بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کےبارے میں کہ انسانی بدن کا اکثر حصہ جل گیا ہو، لیکن پورا جسم باقی ہو، تو اس کے غسل و کفن اور نماز جنازہ کا کیا حکم ہوگا؟
جس میت کے جسم کا اکثر حصہ جل جائے، لیکن پوراجسم باقی ہو، تو اسے بھی عام میت کی طرح کفن دیاجائے گا اور اس پر نماز جنازہ بھی پڑھی جائے گی۔باقی رہا غسل دینے کا معاملہ! تو شہید معرکہ (یعنی جو شخص جنگ میں جل کر شہید ہوا ہو، اس) کے علاوہ اس طرح کی میت کو غسل بھی دیا جائے گا، البتہ اس میں کچھ تفصیل ہے، جو کہ درج ذیل ہے:
(۱)اگر مذکورہ میت كو عام طريقہ کار کے مطابق غسل دینا ممکن ہے کہ اس سے میت کے جسم کو کوئی نقصان نہیں ہوگا ، یعنی اس پر پانی بہانے اور اس کے جسم پر ہاتھ ملنے سے نہ کھال ادھڑے گی اور نہ ہی جسم ٹکڑے ٹکڑے ہوگا، تو ایسی صورت میں اسے عام میت کی طرح غسل دیا جائے گا۔
(۲)اوراگرعام میت کی طرح غسل دینا ممکن نہیں کہ اس کے جسم پر ہاتھ ملنے سے کھال ادھڑے گی، تو بغیر ہاتھ لگائے ویسے ہی جسم پر پانی بہادیا جائے اور اگر پانی بہانا بھی نقصان کرے گا کہ اس سے جسم ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا، تو ایسی صورت میں چونکہ مذکورہ میت کا اکثر حصہ اسی حالت میں ہے، لہذا اب غسل کی بجائے تیمم کروادینا کافی ہوگا۔
(۳)بالفرض صورت مذکورہ میں تیمم کروانا بھی ممکن نہ ہو کہ چہرہ اور دونوں ہاتھ بھی متاثرہ حصے میں شامل ہوں اور ان پر مسح ممکن نہ ہو، تو ایسی خاص صورت میں بھی میت کا بدن لازمی طور پر پٹیوں میں لپٹا ہوا ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں پٹیوں کے اوپر گیلے ہاتھوں سے مسح کردیں اور یہ مسح ہی نہلانے کے قائم مقام ہوجائے گا اور اگر بالفرض یہ بھی ممکن نہ ہو، تو اب ایسی میت سے غسل کا فریضہ ساقط ہوجائے گا اور غسل کے بغیر ہی اس کی نماز جنازہ پڑھ کر اسے دفن کردیا جائےگا۔
جلے ہوئے شخص کو غسل دینے کے متعلق ’’موسوعہ فقہیہ کویتیہ‘‘ میں ہے:
”ذهب الفقهاء إلى أن من احترق بالنار يغسل كغيره من الموتى إن أمكن تغسيله؛ لأن الذي لا يغسل إنما هو شهيد المعركة ولو كان محترقا بفعل من أفعالها. أما المحترق خارج المعركة فهو من شهداء الآخرة. ولا تجري عليه أحكام شهداء المعركة۔فإن خيف تقطعه بالغسل يصب عليه الماء صباولا يمس. فإن خيف تقطعه بصب الماء لم يغسل وييمم إن أمكن، كالحي الذي يؤذيه الماء“
ترجمہ: فقہاء کا اتفاق ہے کہ جو شخص آگ میں جل کر فوت ہوا ہو اور اسے غسل دینا ممکن ہو، تو اسے عام میت کی طرح غسل دیا جائے گا، کیونکہ صرف شہید معرکہ کو غسل نہیں دیا جاتا، چاہے وہ جنگ کے کسی عمل سے ہی جلا ہو، جبکہ معرکہ کے علاوہ جل کر فوت ہونے والا صرف اخروی شہید ہے اور اس پر شہید معرکہ کے احکام لاگو نہیں ہوتے۔ اور اگر غسل دینے سے جسم کے ٹکڑے ہونے کا خدشہ ہو، تو اس پر صرف پانی بہا دیا جائے اور ہاتھ نہ لگایا جائے، اور اگر پانی بہانے سے بھی جسم کے ٹکڑے ہونے کا اندیشہ ہو، تو پھر غسل ترک کر کے تیمم کروایا جائے جبکہ ممکن ہو، جیسا کہ زندہ شخص کے ساتھ کیا جاتا ہے، جسے پانی نقصان پہنچائے۔ (الموسوعۃ الفقھیۃالکویتیہ، ج 02، ص 118، 119، دار السلاسل، الكويت)
’’الفقہ علی المذاھب الاربعہ‘‘ میں ہے:
”ويقوم التيمم مقام غسل الميت عند فقد الماء أو تعذر الغسل، كأن مات حريقا، ويخشى أن يتقطع بدنه إذا غسل بذلك أو بصب الماء عليه بدون دلك، أما إن كان لا يتقطع بصب الماء فلا ييمم، بل يغسل بصب الماء بدون دلك“
ترجمہ: اگر پانی موجود نہ ہو یا غسل متعذر ہو، تو تیمم غسل میت کے قائم مقام ہو جائے گا، جیسے میت جل کر فوت ہوئی ہو اور اندیشہ ہو کہ اگر اسے غسل دیا گیا یا جسم کو ہاتھ لگائے بغیر بھی پانی بہایا گیا، تو جسم ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا۔ لیکن اگر صرف پانی ڈالنے سے جسم ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو گا، تو تیمم جائز نہیں، بلکہ اس کے جسم پر ہاتھ ملے بغیر پانی بہایا جائے گا۔ (الفقہ علی المذاھب الاربعہ، ج01، ص458، دار الكتب العلميہ، بيروت)
اب خاص کتبِ احناف سے جزئیات ملاحظہ ہوں:
اگر میت کو ہاتھ لگانے سے اس کے جسم کے ٹکڑے ہونے کا اندیشہ ہو تو ہاتھ لگائے بغیر اس پر پانی بہا دینا کافی ہے۔ فتاوی ہندیہ میں ہے:
”ولو كان الميت متفسخا يتعذر مسه كفى صب الماء عليه“
اگر میت پھٹ رہی ہو کہ اسے چھونا متعذر ہو، تو اس پر پانی بہادینا کافی ہے۔ (الفتاوی الھندیۃ، ج01، ص158، دار الفکر)
بہار شریعت میں ہے: ” میّت کا بدن اگر ایسا ہوگیا کہ ہاتھ لگانے سے کھال اُدھڑے گی، تو ہاتھ نہ لگائیں صرف پانی بہا دیں۔“ (بھار شریعت، ج 01، ص 816، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
اور اگر میت کو غسل دینا ہی ممکن نہ ہو، تو اسے تیمم کروانے کا حکم ہے۔مسبوط سرخسی میں ہے:
”لو كان ترك الغسل للتعذر لأمر أن ييمموا كما لو تعذر غسل الميت في زمان لعدم الماء“
ترجمہ: اگر غسل نہ دینا کسی عذر کے سبب ہو، تو تیمم کروایا جائے، جیسا کہ جس وقت میت کو غسل دینا پانی کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے متعذر ہو تو تیمم کروایا جاتا ہے۔ (المبسوط للسرخسی، ج02 ، ص 49، دار المعرفہ، بيروت)
’’شر ح مختصر الکرخی‘‘ میں ہے:
”لأن غسل الميت كغسل الجنب، فإذا قام التيمم مقام أحدهما، قام مقام الآخر“ ترجمہ: کیونکہ غسلِ میت غسلِ جنابت کی طرح ہے، توجب ایک میں تیمم غسل کے قائم مقام ہوجاتا ہے، تو دوسرے میں بھی ہوجائے گا۔ (شرح مختصر الکرخی، ج02، ص166، دار أسفار، الكويت)
’’تجريد للقدوری‘‘ میں ہے:
”يقوم التيمم مقامه كما يتعذر في المحترق ومن لا يجد الماء“
تیمم غسل کے قائم مقام ہوجاتا ہے، جیسا کہ جلی ہوئی لاش کا غسل متعذر ہونے اور پانی نہ پانے کی صورت میں ہوتا ہے۔ (ملتقطا ازتجرید للقدوری، ج 03، ص 1079، دار السلام، القاهرہ)
باقی یہ تفصیل کہ اگر میت کا اکثر حصہ جلا ہوا ہے اور اس پر پانی بہانا، ممکن نہ ہو، تو اسے تیمم کروانے کا حکم ہوگا اور اگر تیمم بھی متعذر ہو، تو ضرورتاً پٹی وغیرہ حائل پر مسح کافی ہوجائے گا۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ غسلِ میت کا اعتبار حالتِ زندگی میں کیے جانے والے غسل کے مطابق کیا جاتا ہے اور حالتِ زندگی میں ایسے شخص کو یہی حکم ہوتا ہے۔ غسل ِمیت کا اعتبار زندگی میں کیے جانے والے غسل کے مطابق ہوتا ہے۔
جوہرہ میں ہے: ”لأن الغسل بعد الموت كالغسل في حال الحياة“ ترجمہ: کیونکہ بعد موت غسل زندگی میں غسل کی طرح ہے۔ (الجوھرۃ النیرہ، ج 01، ص 103، المطبعة الخيريہ)
’’محیط برہانی‘‘ میں ہے: ”لأن الغسل بعد الوفاة معتبر بالغسل حالة الحياة“ ترجمہ "کیونکہ وفات کے بعد غسل کا اعتبار زندگی کے غسل سے کیا جاتا ہے۔ (المحیط البرھانی، ج02، ص156، دار الكتب العلميہ، بيروت)
’’نہایۃ فی شرح الہدایۃ‘‘ میں ہے:
”لأن هذا غسل مشروع بعد الوفاة، فيعتبر بالغسل المشروع حال الحياة“
کیونکہ یہ غسل وفات کے بعد مشروع ہے، لہذا اس میں زندگی کے غسل کا اعتبار کیا جائے گا۔ (النھایۃ، ج 01، ص123 ، رسائل ماجستير، مركز الدراسات الإسلامية بكلية الشريعة والدراسات الإسلامية بجامعة أم القرى)
اور حالت ِزندگی میں جسم کا اکثر حصہ جلا ہونے یا اس پر زخم ہونے کی صورت میں تیمم کا حکم ہوتا ہے۔ ’’اختلاف العلماء للطحاوی‘‘ ميں ہے:
”في المحروق والمجروح: قال أصحابنا إذا كان ذلك عاما في جسده تيمم وإن كان في الأقل غسل ما قدر عليه ويمسح عن الباقي إن أمكنه وإلا تركه“
ترجمہ: جلے ہوئے اور زخم والے شخص کے متعلق ہمارے اصحاب نے فرمایا کہ اگر اکثر جسم اسی حالت میں ہے تو تیمم کرے اور اگر اقل حصہ ہے، تو جتنا حصہ دھوسکتا ہے وہ دھوئے اور بقیہ پرمسح ممکن ہو، تو کرے ورنہ چھوڑدے۔ (اختلاف العلماء للطحاوی، ج01، ص152، دار البشائر الإسلامية، بيروت)
بہار شریعت میں ہے: ”بے وُضو کے اکثر اعضائے وُضو میں یا جنب کے اکثر بدن میں زخم ہو یا چیچک نکلی ہو تو تیمم کرے۔“ (بھار شریعت، ج01، ص346، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
فقیہ عصر مفتی نظام الدین رضوی صاحب کرونا وائرس سے متاثرہ لاش کہ جسے غسل اور تیمم دونوں ہی کروانا، ممکن نہیں، اس کے لیے ضرورتاً حائل پر مسح کے کافی ہونے کے متعلق رقمطراز ہیں: ”ہم میت کے غسل سے بھی عاجز ہیں (کہ میت کا بدن طاہر ہونا نماز جنازہ کے لیے شرط ہے اور اس طہارت کے لیے اسے غسل دینا فرض کفایہ ہے، مگر جو میت تین تہوں کی پلاسٹک میں اچھی طرح پیک کردی گئی ہو اور اس کا کھولنا ممنوع قرار دیا گیا ہو، اس میت کو غسل دینا ہمارے بس سے باہر ہے، اس لئے ہم اس فریضے کی ادائیگی سے عاجز ہیں) اور غسل کے بدل تیمم سے بھی عاجز ہیں(کہ کتاب و سنت میں غسل کا بدل تیمم کو بتایا گیا ہے، مگر یہاں ہم میت کے چہرے اور ہاتھوں کو مس نہیں کرسکتے، میت کے ان اعضاء پر بھی اپنے ہاتھ تیمم کی نیت سے نہیں پھیر سکتے کہ پلاسٹک کی بندش کھولے بغیر یہ ممکن نہیں اور وہ ہمارے مقدور سے باہر ہے۔ تیمم انسانی اعضاء چہرے اور دونوں ہاتھوں پر خاص طریقے سے مسح کا نام ہے۔ تیمم کسی پٹی پر نہیں ہوتا، پٹی پر مسح دراصل غسل کے قائم مقام ہوتا ہے۔ خود مسح کسی مسح کے قائم مقام نہیں ہوتا اور پلاسٹک کی بندش پورے بدن کی پٹی ہی کے حکم میں ہے، لہذا اس پر تیمم نہیں کرسکتے۔ جد الممتار میں ہے:
’’لان التیمم مسح فلا یکون بدلا عن مسح وانما ھو بدل عن غسل والراس ممسوح ولھذا لم یکن التیمم فی الراس اھ ‘‘(جد الممتار، ج 02، ص297 ، باب التیمم، مکتبۃ المدینہ)۔
شریعت میں طہارت کی یہ دو معروف و معہود صورتیں ہیں اور دونوں ہمارے بس سے باہر ہیں۔ اب میت کے غسل و طہارت کی آخری راہ یہ ہے کہ پلاسٹک کے اوپر سے ہی بھیگا ہوا ہاتھ پھیر دیا جائے، کیونکہ اعضائے غسل پر پانی بہانے سے عجز وبے بسی کی صورت میں یہ حکم ہے کہ پٹی باندھنا ممکن ہو، تو ان پر پٹی باندھ کر تر ہاتھ سے مسح کردیں، یہ مسح غسل اور پانی بہانے کے قائم مقام ہوجائے گا۔ کتب فقہ میں اس کے جزئیات مسح علی الخفین اور تیمم کے باب میں پائے جاتے ہیں۔ تطییب قلب کے لئے یہ بھی کرسکتے ہیں کہ ایک بار پورے بدن پر ہلکے ہاتھ سے پانی بہادیں اور اکثر حصے پر تر ہاتھ پھیر دیں۔ اصل فرض تو تر پاتھ پھیرنے سے اد اہوگا مگر پورے بدن پر پانی بہانے سے اہل میت کو تسلی ہوگی کہ ایک طرح غسل ہوگیا، کنویں کی تطہیر کے باب میں اس طرح کے جزئیات بھی ملتے ہیں۔
میت کے فوت ہونے کے بعد ڈاکٹر اسے پلاسٹک میں اچھی طرح پیک کردیتے ہیں، تو یہ اس کے لئے”پٹی کی مثل“ ہے، لہذا اس پر مسح سے بھی غسل کا فرض ادا ہوجائے گا۔ یہاں یہ سوچا جاسکتا ہے کہ پٹی اور مثل پٹی کے مسائل کا تعلق متفرق اعضائے بدن سے ہے، پورے بدن سے نہیں، تو بعض اعضاء کا حکم پورے بدن پر کیسے جاری کیا جاسکتا ہے؟تو عرض ہے کہ متفرق اعضائے بدن کی پٹی یا مثل پر مسح کی اجازت بوجہ ضرورت شرعی ہے، کیونکہ اصل حکم شرعی تو غسل ہے یعنی پانی بہا دینا اور پٹی پر مسح کی اجازت ضرورت شرعی کی بنا پر ہی ہوئی، تو جہاں جیسی ضرورت ہوگی وہاں اسی کے لحاظ سے رخصت و اجازت ہوگی۔
فقہا مطلقا فرماتے ہیں ضرورت شرعی ممنوعات کو مباح کردیتی ہے۔ ضرورت شرعی کا اعتبار بقدر ضرورت ہوتا ہے، یہاں پورے بدن پر پٹی بندھی ہے، تو ضرورت شرعی پورے بدن پر مسح چاہتی ہے، لہذا پلاسٹک کے اوپر سے مسح کرنا غسل کے قائم مقام ہوگا۔ ہاں پلاسٹک کے اکثر حصے پر مسح کافی ہوگا، استیعاب ضروری نہیں۔
اور اگر پلاسٹک کے اوپر بھی مسح کی اجازت نہ ملے تو غسل معاف ہے کہ بندہ پورے طور پر اپنا فرض ادا کرنے سے عاجز ہے۔ تو اب بندے کی وسعت میں بس اتنا ہی رہ گیا کہ نماز جنازہ پڑھ کر دفن کردے، طہارت سے عجز کی وجہ سے میت کوحکماً پاک مانا جائے گا اور نماز جنازہ صحیح ہوگی۔“ (ملتقطا ازماھنامہ اشرفیہ اپریل 2020، ص14-18)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0676
تاریخ اجراء: 07جمادی الثانی1447ھ/29نومبر 2025 ء