جنازہ پڑھانے کا حق کس کو حاصل ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جنازہ پڑھانے کا حق
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جنازہ پڑھانا کس کا حق ہے؟
جواب
نماز جنازہ میں امامت کا حق بادشاہ اسلام کو ہے، پھر قاضی کو، پھر امام جمعہ کو، پھر محلے کی مسجد کے امام کو، پھر ولی کو۔ محلے کی مسجد کے امام کو ولی پر مقدم کرنا مستحب ہے، جبکہ وہ امام ولی سے افضل ہو، ورنہ ولی ہی بہتر ہے۔
غنیۃ المستملی میں علامہ ابراہیم حلبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
و الاولی بالاقامۃ فیھا السلطان، ثم القاضی، ثم امام الجمعۃ، ثم امام الحی، ثم الولی علی ترتیب الارث
ترجمہ: نماز جنازہ قائم کرنے کا زیادہ حقدار سلطان ہے، پھر قاضی، پھر امام جمعہ، پھر محلے کی مسجد کا امام، پھر وراثت کی ترتیب کے اعتبار سے ولی۔ (غنیۃ المستملی، فصل فی الجنائز، صفحہ 503، مطبوعہ: کوئٹہ)
فتاوی رضویہ میں اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ (سال وفات: 1340ھ) اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: نماز جنازہ ولی میت کا حق ہے، دوسرا کہ اس کے اذن کا محتاج ہے، اگر بے اس کے اذن کے پڑھائے، اسے اعادہ نماز جائز ہے، حالانکہ نماز جنازہ کی تکرار مشروع نہیں۔ نکاح خوانی کا قاضی کوئی عہدہ شرعی نہیں، وہ بے اذن ولی ہرگز نہیں پڑھا سکتا۔ یونہی جامع مسجد کا امام، اگر میت جمعہ وغیرہ اس کے پیچھے نہ پڑھتا ہو یا وہ علم و فضل میں ولی میت سے زائد نہ ہو۔ اسی طرح امام الحی یعنی مسجد محلہ کا امام، ہاں اگر میت ان کے پیچھے نماز پڑھا کرتا تھا اور یہ فضل دینی میں ولی سے زائد ہیں، تو بے اذن ولی پڑھا سکتے ہیں اور اصحاب ولایت عامہ مثلا سلطان اسلام یا اس کا نائب، حاکم شہر یا اس کا نائب، قاضی شرع جسے سلطان اسلام نے فصل مقدمات پر مقرر کیا یا اس کا نائب، یہ لوگ ولی پر مقدم ہیں، انھیں ولی سے اجازت لینے کی مطلقا حاجت نہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 9، صفحہ 174، مطبوعہ، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
بہار شریعت میں مفتی محمد امجد علی اعظمی (سال وفات: 1367ھ) فرماتے ہیں: نماز جنازہ میں امامت کا حق بادشاہ اسلام کو ہے، پھر قاضی، پھر امام جمعہ، پھر امام محلہ، پھر ولی کو، امام محلہ کا ولی پر تقدیم بطور استحباب ہے اور یہ بھی اس وقت کہ ولی سے افضل ہو، ورنہ ولی بہتر ہے۔ (بہار شریعت، جلد 1 حصہ 4، صفحہ 836، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4700
تاریخ اجراء: 11شعبان المعظم1447ھ / 31جنوری2026ء