بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کسی کا یہ وصیت کرنا کہ مجھے میرے گھر میں دفن کیا جائے، تو اس وصیت کو پورا کرنے یا نہ کرنے کا کیا حکم ہے؟
یہ وصیت ہی باطل ہے، اس پر عمل نہیں کیا جائے گا، کیونکہ عام میت کی قبر گھر میں نہیں بلکہ عام مسلمانوں کے قبرستان میں ہی بنانے کا حکم ہے۔
الجوھرۃ النیرۃ میں ہے
”وإن أوصی بأن یحمل بعد موتہ إلی موضع کذا فھو باطل“
ترجمہ: اگر وصیت کی کہ اس کی موت کے بعد اسے فلاں مقام پر دفن کیا جائے تو یہ وصیت باطل ہے۔ (الجوھرۃ النیرۃ، کتاب الوصایا، جلد 2، صفحہ 642، مطبوعہ: لاہور)
امام اہل سنت سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ”وصیت در بارہ دفن واجب العمل نہیں۔“ (فتاوٰی رضویہ، جلد 9، صفحہ 405، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
بہارِ شریعت میں ہے ”جس جگہ انتقال ہوا اسی جگہ دفن نہ کریں کہ یہ انبیا علیہم الصلوٰۃ و السلام کے لیے خاص ہے بلکہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کریں، مقصد یہ کہ اس کے لیے کوئی خاص مدفن نہ بنایا جائے میّت بالغ ہو یا نابالغ۔“ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 842، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد سعید عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4645
تاریخ اجراء: 20 رجب المرجب1447ھ/ 10 جنوری 2026ء