logo logo
AI Search

میت کوغسل دینے والے پر غسل کرنے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کیا میت کو غسل دینے والے پر بھی غسل لازم ہو جاتا ہے ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا میت کو نہلانے والے کا میت کو نہلانے کے بعد خود غسل کرنا ضروری ہے ؟ ایک شخص کا کہنا یہ ہے کہ ضروری ہے، کیونکہ ابنِ ماجہ شریف کی حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ ’’میت کوغسل دینے والا بھی غسل کرے۔‘‘ برائے کرم اس بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں۔

جواب

میت کو نہلانے کے بعد غسل کرنا ضروری نہیں، کیونکہ غسل صرف اُن صورتوں میں واجب ہوتا ہے، جب کوئی سببِ وجوب (مثلاً: احتلام ہونا، عورت کا حیض ونفاس سے پاک ہونا وغیرہ) پایا جائے، جبکہ میت کو نہلانا ان میں شامل نہیں، لہذا اس کی وجہ سے غسل بھی لازم نہیں۔ ہاں! اگر میت کےبدن سے نجاست وغیرہ نکل کر ہاتھ، بدن یا کپڑوں پر لگ جائے، تو اسے دھونے کا حکم ہے۔

میت کو نہلانے والے پر غسل کرنا لازم و ضروری نہیں۔ چنانچہ سنن دار قطنی اور السنن الکبری للبیہقی میں ہے:

”عن ابن عباس رضي اللہ عنه أنه قال: ليس عليكم ‌في ‌ميتكم ‌غسل إذا غسلتموه‘‘

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی، فرماتے ہیں کہ جب تم میت کو غسل دو، تو تم پر غسل کرنا لازم نہیں۔ (السنن الکبری للبیھقی، حدیث 6668، ص 3، ج 558، الناشر: دار الكتب العلميہ)

اس روایت کو نقل کرنے کے بعد امام ابوعبداللہ حاکم محمدبن عبداللہ بن محمدنیشاپوری علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:

’’هذا حديث صحيح على شرط البخاري ولم يخرجاه‘‘

ترجمہ: یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ (المستدرك على الصحيحين، تحت الحدیث 1426، ج 1، ص 543 ، بيروت)

مؤطا امام مالک میں ہے:

’’أن أسماء بنت عميس امرأة أبي بكر الصديق غسلت أبا بكر الصديق حين توفي ثم خرجت فسألت من حضرها من المهاجرين، فقالت: إني صائمة وإن هذا يوم شديد البرد، فهل علي من غسل؟ فقالوا: لا، قال محمد: و بهذا نأخذ لا بأس أن تغسل المرأة زوجها إذا توفي و لا غسل على من غسل الميت و لا وضوء إلا أن يصيبه شيء من ذلك الماء فيغسله‘‘

ترجمہ: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد آپ کی بیوی حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا آپ رضی اللہ عنہ کو غسل دینے کے بعد جب باہر آئیں، تو موجود مہاجرین میں سے کسی سے پوچھا کہ آج میرا روزہ ہے اور سردی بھی بہت زیادہ ہے، تو کیا مجھ پر غسل کرنا لازم ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا نہیں۔ امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا: اسی روایت سے ہم اس بات پر دلیل لاتے ہیں کہ شوہر کے انتقال کے بعد عورت کا شوہر کو غسل دینے میں کوئی حرج نہیں۔ میت کو غسل دینے والے پر وضو اور غسل کرنا لازم نہیں، ہاں! اگر غسل دیتے ہوئے کوئی چیز لگ جائے، تووہ اس کو دھولے۔ (مؤطا امام مالک، جلد 02، صفحہ 312، الناشر الإمارات)

المبسوط للسرخسی میں ہے:

’’و لا يجب عليه بتغميض الميت و غسله و حمله وضوء و لا غسل إلا أن يصيب يده أو جسده شيء فيغسله‘‘

ترجمہ: میت کی آنکھیں بند کرنے والے، میت کو غسل دینے والے اور جنازہ اٹھانے والے پر وضو اور غسل کرنا ضروری نہیں۔ ہاں! اگر غسل دیتے ہوئے اس کے ہاتھ یا بدن کو کوئی چیز لگ جائے، تو وہ اس کو دھولے۔ (المبسوط للسرخسی، باب الوضوء و الغسل، جلد 1، صفحہ 82، دار المعرفہ، بیروت)

اور جہاں تک سوال میں ذکر کردہ حدیثِ پاک کا تعلق ہے، تو یہ حدیث ابنِ ماجہ اور اس کے علاوہ بھی کئی کتبِ احاديث میں موجود ہے، لیکن علماء نے اس کی مختلف توجیہات بیان کی ہیں، جو درج ذیل ہیں:

(1) یہ حدیث منسوخ ہے اور اس کی ناسخ وہ روایت ہے، جو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہےکہ میت کو غسل دینے کے بعد تم پر غسل کرنا ضروری نہیں۔

(2) اکثر علماء کے نزدیک حدیث میں موجود حکم وجوبی نہیں، بلکہ استحبابی ہے، یعنی غسال کے لیے غسل کرنا مستحب ہے، اگر نہیں کرے گا، تو گنہگار نہیں ہوگا۔

(3) یہاں غسل سے مراد پورے بدن کا نہیں، بلکہ صرف ہاتھوں کودھونا مراد ہے۔

سوال میں ابن ماجہ کی جس روایت کی طرف اشارہ کیا گیا، وه روایت یہ ہے:

”قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: ‌من ‌غسل ‌ميتا، فليغتسل‘‘

ترجمہ: نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو میت کو غسل دے، تو اسے چاہیے کہ وہ خود بھی غسل کرے۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث 1463، ج 1، ص 470، الناشر: دار إحياء الكتب العربيہ)

مذکورہ حدیث پاک کی توجیہات کے بالتر تیب جزئیات:

(1)مذکورہ حدیث منسوخ ہے۔ چنانچہ مرقاۃ المفاتیح میں ہے: ’’قال أبو داود: وهذا منسوخ ‘‘ ترجمہ: امام ابو داؤد علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ یہ حدیث منسوخ ہے۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، تحت الحدیث 541، ج 2، ص 488، بيروت)

اسی طرح التلخيص الحبير فی تخريج احاديث الرافعی الكبير میں ہے:

’’وقد أجاب أحمد عنه بأنه منسوخ وكذا جزم بذلك أبو داودويدل له ما رواه البيهقي عن الحاكم‘‘

ترجمہ: امام احمد نے اس حدیث کا یہ جواب دیا کہ یہ حدیث منسوخ ہے اور اسی طرح امام ابو داؤد علیہ الرحمۃ نےاسی پر جزم کیا اوراس پر وہ روایت دلالت کرتی ہے جس کو امام بیہقی علیہ الرحمۃ نے امام حاکم سےروایت کیا۔ (التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير، جلد 01، صفحہ 372، بیروت)

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما والی روایت ناسخ ہے۔ چنانچہ البدر المنیر فی تخريج الاحاديث والاثار الواقعۃ فی الشرح الكبيرمیں ہے:

’’وناسخه حدیث ابن عباس: «لیس علیكم في ميتكم غسل إذا غسلتموه وحسبكم ان تغسلوا أيديكم‘‘

ترجمہ: اس روایت کی ناسخ، حدیثِ ابن عباس ہے (جس کے الفاظ یہ ہیں) جب میت کو غسل دو، تو تم پر غسل کرنا لازم نہیں، تمہارا اپنے ہاتھوں کو دھونالینا کافی ہے۔ (البدر المنير في تخريج الأحاديث والأثار الواقعة في الشرح الكبير، جلد02 ، صفحہ 541، مطبوعہ الرياض)

(2) حدیث میں موجود حکم وجوبی نہیں، بلکہ استحبابی ہے۔ چنانچہ جامع الاحادیث اور مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

’’والأمر للاستحباب وعليه الأكثر للخبر الصحيح” ليس عليكم في ميتكم غسل إذا غسلتموه ‘‘

ترجمہ:  یہاں پر غسل کرنے کا جو حکم ہے استحباب کے لیے ہے اور یہی اکثر علماء (کا مؤقف) ہے، کیونکہ صحیح حدیث میں ہےکہ جب میت کو غسل دو تو تم پر غسل کرنا لازم نہیں۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، حدیث 541، جلد02، صفحہ 488، بيروت، لبنان)

اعلی حضرت علیہ الرحمۃ فتاوی رضویہ میں لکھتے ہیں: ”میت کو نہلا کر غسل کرنا بھی مستحب ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 02، صفحہ 45، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

(3) ہاتھ دھونا مراد ہے۔ چنانچہ التيسير، فيض القدير شرح الجامع الصغير میں ہے:

”أو المراد غسل الأيدي۔۔۔ قال ابن حجر:  هذا أحسن ما جمع به بين مختلف هذه الأحاديث‘‘

ترجمہ: یا دونوں ہاتھوں کا دھونا مرادہے۔علامہ ابن حجر علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ مختلف احادیث کے درمیان کی گئی تطبیق میں سے یہ تطبیق زیادہ اچھی ہے۔ (ملتقطاً فيض القدير شرح الجامع الصغير، جلد 06، صفحہ 184، الناشر: المكتبة التجارية الكبرى)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: GUJ-0058
تاریخ اجراء: 06 جمادی الاولٰی1447ھ30 اکتوبر2025ء