logo logo
AI Search

نماز جنازہ پڑھانے کا حق دار کون ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

میت کے بھائی اور بیٹے میں سے جنازہ پڑھانے کا حق کس کو ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ میت کا بھائی اور بیٹا دونوں موجود ہوں تو جنازہ پڑھانے کا حق کس کو حاصل ہوگا؟

جواب

میت کا بیٹا اور بھائی دونوں موجود ہوں، اور بیٹا عاقل بالغ ہو، تو جنازہ پڑھانے کا حق بیٹے کو حاصل ہوگا، وہ خود پڑھائے یا کسی اور سے پڑھوائے۔ درِّ مختار میں ہے ”الولي بترتيب عصوبة الاِ نكاح“ ترجمہ: نماز جنازہ میں امامت کے لئے ولی کی ترتیب، نکاح میں عصبہ کی ترتیب کے اعتبار سے ہے۔

نابالغ کو ولایت حاصل نہیں ہوگی۔ چنانچہ مذکورہ عبارت کے تحت ردُّ المحتار میں ہے

”ولي الميت الذكر البالغ العاقل فلا ولاية لامرأة وصبي ومعتوه“

ترجمہ: میت کا ولی جو مرد عاقل بالغ ہو، لہذا عورت، بچے اور معتوہ  کو جنازہ پڑھانے کی ولایت حاصل نہیں ہوگی۔ (رد المحتار، جلد 3، صفحہ 141، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہارِ شریعت میں ہے "ولی سے مراد میت کے عصبہ ہیں، اور نماز پڑھانے میں اولیا کی وہی ترتیب ہے جو نکاح میں ہے ۔۔۔ میت کے ولی اقرب اور ولی ابعد دونوں موجود ہیں تو ولی اقرب کو اختیار ہے کہ ابعد کے سوا کسی اور سے پڑھوادے، ابعد کو منع کرنے کا اختیار نہیں۔" (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ4، صفحہ 836، 837، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

بہارِ شریعت میں ہے ”یہاں (یعنی نکاح میں) بھی وہی ترتیب ملحوظ ہے جو وراثت میں معتبر ہے یعنی سب میں مقدّم بیٹا، پھر پوتا، پھر پرپوتا اگرچہ کئی پشت کا فاصلہ ہو، یہ نہ ہوں تو باپ، پھر دادا، پھر پردادا، وغیرہم اصول اگرچہ کئی پشت اوپر کا ہو، پھر حقیقی بھائی۔۔۔الخ“ (بہارِ شریعت، جلد 2، حصہ7، صفحہ 43، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد سعید عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4648
تاریخ اجراء:20 رجب المرجب1447ھ/10 جنوری 2026ء