میت کے کپڑے اور جوتے کس کو دیں؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
فوت ہوجانے والی عورت کے کپڑے و جوتے کس کو دئیے جائیں؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جو عورت فوت ہو جائے، اس کے کپڑے اور جوتے کس کو دینے چاہئیں؟ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اگر کسی کو نہ دئیے جائیں، تو گھر میں اموات ہوں گی یا مردہ اپنا کفن پھاڑتا ہےاور اپنے کپڑے ڈھونڈتا ہے۔ اس کی کیا حقیقت ہے؟
جواب
میت کا معمولی سامان بھی شرعا ً ترکہ ہے اور ورثاء کی ملکیت ہے لہٰذا میت کے جوتے، کپڑے وغیرہ بھی ترکے میں شمار ہوں گے، تمام ورثاء عاقل بالغ ہوں، تو ان کی اجازت سے کوئی ایک بھی رکھ سکتا ہے اور صدقہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ ان کپڑوں کو اس لئے صدقہ کردینا کہ گھر میں رکھنے کی وجہ سے ہمارے گھر دیگر لوگوں کی بھی موت ہوگی یا نحوست ہوگی یہ نظریہ درست نہیں بلکہ یہ بدشگونی ہے اور بدشگونی لینا جائز نہیں۔ نیز ان کپڑوں کو ضائع کردینا بھی جائز نہیں ہے۔ صدقہ کرنا ہے تو بھی تمام ورثاء کی اجازت سے کرنا ہوگا جبکہ سب عاقل و بالغ ہوں ۔یہ کہنا کہ نہ دیں، تو مردہ اپنا کفن پھاڑتا ہے یا کفن چباتا ہے، یہ بے اصل بات ہے، اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا رضا محمد عطاری مدنی
فتوی نمبر: Web-2588
تاریخ اجراء:12 جمادی الاولٰی 1447ھ/04 نومبر 2025ء