عن النھرعن القنیۃ: التزیین بعد موتھا و الامتشاط و قطع الشعر لا یجوز  (یعنی در مختار میں ہے: میت کے بالوں میں کنگھا نہ کیا جائے یعنی یہ مکروہ تحریمی ہے، اور اس کے ناخن نہ تراشے جائیں مگر وہ جو ٹوٹا ہوا ہے، نہ ہی بال کاٹے جائیں، نہ ختنہ کیا جائے۔ رد المحتار میں نہر سے، اس میں قنیہ سے منقول ہے: اس کے مرنے کے بعد زینت کرنا، کنگھا کرنا، بال کاٹنا نا جائز ہے۔) (فتاوی رضویہ، ج 09، ص 91 - 92، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی: 1367ھ) ارشاد فرماتے ہیں: میّت کی داڑھی یا سر کے بال میں کنگھا کرنا یا ناخن تراشنا یا کسی جگہ کے بال مونڈنا یا کترنا یا اُکھاڑنا، ناجائز و مکروہ و تحریمی ہے بلکہ حکم یہ ہے کہ جس حالت پر ہے اُسی حالت میں دفن کر دیں ہاں اگر ناخن ٹوٹا ہو تو لے سکتے ہیں اور اگرناخن یا بال تراش لئےتو کفن میں رکھ دیں۔ (بھار شریعت، ج 1، ص 816، مکتبہ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا رضا محمد عطاری مدنی 
فتویٰ نمبر: Nor-13098
تاریخ اجراء: 24 ربیع الثانی 1445ھ / 09 نومبر 2023ء