logo logo
AI Search

قبرستان بھر جانے پر پرانی قبر میں دفن کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

دوسرا قبرستان دور ہونے کی وجہ سے قریبی قبرستان میں پرانی قبر میں دفن کرنا کیسا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے علاقے کا قبرستان قبروں سے مکمل بھر چکا ہے، مزید نئی قبریں بنانے کی گنجائش نہیں ہے، دیگر قبرستانوں میں جگہ موجود ہے، لیکن لوگ فقط اس وجہ سے کہ دور نہ جانا پڑے اور پھر اِس قبرستان میں ان کے پہلے سے رشتہ دار مدفون ہیں، تو قریب کی سہولت کی خاطر اسی قبرستان میں کوئی پرانی قبر کو کھول کر اس میں اپنی میت کو دفنا دیتے ہیں۔ شرعی رہنمائی فرما دیں کہ اس طرح کرنا، جائز ہے؟

جواب

کسی مسلمان کو دفن کرنے کے بعد اس کی قبر کو بلا اجازتِ شرعی کھولنا سخت ناجائز و حرام ہے، کیونکہ یہ ایک رازِ الہٰی ہے کہ اللہ پاک نے اس بندے کے ساتھ جزا یا سزا کا کیا معاملہ فرمایا ہے، تو قبر کو کھولنا گویا کہ اللہ پاک کے راز کو کھولنے کی طرح ہے، نیز میت کا جسم اگرچہ بالکل خاک ہوچکا ہو، پھر بھی اس کی عزت و تکریم باقی رہتی ہے اور قبر کھولنے میں اس میت کی توہین، اس کو اذیت دینا ہے، حالانکہ حدیثِ پاک میں تو قبر پر پاؤں رکھنے، بیٹھنے سے بھی منع کیا گیا ہے اور دوسرا قبرستان دور ہونا کوئی عذر نہیں ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں لوگوں کا پرانی قبر کھول خواہ پرانی قبر میت کے عزیز یا قریبی کی ہو یا کسی اجنبی کی ہو ، پہلی میت کا جسم سلامت ہو یا خاک ہوگیا، بہر صورت پرانی قبر میں تدفین کرنا ہرگز جائز نہیں ہے۔

مسلمان کی قبر کا احترام بیان کرتے ہوئے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:

لأن أمشي على جمرة، أو سيف، أو أخصف نعلي برجلي، أحب إلي من أن أمشي على قبر مسلم

ترجمہ: میں انگارے یا تلوار پر چلوں یا اپنا جوتا پاؤں کے ساتھ سی لوں، یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں کسی مسلمان کی قبر پر چلوں۔ (سنن ابن ماجہ، جلد 1، صفحہ 499، مطبوعہ دار احیاء الکتب العربیہ)

قبر پر بیٹھنے کی ممانعت کے متعلق مسند امام احمد بن حنبل میں ہے

عن عمارة بن حزم،قال: رآنی رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم جالسا على قبر فقال انزل من القبر لا تؤذی صاحب القبر

ترجمہ: حضرت عمارہ بن حزم رضی اللہ عنہ سےروایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک قبر پر بیٹھے دیکھا، تو ارشاد فرمایا: قبر سے اترجاؤ اور قبر والے کو اذیت نہ دو۔ (مسند امام احمد بن حنبل، مسند عمارۃ بن حزم، جلد 39، صفحہ 475، مطبوعہ بیروت)

قبر کو کھولنے کے حرام ہونے کے بارے میں بدائع الصنائع میں ہے

النبش حرام حقاً للہ تعالى

ترجمہ: قبر کھولنا اللہ تعالی کے حق کی وجہ سے حرام ہے۔ (بدائع الصنائع، باب صلاۃ الجنازۃ، فصل فی بیان ماتصح بہ، جلد 2، صفحہ 55، مطبوعہ کوئٹہ)

صحابہ کرام علیہم الرضوان کے مزارات دور دراز اور دار الحرب میں ہونے کے باوجود ان کی قبروں کو نہیں کھولا گیا، چنانچہ فتح القدير میں ہے:

و لا ينبش بعد إهالة التراب لمدة طويلة و لا قصيرة إلا لعذر.... و لذا لم يحول كثير من الصحابة و قد دفنوا بأرض الحرب إذ لا عذر

ترجمہ: قبر پر مٹی ڈالنے کے بعد خواہ ابھی تھوڑا وقت گزرا ہو یا طویل عرصہ گزر چکا ہو، بہر صورت بغیر شرعی عذر کے قبر کھولنے کی اجازت نہیں۔ اسی وجہ سے بہت سے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے مبارک جسموں کو منتقل نہیں کیا گیا، حالانکہ ان کو دار الحر ب میں دفن کیا گیا تھا، کیونکہ کوئی شرعی عذر نہیں تھا۔ (فتح القدیر، جلد 2، صفحہ 141، مطبوعہ دارا لفکر، بیروت)

قبر کھود کر اس میں دوسری میت دفن کرنے کے بارے میں فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:

و اذا صار المیت ترابا فی القبر یکرہ دفن غیرہ فی قبرہ؛ لان الحرمۃ باقیۃ

ترجمہ: اور اگر میت بالکل خاک ہوجائے، تب بھی اس کی قبرمیں کسی دوسرے کو دفن کرنا مکروہ ہے، کیونکہ (میت کی) حرمت اب بھی باقی ہے۔ (فتاوی تاتارخانیہ، کتاب الجنائز، باب القبرو الدفن، جلد 3، صفحہ 75، مطبوعہ کوئٹہ)

علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ گورکنوں کو نصیحت کرتے ہوئے حلبۃ المجلی کے حوالے سے نقل فرماتے ہیں:

و ما يفعله جهلة الحفارين من نبش القبور التي لم تبل أربابها، و إدخال أجانب عليهم فهو من المنكر الظاهر، و ليس من الضرورة المبيحة لجمع ميتين فأكثر ابتداء في قبر واحد قصد دفن الرجل مع قريبه أو ضيق المحل في تلك المقبرة مع وجود غيرها، و إن كانت مما يتبرك بالدفن فيها فضلا عن كون ذلك و نحوه مبيحا للنبش، و إدخال البعض على البعض قبل البلاء مع ما فيه من هتك حرمة الميت الاول و تفريق أجزائه، فالحذر من ذلك

ترجمہ: اور وہ جو جاہل گورکنوں کا کام ہے یعنی جن قبروں کے لوگ (مردے) فنا نہیں ہوئے اس کو کھودنا اور ان قبروں میں اجانب (دوسرے مردے) داخل کرنا، یہ صریح معصیت ہے۔ اور قریبی رشتہ دار کے ساتھ کسی کو دفن کرنے کا ارادہ، یا دوسرے قبرستان میں جگہ کے باوجود پرانے قبرستان میں ہی تنگی کے باوجود ایک ہی قبر میں دوسرے کی تدفین۔ اگرچہ کسی تبرک کی نیت کی وجہ سے ہو، تبرک تو دور کی بات یہ کام تو ہرگز جائز ہی نہیں ہے، لہٰذا یہ ایسی ضرورتیں نہیں ہیں جو دو دیا دو سے زائد میتوں کو ایک قبر میں ابتداءً جمع کرنے کو مباح قرار دینے والی ہوں۔ (جب ان وجوہ کی بنا پر ابتداءً ایک قبر میں ایک سے زائد مردے دفن کرنے کی اجازت نہیں) تو ان یا ان جیسی وجوہات کی بنا پر پرانی قبر کھودنا اور دوسرے کو پہلے کے خاک ہونے سے پہلے قبر میں داخل کرنا، کیسے حلال ہوسکتا ہے حالانکہ اس میں پہلے میّت کی حرمت کی پامالی، اور اس کے اعضاء کو متفرق کرنا ہے۔ تو خبردار اس حرکت سے بچو۔(رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الجنائز، فصل فی دفن المیت، جلد 3، صفحہ 163، مطبوعہ کوئٹہ)

شیخ الاسلام و المسلمین امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضاخان رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا جس گورستان کی بوجہ کمی زمین وکثرتِ دفنِ مُردگان سے یہ حالت ہوئی کہ نئی قبریں کھودنے پر کثرت سے مردوں کی ہڈیاں نکلتی ہوں اور بصورت موجود رہنے دوسرے گورستان متصل اس کے جو کہ ان سب شکایتوں سے پاک و صاف ہو اس کو چھوڑ کر خواہ مخواہ صرف بخیال مدفن ہونے آباء و اجداد اپنے ایسے گورستان میں دوسرے مردوں کی ہڈیاں اکھاڑ کر مردہ دفن کر شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ آپ جوابا ارشاد فرماتے ہیں: صورت مذکورہ محض ناجائز و حرام ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 9، صفحہ 386، رضافاؤنڈیشن، لاھور)

قبر کھولنے میں اللہ پاک کے راز کو کھولنا ہے، چنانچہ امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: نبش (قبر کھولنا) حرام، حرام، سخت حرام اور میت کی اشد توہین و ہتک سِرّ رب العٰلمین ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 9، صفحہ 405، رضافاؤنڈیشن، لاھور)

آپ رحمۃ اللہ علیہ مزید ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں: میت اگرچہ خاک ہوگیا ہو، بلاضرورتِ شدید اس کی قبر کھود کر دوسرے کا دفن کرنا، جائزنہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 9، صفحہ 390، رضافاؤنڈیشن، لاھور)

دوسرا قبرستان دور ہونا عذر نہیں، چنانچہ وقار الفتاویٰ میں ہے: لیکن جب دوسرا قبر ستان موجود ہے، اس میں جگہ بھی موجود ہو اگرچہ دور ہو تو وہیں دفن کیا جائے گا۔ (وقار الفتاوی، جلد 2، صفحہ 376، بزم وقار الدین کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Aqs-2898
تاریخ اجراء: 10 شعبان المعظم 1447ھ /29 جنوری 2026ء