نماز جنازہ تین تکبیروں کے ساتھ پڑھنے کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نماز جنازہ تین تکبیروں کے ساتھ پڑھا دی تو کیا حکم ہے ؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک امام صاحب نے نماز جنازہ پڑھاتے ہوئے چوتھی تکبیر کہے بغیر سلام پھیر دیا اور یوں ہی نماز مکمل کر لی۔ نماز جنازہ کے بعد لوگوں نے بتایا کہ تین تکبیریں ہوئی ہیں اور پھر امام صاحب کو بھی یاد آگیا، تو امام صاحب نے فوراً دوبارہ نماز پڑھائی۔ پوچھنا یہ ہے کہ جس طرح نماز پنجگانہ میں کوئی تکبیر چھوٹ جائے، تو نماز ہوجاتی ہے، کیا نماز جنازہ میں بھی اسی طرح نہیں ہے کہ کوئی تکبیر چھوٹ جائے، تو نماز جنازہ ادا ہوجائے ؟ امام صاحب کا دوبارہ نماز پڑھانا درست تھا ؟
جواب
نماز جنازہ کی چاروں تکبیروں کا حکم عام پنجگانہ نماز کی تکبیروں والا نہیں ہے، بلکہ نماز کی رکعتوں والا حکم ہے، یعنی جس طرح نماز کی ہر رکعت کا ادا کرنا فرض ہے، ایک رکعت بھی رہ جائے، تو نماز نہیں ہوتی، اسی طرح نمازِ جنازہ کی ہر تکبیر رکن اور فرض ہے کہ اگر اس کی ایک بھی تکبیر رہ جائے، تو نمازِ جنازہ نہیں ہوتی، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں پہلے جو تین تکبیروں کے ساتھ نماز پڑھی گئی تھی اور چوتھی تکبیر چھوڑ دی تو شرعاً وہ نماز ِ جنازہ ادا نہیں ہوئی تھی، جس وجہ سے امام صاحب کا دوبارہ نماز پڑھانا، درست بلکہ ضروری تھا۔
علامہ بُر ہانُ الدین مَرْغِینانی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ (سالِ وفات: 593ھ/1196ء) لکھتے ہیں:
”ان كل تكبيرة قائمة مقام ركعة“
ترجمہ: نماز جنازہ کی ہر تکبیر (عام پنجگانہ نماز کی) رکعت کے قائم مقام ہے۔
اس کے تحت امام کمال الدین ابنِ ہمام رَحْمَۃُاللہِ عَلَیْہِ (سالِ وفات: 861ھ/1456ء) فتح القدیر میں لکھتےہیں:
”لقول الصحابة رضي اللہ عنهم: أربع كأربع الظهر، ولذا لو ترك تكبيرة واحدة منها فسدت صلاته كما لو ترك ركعة من الظهر“
ترجمہ: کیونکہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کا قول ہے کہ ( نماز جنازہ کی ) چار تکبیریں نماز ظہر کی چار رکعتوں کی طرح ہیں، اسی وجہ سے اگر کسی نے نماز جنازہ کی کوئی ایک تکبیر بھی چھوڑ دی، تو ا س کی نماز فاسد ہوجائے گی، جیسا کہ نماز ظہر کی کوئی رکعت چھوڑ دی ( تو ظہر فاسد ہوجاتی ہے)۔(فتح القدیر مع الھدایہ، کتاب الصلاۃ، باب الجنائز، جلد 1، صفحہ 125، مطبوعہ دار الفکر، بیروت )
نماز جنازہ کی تکبیریں، اس کا رکن ہیں، چنانچہ علامہ شُرُنبلالی حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1069ھ/1658ء) نورالایضاح میں لکھتے ہیں:
”الصلاۃ علیہ فرض کفایۃ وارکانھا التکبیرات والقیام“
ترجمہ: میت پر نماز جنازہ پڑھنا فرضِ کفایہ ہے اور نماز جنازہ کا رکن اس کی تکبیریں اور قیام ہے۔(نور الایضاح، فصل فی صلاۃ الجنازۃ، صفحہ116، مطبوعہ المکتبۃ العصریہ)
وقار الفتاویٰ میں ہے: ”نماز جنازہ میں چاروں تکبیرات رکن (فرض) ہیں اور رکن چھوٹنے سے نماز باطل ہوتی ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں تکبیرات میں سے کسی بھی تکبیر کے چھوٹ جانے سے نماز جنازہ نہیں ہوگی۔“ (وقار الفتاویٰ، جلد 2، صفحہ 354، بزم وقار الدین، کراچی )
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Aqs-2892
تاریخ اجراء: 02 شعبان المعظم 1447ھ/22 جنوری 2026ء