جنازے کے ساتھ ڈھول بجانا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جنازے کے ساتھ ڈھول بجانے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میت کو جنازہ گاہ کی طرف لے جاتے ہوئے ڈھول اور قوالی کے ساتھ لے جایا جاتا ہے، اس کا شرعی حکم کیا ہے؟
جواب
ڈھول وغیرہ آلات موسیقی بجانا، ناجائز و گناہ ہے، اور میت کوجنازہ گاہ کی طرف لے جاتے ہوئے، بجانے میں ان کی شناعت (قباحت) مزید بڑھ جائے گی، کہ یہ موقع تو گناہوں سے توبہ کرنے، اور اللہ تبارک و تعالی کی رحمت کا نزول مانگنے کا ہے، نہ کہ گناہ کرنے اوران کی وجہ سے لعنت کامستحق ہونے کا۔
ڈھول کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”ان اللہ حرم علیکم الخمر والمیسر والکوبۃ“
ترجمہ: ﷲ تعالیٰ نے تم پر شراب، جوا اور کوبہ (ڈھول) حرام کیا ہے۔ (السنن الکبری للبیھقی، جلد 10، صفحہ 360، حدیث: 20943، دار الکتب العلمیۃ، بیروت(
امام اہل سنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”ڈھول بجانا حرام ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 491، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مزید فرماتے ہیں: ”قوالی مع مزامیر سننا کسی شخص کو جائز نہیں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 509، 510، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
شیخ الحدیث علامہ عبد المصطفی اعظمی علیہ الرحمۃ اپنی کتاب"جنتی زیور"میں ذکر کرتے ہیں: ” گناہوں کی نحوست سے آدمی کو دنیا میں بھی طرح طرح کے نقصان پہنچتے رہتے ہیں جن میں سے چند یہ ہیں"۔۔۔(۱۲)اﷲ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں' اور اس کے نبیوں' اور اس کے نیک بندوں کی لعنتوں میں گرفتار ہو جانا۔(۱۳)چہرے سے ایمان کا نور نکل جانے سے چہرے کا بے رونق ہو جانا۔(۱۴)شرم و غیرت کا جاتا رہنا۔(۱۵)ہر طرف سے ذلتوں' رسوائیوں اور ناکامیوں کا ہجوم ہو جانا۔(۱۶)مرتے وقت منہ سے کلمہ نہ نکلنا وغیرہ وغیرہ۔" (جنتی زیور، ص 143، مکتبۃ المدینہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا عبدالرب شاکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4692
تاریخ اجراء: 10 شعبان المعظم 1447ھ/30 جنوری 2026ء