مردوں کا قبر پر آنے والے کو پہچاننا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کیا مردہ قبر پر آنے والے عزیز کو پہچانتا ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر کسی عزیز کی قبر پر جائیں، تو کیا قبر والا اپنے اس عزیز کو پہچانتا ہے؟ مثلاً بیٹا اگر باپ کی قبر پر جائے، تو کیا باپ کو پتہ چلے گا، کہ میرا بیٹا آیا ہے، اور میرے لیے دعا کر رہا ہے؟
جواب
جی ہاں! شرعاً یہ بات ثابت ہے کہ انتقال کرنے والا شخص، اپنی قبر پر آنے والے زائرین کو پہچانتا ہے، اور ان کے سلام و کلام کو بھی سنتا ہے، اور اگر اس کا کوئی جاننے والا مثلاً بیٹا وغیرہ، قبر پر فاتحہ وغیرہ کے لیے آئے، تو اس کو پہچاننے کے ساتھ ساتھ، اس سے انس بھی حاصل کرتا ہے، جس سے اس کی وحشت دور ہوتی ہے۔
قبر پر آنے والے کو مردہ پہچانتا ہے۔ چنانچہ شعب الايمان میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”اذا مر الرجل بقبر یعرفہ فسلم علیہ رد علیہ السلام وعرفہ واذا مربقبر لا یعرفہ فسلم علیہ ردعلیہ السّلام“
ترجمہ: جب آدمی ایسی قبر پر گزرتاہے، جس سے دنیا میں شناسائی تھی، اور اسے سلام کرتا ہے، تو مردہ جوابِ سلام دیتا، اور اسے پہچانتا ہے، اورجب ایسی قبر پر گزرتا ہے، جس سے جان پہچان نہ تھی، اور سلام کرتاہے، تو مردہ اسے جوابِ سلام دیتا ہے۔ (شعب الایمان، فصل فی زیارۃ القبور، جلد 7، صفحہ 17، حدیث 9696، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
اسی طرح التیسیربشرح الجامع الصغير، لمعات التنقیح اور اشعۃ اللمعات میں ہے
(واللفظ للاول) ” الشعور باق حتی بعدالدفن حتی انہ یعرف زائرہ“
ترجمہ: شعور باقی رہتا ہے، یہاں تک کہ بعد دفن بھی، یہاں تک کہ اپنے زائر کو پہچانتا ہے۔ (ا لتیسیر بشرح الجامع الصغیر، جلد 1، صفحہ 303، مطبوعہ: الریاض )
امام اہل سنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن بحوالہ تفسیر عزیزی فرماتے ہیں: ”مقامِ علیین بالائے ہفت آسمان ست وپائن آں متصل بسدرۃ المنتہی است و بالائے آں متصل بہ پایہ راست عرش مجید است و ارواحِ نیکاں بعد از قبض در آنجامی رسند و مقربان یعنی انبیاء و اولیاء دراں مستقرمی مانند، وعوام صلحاء ربرحسبِ مراتب در آسمان دنیا یا درمیان آسمان و زمین یا در چاہ زمزم قرار می دہند و تعلقے بقبر نیز ایں ارواح رامی باشد کہ بحضور زیارت کنندگان واقارب و دیگر دوستاں بر قبر مطلع و مستانس“ ترجمہ: مقام علیین ساتویں آسمانوں کے اوپر ہے، اس کا نچلا حصہ، سدرۃ المنتہی، اور اوپر والا، عرش مجید کے دائیں پائے سے ملا ہوا ہے، نیک لوگوں کی روحیں قبض ہونے کے بعد وہاں پہنچتی ہیں، مقربین یعنی انبیاء (علیہم الصلوۃ والسلام) و اولیاء (رحمہم اللہ) تو وہیں برقرار رہتے ہیں، جب کہ عام صالحین کو ان کے مراتب کے مطابق آسمانِ دنیا، یا آسمان و زمین کے درمیان، یا چاہ زمزم میں ٹھہراتے ہیں، ان روحوں کا تعلق قبروں کے ساتھ بھی قائم رہتا ہے، چنانچہ وہ زیارت کے لیے قبر پر آنے والے عزیز و اقارب، اور دوستوں سے آگاہ ہوتے ہیں، اور ان سے انس حاصل کرتے ہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 29، صفحہ 104 تا 105، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مردے کو اپنے عزیز کے قبر پر آنے سے انس بھی حاصل ہوتا ہے۔ چنانچہ حدیث پاک میں ہے
” وعن عمرو بن العاص قال لابنه وهو في سياق الموت: إذا أنا مت فلا تصحبني نائحة ولا نار فإذا دفنتموني فشنوا علي التراب شنا ثم أقيموا حول قبري قدر ما ينحر جزور ويقسم لحمها حتى أستأنس بكم وأعلم ماذا أراجع به رسل ربي“
ترجمہ: روایت ہے حضرت عمرو ابن عاص سے، کہ انہوں نے اپنے فرزند سے بحالت قرب موت فرمایا: جب میں مرجاؤں تو میرے ساتھ نہ کوئی نوحہ والی جائے، اورنہ آگ، پھرجب تم مجھے دفن کرو، تو مجھ پر آہستہ آہستہ مٹی ڈالنا، پھر میری قبر کے ارد گرد اتنی دیرتک کھڑے رہنا، جتنی دیر میں اونٹ ذبح کرکے، اس کا گوشت بانٹ دیا جاتا ہے، تاکہ میں تم سے اُنس حاصل کروں، اور جان لوں کہ میں اپنے رب تعالی کے فرشتوں کو کیا جواب دیتاہوں۔ (مشکاۃ المصابیح، جلد 1، صفحہ 537، حدیث: 1716، مطبوعہ: بیروت )
اس حدیث پاک کی شرح میں حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”اس وصیت سے تین مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ دفن کے وقت قبر پرمٹی آہستگی سے ڈالی جائے کیونکہ شن آہستہ مٹی ڈالنے کو کہتے ہیں گویا چھڑکنا۔ دوسرے یہ کہ بعد دفن قبر کے آس پاس حلقہ باندھ کر کھڑے ہونا سنت ہے۔ تیسرے یہ کہ میت حاضرین کو جانتا پہنچانتا ہے اور ان کی موجودگی سے اس کی وحشت قبر دور ہوتی ہے، اُنس حاصل ہوتاہے۔“ (مراۃ المناجیح، جلد 2، صفحہ 497، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
امام اہل سنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن سے سوال ہوا: ”قبر پر کوئی شخص جائے، اس کا علم میّت کو ہوتا ہے؟“ تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: "قبر پر آنے والے کو میّت دیکھتا ہے۔ ا س کی بات سنتا ہے۔ اگر زندگی میں پہچانتا تھا، اب بھی پہچانتا ہے، اگر اس کا عزیز یا دوست ہے تو اس کے آنے سے انس حاصل کرتا ہے۔ یہ سب باتیں احادیث، اقوال ائمہ میں مصرح اور اہلسنت کا اعتقاد ہیں۔" (فتاوی رضویہ، جلد 9، صفحہ 658، 659، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مزید ایک مقام پر فرماتے ہیں: "بلاشبہہ اس صور ت میں جس جس کے لیے جدا فاتحہ پڑھے گا اسے ثواب زائد پہنچے گا اور فرحت زیادہ ہوگی، اور والدین و اعزّہ کی قبر پر جدا جدا جانے سے انس حاصل ہوگا جیسے حیات میں۔" (فتاوی رضویہ، جلد 9، صفحہ 524، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4789
تاریخ اجراء: 09 رمضان المبارک1447ھ/27 فروری 2026ء