logo logo
AI Search

میت کو بوسہ دینے، دو بار غسل اور بال کاٹنے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

میت کو بوسہ دینے، دو بار غسل دینے اور غیر ضروری بال کاٹنے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا تعلق مجلسِ تجہیز و تکفین سے ہے، مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ

(1) میت کو غسل دینے سے پہلے یا بعد میں میت کی پیشانی پر اس کی اولاد یا قریبی رشتہ دار جیسے شوہر وغیرہ بوسہ دے سکتے ہیں یا نہیں؟

(2) میت کو دو بار غسل دینا کیسا ہے اور اگر پہلے غسل کے بعد اس سے نجاست ظاہر ہو، تو کیا پھر سے غسل دینا ہو گا؟

(3) میت کو غسل دیتے وقت غیر ضروری بال کاٹنے کا کیا حکم ہے ؟

جواب

(1) میت کو اس کی اولاد وغیرہ محارم بوسہ دے سکتے ہیں، شرعاً اس میں حرج نہیں، لیکن غیر محارم میت کو بوسہ نہیں دے سکتے، کہ اجنبی مرد و عورت کو چھونا منع ہے، یونہی شوہر بھی مردہ بیوی کو بلاحائل چھو نہیں سکتا، بوسہ نہیں دے سکتا، البتہ دیکھ سکتا ہے۔

میت کو بوسہ دینے کا ثبوت احادیث طیبہ سے بھی ہے۔ چنانچہ سنن ترمذی میں ہے : ’’ان النبي صلى الله عليه وسلم قبل عثمان بن مظعون وهو ميت وهو يبكي‘‘ ترجمہ: بیشک حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالی عنہ کو اس حال میں بوسہ دیا، جب وہ وفات پا چکے تھے اور اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم رو رہے تھے۔ (سنن ترمذی،ابواب الجنائز، باب ما جاء فی تقبیل المیت، جلد 1،صفحہ 193، مطبوعہ کراچی)

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضور علیہ السلام کو بوسہ دیا۔ مسند احمد بن حنبل میں ہے: ’’ان ابا بكر قبل النبی صلى الله عليه وسلم وهو ميت‘‘ ترجمہ: بیشک حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں بوسہ دیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پردہ فرما گئے۔ (مسند احمد بن حنبل،جلد 40، صفحہ 323، مطبوعہ بیروت)

مراقی الفلا ح شرح نور الایضاح میں ہے: ’’ولا باس بتقبيل الميت للمحبة والتبرك‘‘ ترجمہ : محبت اور برکت کی وجہ سے میت کو بوسہ دینے میں کوئی حرج نہیں ۔ (مراقی الفلاح مع حاشیہ طحطاوی، صفحہ 215، مطبوعہ کراچی)

فتاوی رضویہ میں ہے: ’’شوہر کو اپنی زنِ مردہ کا بدن چھونا، جائز نہیں، دیکھنے کی اجازت ہے۔ کمانص علیہ فی التنویر والدر و غیر ھما۔ اجنبی کو دیکھنے کی بھی اجازت نہیں‘‘۔  (فتاوی رضویہ، جلد 9، صفحہ 138، رضا فاؤنڈیشن، لاهور)

 (2) جب کوئی شخص فوت ہو جائے، تو اسے ایک ہی غسل دیا جائے، دوسری بار غسل دینا فضول ہے، کیونکہ ایک بار غسل دینے کے بعد دوبارہ غسل کی مطلقاً کسی حال میں حاجت نہیں، حتی کہ اگر بعدِ غسل کوئی نجاست بر آمد ہو، تو بھی نئے سرے سے غسل نہ دیا جائے، بلکہ صِرف اس نجاست کو دھو دیا جائے، یہی کافی ہے۔

 اللباب فی شرح الکتاب میں ہے: ’’فان خرج منہ شیء غسلہ لازالۃ النجاسۃ عنہ ولا یعید غسلہ ولا وضوءہ، لانہ لیس بناقض فی حقہ‘‘ ترجمہ: غسل کے بعد میت کے بدن سے کوئی چیز خارج ہو، تو اسے دھو دیا جائے تاکہ اس سے نجاست زائل ہو جائے اور وضو و غسل کا اعادہ نہیں کیا جائے گا، کیونکہ یہ میت کے حق میں ناقض نہیں‘‘۔ (اللباب فی شرح الکتاب، کتاب الصلوۃ، باب الجنائز، جلد 1، صفحہ 127، مطبوعہ بیروت)

 سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ مختلف سوالات کے جواب میں فرماتے ہیں:’’ غسل ایک دیا جائے گا، ۔۔۔غسل دوبارہ دینے کی مطلقاً کسی حال میں حاجت نہیں، اگر نجاست بر آمد ہو، دھو دی جائے‘‘۔ (فتاوی رضویہ، جلد 9، صفحہ 98، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

صدر الشریعہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ سے پوچھا گیا کہ بعض کہتے ہیں: میت کو تین غسل دینے چاہئیں، یہ صحیح ہے یا غلط؟ تو جواباً ارشاد فرمایا: تین مرتبہ ہر جگہ سے پانی بہایا جانا سنت ہے اور یہ ایک غسل ہے۔ تین غسل دینے کا اگر یہی مطلب ہے، تو خیر، ورنہ لغو‘‘۔ (فتاوی امجدیہ،، حصہ 1، صفحہ 331، مکتبہ رضویہ، آرام باغ، کراچی)

(3) میت کے بال کاٹنا مکروہ تحریمی، ناجائز و گناہ ہے کہ یہ زینت ہے اور میت زینت کا محل نہیں ہے۔

 بدائع الصنائع میں ہے:’’لا تقص أظفاره وشاربه ولحيته، ولا يختن ولا ينتف إبطه ولا تحلق عانته، ولأن ذلك يفعل لحق الزينة والميت ليس بمحل الزينة، ولهذا لا يزال عنه شيء‘‘ ترجمہ : میت کے ناخن اور داڑھی مونچھوں کے بال نہ تراشے جائیں، نہ ختنہ کیا جائے، نہ بغل کے بال اکھاڑے جائیں اور نہ ہی موئے زیر ناف کاٹے جائیں، کیونکہ یہ کام میت کے حق میں زینت ہیں، اور میت زینت کا محل نہیں، اسی لئے اس سے کوئی چیز زائل نہیں کی جائے گی‘‘۔ (بدائع الصنائع، کتاب الجنائز، فصل بیان کیفیۃ الغسل للمیت، جلد 2، صفحہ 26، مطبوعہ کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے: ’’میت کی داڑھی یا سر کے بال میں کنگھا کرنا یا ناخن تراشنا یا کسی جگہ کے بال مونڈنا یا کترنا یا اکھاڑنا، ناجائز و مکروہ تحریمی ہے ۔‘‘ (بہار شریعت، حصہ 4، صفحہ 816، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-7395
تاریخ اجراء: 19 رجب المرجب 1445ھ / 31 جنوری 2024ء