logo logo
AI Search

فوتگی پر تین دن تعزیت کیلئے بیٹھنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

فوتگی پر اہلِ خانہ کا تین دن تک تعزیت کے لیے بیٹھنا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

کسی مسلمان کے انتقال پر اس کے گھر والوں سے تعزیت کرنا، انہیں صبر و ہمت کی تلقین کرنا سنت اور بہت بڑے ثواب کا کام ہے اور میت کے گھر والوں کا گھر وغیرہ کسی مناسب جگہ تین دن تک اس مقصد سے بیٹھنا بھی شرعاً جائز و مباح ہے جبکہ اس میں کسی ممنوع کام (مثلا: گلی، روڈ وغیرہ بند کر کے وہاں بیٹھنا کہ جس سے گزرنے والوں کو تکلیف ہو یا اس موقع پر مہنگی قالین و چادریں بچھانا، مختلف قسم کے کھانے و مشروبات اور دیگر ناموری کے اسباب اختیار کرنا، یونہی میت کی تعریف میں حد سے بڑھنا اور تعزیت کے وقت وہ باتیں کرنا جو غم والم کو زیادہ کریں وغیرہ) کا ارتکاب نہ کیا جائے۔ البتہ اس طرح بیٹھنا کوئی لازم و ضروری نہیں بلکہ تصریحات فقہاء کے مطابق اس کا ترک (یعنی تعزیت کے لیے نہ بیٹھنا) افضل و احسن ہے، لہٰذا تین دن سے پہلے اس سلسلہ کو ختم کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی فضیل رضا عطّاری
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضانِ مدینہ ستمبر 2026ء