logo logo
AI Search

میت کے سرہانے قرآن پاک پڑھنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

میت کے پاس قرآن پاک پڑھنا کیسا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ میت کے سرہانے قرآن پاک پڑھنا کیسا؟

جواب

میت کو غسل دینے کے بعد اس کے پاس قراءت کرنا بلا کراہت جائز ہے البتہ غسل سے پہلے اگر اس کا پورا بدن کسی کپڑے وغیرہ سے ڈھکا ہوا نہ ہو تو اس کے پاس تلاوت کرنا مکروہ ہے اور بدن کپڑے سے ڈھانپا ہوا ہو یا دور بیٹھ کر قراءت کریں توبلاکراہت جائز ہے۔

علامہ بدر الدین عینی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

و کرہ مالک قراءۃ القرآن عندہ و أصحابنا کرھوا القراءۃ بعد موتہ حتی یغسل

ترجمہ: امام مالک رحمہ اللہ کے ہاں حالت نزع والے کے پاس قراءت مکروہ ہے جبکہ ہمارے اصحاب کے ہاں موت کے بعد مکروہ ہے حتی کہ اسے غسل دے دیا جائے۔ (البنایہ شرح الھدایہ، جلد 3، صفحہ 178، دار الکتب العلمیۃ)

مراقی الفلاح میں ہے:

(و تکرہ قراءۃ القرآن عندہ حتی یغسل) تنزیھاً للقراءۃ من نجاسۃ الحدث

ترجمہ: میت کے پاس قراءت قرآن مکروہ ہے حتی کہ اسے غسل دے دیا جائے، قراءت کو حدث کی نجاست سے بچانے کےلیے۔

اس کے تحت حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:

و کذا کراھۃ القراءۃ عندہ قبل الغسل لجواز أن یکون ذلک لعدم خلوہ عن نجاسۃ غالباً و الغالب کالمحقق

ترجمہ: اسی طرح غسل سے قبل میت کے پاس قرآن کی قراءت کا مکروہ ہونا (موت کے حدث ہونے کے مخالف نہیں ) اس لیے کہ میت نجاست سے غالباً خالی نہیں ہوتی، اور غالب متحقق کی طرح ہے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، صفحہ 564، دار الکتب العلمیۃ)

رد المحتار میں ہے:

و ذكر ط أن محل الكراهة إذا كان قريبا منه، أما إذا بعد عنه بالقراءة فلا كراهة. اهـ قلت: و الظاهر أن هذا أيضا إذا لم يكن الميت مسجى بثوب يستر جميع بدنه لأنه لو صلى فوق نجاسة على حائل من ثوب أو حصير لا يكره فيما يظهر

ترجمہ: طحطاوی نے ذکر کیا کہ محلِ کراہت تب ہے جب قاری میت کے قریب ہو، جب اس سے دور ہو تو کراہت نہیں۔ میں کہتا ہوں: ظاہر یہ ہے کہ قریب ہونے کی صورت میں بھی کراہت اس وقت ہے جب میت کا پورا بدن کسی کپڑے سے ڈھکا ہوا نہ ہو، اس لیے کہ اگر کوئی نجاست کے اوپر نماز پڑھے اور اس نجاست اور نمازی کے درمیان کوئی کپڑا یا چٹائی حائل ہو تو یہ مکروہ نہیں۔ (الدر المختار و رد المحتار، جلد 2، صفحہ 193، 194، دار الفکر)

بہارِ شریعت میں ہے: میّت کے پاس تلاوت قرآن مجید جائز ہے جبکہ اس کا تمام بدن کپڑے سے چھپا ہو۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، صفحہ 809، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0276
تاریخ اجراء: 30 جمادی الاخری 1445ھ /12 جنوری2024ء