logo logo
AI Search

قبر کی سلیں ٹوٹ جائیں تو میت نکال کر درست کرنا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قبر میں میت رکھنے کے بعد سلیں ٹوٹ جائیں تومیت نکال کر درست کر سکتے ہیں ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر قبر میں میت رکھنے کے بعد اس پرسلیں رکھ دی ہوں، لیکن ابھی مٹی نہیں ڈالی کہ سلیں گر گئیں، یعنی زمین کے جس حصے پر سلیں رکھی تھیں، وہ حصہ بیٹھ گیا، تو کیا سلیں ہٹا کر میت باہر نکال کر سلیں درست طریقے سے رکھی جا سکتی ہیں؟رہنمائی فرمادیں۔ سائل: حمزہ مدنی(اوکاڑہ)

جواب

بنیادی طور پر شرعی مسئلہ یہ ہے کہ جب  میت کو قبر میں رکھ دیا جائے اور اس پر مٹی ڈال دی جائے، تو بلا عذرِ شرعی اس کی قبر کو کھولنا شرعاً جائز نہیں ہے، خواہ قبر بیٹھ جائے یا اس کے اندر پانی چلا جائے، بلکہ ایسی صورت میں شرعی حکم یہ ہے کہ قبر کھولنے کی بجائے اسی طرح اس کے اوپر مٹی ڈال کر اسے صحیح کردیا جائے، لیکن اگر مٹی ڈالنے سے پہلے اس طرح کی صورت پیش آجائے کہ ابھی صرف سلیں رکھی تھیں اور مٹی نہیں ڈالی تھی کہ قبر بیٹھ گئی یا کوئی اور معاملہ پیش آگیا، تو اس صورت میں سلیں ہٹا کر  میت کو باہر نکال کر قبر کو درست کر سکتے ہیں، اس لیے کہ قبر کھولنے کی ممانعت تدفین کے بعد ہے اور یہاں ابھی تدفین مکمل نہیں ہوئی، کیونکہ فقہائے کرام رحمۃ اللہ علیہم نے تدفین کی تکمیل کا اعتبار مٹی دینے سے کیا ہے، نہ کہ صرف تختے یا سلیں رکھ دینے سے، لہذا سوال میں بیان کردہ صورت میں مٹی ڈالنے سے پہلے اگر سلیں گر گئی ہیں، تو ان کو نکال کر قبر درست کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

بیان کردہ شرعی حکم کے دلائل:

تدفین کے بعد بلاعذر شرعی میت کو قبر سے نکالنا جائز نہیں ہے، چنانچہ علامہ اَحمد طَحْطاوی حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1231 ھ / 1815ء) لکھتے ہیں:

”ولا يباح ‌نبشه ‌بعد ‌الدفن أصلا كذا في الفتح وغيره قوله: "إلا أن تكون الأرض مغصوبة"“

ترجمہ: اور دفن کے بعد قبر کھولنا جائز نہیں ہے، جیساکہ فتح القدیر اور اس کے علاوہ کتب میں ہے، مگر یہ کہ قبر والی جگہ غصب شدہ ہو(تو اس صورت میں مالک کی اجازت نہ ہونے کی صورت میں قبر کھولنے کی اجازت ہوگی)۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، صفحہ 615، دار الكتب العلمية بيروت)

 تدفین کے بعد میت نکالنے کی ممانعت سے مراد یہ ہے کہ جب اس پر مٹی ڈال دی گئی ہو، چنانچہ تنویر الابصار مع در مختار میں ہے:

”(ولا يخرج منه) بعد إهالة التراب“

ترجمہ: اور مٹی ڈالنے کے بعد میت کو قبر سے نکا لنا جائز نہیں۔ (تنویر الابصار مع در مختار، جلد 02، صفحہ 238، دار الفکر، بیروت )

اسی طرح کا ایک سوال صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے ہوا  کہ قبر میں میت کو رکھ کر تختے لگا کر مٹی ڈال دینے کے بعد قبر دھنس گئی ہے، اب کیا مٹی ہٹا کر میت کو باہر نکا سکتے ہیں؟

تو آپ رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نےجوابا ً ارشاد فرمایا : ”جب مٹی دے چکے، تو اب میت کو نکالنا جائز نہیں۔“ (فتاوی امجدیہ، جلد 01، صفحہ 327، مکتبہ رضویہ، کراچی)

مٹی ڈالنے سے پہلے ضرورت کے تحت میت کو قبر سے نکالا جاسکتا ہے، چنانچہ علامہ ابو المَعَالی بخاری حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 616 ھ /1219ء) لکھتےہیں:

”وإذا وضع الميت في اللحد لغير القبلة أو على يساره قد عرف ذلك، فإن كان ‌بعد ‌إهالة ‌التراب لا ينبش عنه قبره وإن كان قبل إهالة التراب وقد شرحوا اللبن نزع اللبن ويوضع كما ينبغي“

ترجمہ: اور اگر میت کو لحد میں قبلہ کے علاوہ یا بائیں جانب رکھ دیا ہو، تو پھر اس کا پتا چلے، تو اگر مٹی ڈال دینے کے بعد پتا چلا، تو اب قبر کو نہیں کھولا جائے گا اور اگر مٹی ڈالنے سے پہلے پتا چلا، اور اینٹیں برابر کر دی گئی ہیں، تو اینٹوں کو ہٹا کر میت کو درست طریقے سے رکھا جاسکتا ہے۔ (المحیط البرہانی، جلد02، صفحہ 196، دار الكتب العلمية، بيروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR-0251
تاریخ اجراء:15 شوال المکرم 1447 ھ/04 اپریل 2026 ء