logo logo
AI Search

عورت کو کفن سے پہلے سوٹ پہنانا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عورت کو سنت کفن دینے سے پہلے سوٹ پہنانے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

عورت کے کفن میں سنت کپڑے پہنانے سے پہلے سوٹ پہنانا ہمارے یہاں ضروری سمجھا جاتا ہے، اور اس کے لیے مہنگے اور اچھی کوالٹی کے کپڑے لائے جاتے ہیں، اگر نہ پہنائے جائیں، تو طرح طرح کی باتیں کی جاتی ہیں، کہ لڑکی کو بغیر کپڑوں کے دفنا دیا، کیا یہ پہنانا صحیح ہے؟

جواب

عورت کے لیے کفن میں سنت فقط پانچ کپڑے ہیں: (1) لفافہ (2) اِزار (3) قمیص (4) اوڑھنی (5) سینہ بند۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں عورت کو کفن سنت دینے سے پہلے سوٹ پہنانا درست نہیں ہے کہ یہ خلاف سنت و اسراف ہے اور جس رسم میں کسی خلاف شرع کام کا ارتکاب کرنا پڑے تو لوگوں کی باتوں کی وجہ سے اس رسم کو اپنانے کی اجازت نہیں ہے اور اس سے ہر ایک کا بچنا ضروری ہے، نیز اس رسم کو نہ کرنے پر لوگوں کا طرح طرح باتیں کرنا بھی درست نہیں ہے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے

و کفن المراۃ سنۃ درع و ازار و خمار و لفافۃ و خرقۃ یربط بھا ثدیاھا

ترجمہ: عورت کے کفن کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ قمیص، ازار، اوڑھنی، لفافہ اور سینہ بند ہو۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 1، صفحہ 160، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے مرد کے لیے سنت تین کپڑے ہیں۔ (۱) لفافہ (۲) اِزار (۳) قمیص۔ اور عورت کے لیے پانچ۔ تین یہ اور (۴) اوڑھنی (۵) سینہ بند۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 817، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

مبسوطِ سرخسی میں ہے

و تكفن المرأة في خمسة أثواب والرجل في ثلاثة أثواب هكذا قال علي - رضي اللہ عنه -: كفن المرأة خمسة أثواب و كفن الرجل ثلاثة أثواب و لا تعتدوا إن اللہ لا يحب المعتدين

ترجمہ: اور عورت کو پانچ کپڑوں میں اور مرد کو تین کپڑوں میں کفن دیا جائے گا، اسی طرح حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ عورت کا کفن پانچ کپڑے اور مرد کا کفن تین کپڑے ہیں، اور تم حد سے نہ بڑھو کہ اللہ تعالی حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (المبسوط للسرخسی، جلد 2، صفحہ 72، مطبوعہ: بیروت)

رسم و رواج کے جواز وعدم جواز کے حوالے سے اصول بیان کرتے ہوئے امام اہل سنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: رسم کااعتبار جب تک کسی فساد عقیدہ پر مشتمل نہ ہو اصل رسم کے حکم میں رہتاہے اگررسم محمودہے محمود ہے، مذموم ہو مذموم ہے، مباح ہو مباح ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 119، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

مندرجہ بالا جزئیہ نقل کرنے کے بعد فتاوی بریلی شریف میں ہے اس عبارت سے بھی معلوم ہوا کہ رسمیں بعض اچھی ہیں بعض بری اور بعض ایسی ہیں کہ نہ اچھی ہیں نہ بری، ان کا حاصل یہ ہے کہ جو رسم منکراتِ شرعیہ سے خالی ہو یعنی اس میں شرع کے خلاف کوئی عمل نہ ہو اور لوگ اسے واجب مسنون سمجھ کر نہ کرتے ہوں تو جائزو مباح ہے اور جو ایسا نہ ہو وہ ضرور ناجائز و ممنوع ہے۔ (فتاوی بریلی، صفحہ 328، زاویہ پبلشرز، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4683
تاریخ اجراء: 08 شعبان المعظم1447ھ / 28 جنوری2026ء