بیوی کا شوہر کو اپنی میت کو غسل دینے کی وصیت کرنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بیوی کا شوہر کے لئےاپنی میت کو غسل دینے کی وصیت کرنا کیسا ؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر کوئی خاتون یہ وصیت کر جائے کہ اس کا شوہر اس کی میت کو غسل دے ،تو کیا اس کی وصیت کو پورا کیا جائے گا؟ایسی وصیت کی صورت میں شوہر اپنی بیوی کی میت کو غسل دے سکتا ہے یا نہیں؟
جواب
بیوی کی وفات سے نکاح ختم ہوجاتا ہے لہٰذاشرعی مسئلہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو غسل میت نہیں دے سکتا ،اس لیے بیوی کایہ وصیت کرنا کہ مرنے کے بعد اس کا شوہراس کی میت کو غسل دے ،شرعاً درست نہیں ۔ اگر بیوی نے یہ وصیت کربھی دی تو اس پر عمل نہیں کیا جائے گا اور اس صورت میں بھی شوہربیوی کے انتقال کے بعداس کی میت کو غسل نہیں دے سکتا۔
صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمہ اللہ تحریرفرماتے ہیں: ”عوام میں جو یہ مشہور ہے کہ شوہر عورت کے جنازہ کو نہ کندھا دے سکتا ہے نہ قبر میں اتار سکتا ہے نہ مونھ دیکھ سکتا ہے، یہ محض غلط ہے صرف نہلانے اور اس کے بدن کو بلاحائل ہاتھ لگانے کی ممانعت ہے۔“ (بہارِ شریعت ، جلد1،صفحہ 813،مکتبۃ المدینہ ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب:مولانا فرحان احمد عطاری مدنی
فتوی نمبر:Web-2317
تاریخ اجراء:21رجب المرجب1446ھ/22جنوری 2025ء