logo logo
AI Search

مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

میت مسجد سے باہر رکھ کر اس کی نماز جنازہ مسجد میں ادا کرنے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

محراب کے قریب کھڑکی کھول دی جائے، اور میت باہر کی جانب رکھی ہو، اور امام اور دیگر نمازی مسجد میں کھڑے ہو کر نماز جنازہ پڑھیں، تو کیا اس کی اجازت ہے؟

جواب

مسجد میں نماز جنازہ، مطلقا مکروہ تحریمی ہے، چاہے جنازہ مسجد کے اندر ہو، اور نمازی باہر، یا نمازی کُل یا کچھ، مسجد کے اندر ہوں، اور جنازہ باہر۔ سننِ ابی داؤد میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: "من صلى على جنازة في المسجد فلا شيء له" ترجمہ: جس نے مسجد میں میت پر نمازِ جنازہ پڑھی، اس کے لیے کوئی اجر نہیں۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الجنائز، جلد 2، صفحہ 101، مطبوعہ: کراچی)

عمدۃ القاری میں علامہ بدر الدین عینی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں: "أنه صلى اللہ عليه و سلم لم يفعل مجرد الصلاة على النجاشي في المسجد، مع كونه غائبا، فدل على المنع و إن لم يكن الميت في المسجد" ترجمہ: حضور صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے نجاشی کی محض نمازِ جنازہ بھی مسجد میں نہ کی، باوجود اس کہ کے ان کی میت غائب تھی، تو حضور صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کے اس فعل مبارک نے، مطلق منع پر دلالت کیا، چاہے میت مسجد کے اندر نہ ہو۔ (عمدۃالقاری، باب الصفوف على الجنازة، جلد 8، صفحہ 117، دارالفکر، بیروت)

مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھنے کے مطلقاً مکروہِ تحریمی ہونے کے متعلق تنویر الابصار مع الدر المختارمیں ہے"و كرهت تحريما ۔۔۔ في مسجد جماعة هو أي الميت فيه وحده أو مع القوم و اختلف في الخارجة عن المسجد وحده أو مع بعض القوم، و المختار الكراهة مطلقا" ترجمہ: مسجدِ جماعت میں نمازِ جنازہ مکروہِ تحریمی ہے، چاہے میت اکیلی مسجد میں ہو، یا پڑھنے والوں کے ساتھ ہو۔ اور اس میت کے بارےاختلاف ہے، جو تنہا مسجد سے باہر ہو، یا بعض لوگوں کے ساتھ باہر ہو۔ اور مختاریہ ہے کہ کراہت مطلق ہے۔ (تنویر الابصار مع الدر المختار، جلد 3، صفحہ 148، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے "مسجد میں نماز جنازہ مطلقاً مکروہِ تحریمی ہے، خواہ میّت مسجد کے اندر ہو یا باہر، سب نمازی مسجد میں ہوں یا بعض۔" (بہار شریعت، ج 1، حصہ 4، ص 840، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا ذاکر حسین عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4906
تاریخ اجراء: 29 شوال المکرم 1447ھ / 18 اپریل 2026ء