خواجہ سرا کا عورت کی میت کو غسل دینا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
خواجہ سرا کا مردہ عورت کو غسل دینے کا شرعی حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
خواجہ سرا کے مردہ عورت کو غسل دینے کے حکم کی تفصیل درج ذیل ہے:
(1) ایسا خواجہ سرا، جس کامردہوناثابت ہوجائے، یوں کہ اس میں نر ہونے کی علامت واضح ہو، اس کا حکم مردوں والا ہوتا ہے، لہٰذا ایسا خواجہ سرا عورت کو غسل نہیں دے سکتا۔
(2) اور جس کاعورت ہوناثابت ہوجائے، یوں کہ اس میں مادہ ہونے کی علامت واضح ہو، اس کا حکم عورتوں والا ہے، لہٰذا یہ عورت کو غسل دے سکتا ہے۔
(3) اور جس میں مرد و عورت دونوں کی علامتیں پائی جائیں، اور یہ واضح نہ ہو کہ وہ مرد ہے یا عورت، اسے خنثی مشکل کہتے ہیں، یہ نہ مرد کو غسل دے سکتا ہے نہ عورت کو۔
چنانچہ خنثی میں مرد و عورت والی علامات کے اعتبار سے مرد و عورت کا حکم ہونے کے متعلق المختصر للقدوری میں ہے”إذا كان للمولود فرج وذكر فهو خنثى فإن كان يبول من الذكر فهو غلام و إن كان يبول من الفرج فهو أنثى ۔ ۔ ۔ و إذا بلغ الخنثى و خرجت له لحية أو وصل إلى النساء فهو رجل و إن ظهر له ثدي كثدي المرأة أو نزل له لبن في ثديه أو حاض أو حبل أو أمكن الوصول إليه من جھۃ الفرج فهو امرأة فإن لم یظهر إحدى هذه العلامات فهو خنثى مشكل“ ترجمہ: اگر نومولود کی مرد و عورت دونوں کی شرمگاہیں ہوں، تو وہ خنثی ہے، لہٰذا اگر وہ مردانہ عضو سے پیشاب کرتا ہے،تو وہ لڑکا ہے، اور اگر وہ زنانہ شرمگاہ سے پیشاب کرتا ہے،تو وہ لڑکی ہے، اور جب خنثیٰ بالغ ہو جائے، اور اس کی داڑھی نکل آئے، یا وہ عورتوں کے ساتھ تعلق قائم کرنے کے قابل ہو جائے، تو وہ مرد ہے، اور اگر اس کے سینے پر عورت جیسے پستان ظاہر ہوں، یا اس کے پستان میں دودھ اتر آئے، یا اسے حیض آئے، یا وہ حاملہ ہو جائے، یا اس کی زنانہ شرمگاہ کے ذریعے تعلق قائم کیا جا سکے، تو وہ عورت ہے۔ اور اگر ان میں سے کوئی علامت بھی ظاہر نہ ہو تو وہ ”خنثیٰ مشکل“ ہے۔ (المختصر للقدوری، صفحہ 282، مکتبۃ اما م احمد رضا، راولپنڈی)
یونہی بہار شریعت میں ہے ”مخنث وہ شخص ہے جس میں مرد اور عورت دونوں کے اعضاء ہوں یا دونوں میں سے کوئی عضو نہ ہو۔ اگر دونوں عضو ہوں تو یہ دیکھا جائے گا کہ وہ پیشاب کون سے عضو سے کرتا ہے اگر مردانہ عضو سے پیشاب کرتا ہے تو مرد کا حکم ہے اور اگر زنانہ عضو سے پیشاب کرتا ہے تو عورت کا حکم ہے۔“ (بہار شریعت،جلد 3، حصہ 20، صفحہ 1174، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
فتاوی یورپ میں ہے ”اگر ہجڑے میں نر کی علامت واضح ہے تو اس کا حکم نر کا ہے اور اگر اس میں مادہ کی علامت واضح ہے، تو اس کا حکم مادہ کا ہے۔“ (فتاوی یورپ، صفحہ 216، شبیر برادرز، لاہور)
غسل دینے کے متعلق تحفۃ الفقہاء میں ہے ”ثم الجنس يغسل الجنس كالذكر للذكر و الأنثى للأنثى و لا يغسل الجنس خلاف الجنس كالرجل للأنثى“ ترجمہ: ہم جنس اپنی ہم جنس کو ہی غسل دے گا، جیسے مرد مرد کو اور عورت عورت کو ،اور مخالف جنس ایک دوسری کو غسل نہیں دے گی، جیسے مرد عورت کو۔ (تحفۃ الفقھاء، جلد 1، صفحہ 241، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
فتاوی عالمگیری میں ہے "و الخنثى المشكل ۔ ۔ ۔ لا يغسل رجلا و لا امرأة" ترجمہ: خنثی مشکل نہ کسی مرد کو غسل دے سکتا ہے نہ ہی کسی عورت کو۔ ( فتاوی عالمگیری، جلد 1، صفحہ 160، مطبوعہ: کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے”خنثیٰ مشکل کسی مرد یا عورت کو غسل نہیں دے سکتا۔“ (بہار شریعت، جلد 1 ،حصہ 4، صفحہ 814، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا عبد الرب شاکر عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5295
تاریخ اجراء: 29 صفر المظفر 1448ھ / 13 اگست 2026ء